باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت عمر سے فرمایا کہ اس خلافت کا زیادہ حقدار اس جماعت سے کوئی نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی حالانکہ حضور ان سے راضی تھے ۱؎تو حضرت علی، عثمان، زبیر، طلحہ،سعد اور عبدالرحمن کا نام لیا ۲؎(بخاری)

عَنْ عُمَرَ قَالَ: مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهٰذَاالْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ فَسَمّٰى عَلِيًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمٰنِ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6108 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے جناب طلحہ کا ہاتھ شل دیکھا ۲؎جس سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی احد کے دن حفاظت کی ۳؎(بخاری)

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقٰى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6109 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا کہ قوم کی خبر کون لائے گا ۱∞؎تو جناب زبیر نے عرض کیا میں ۲؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے مخلص دوست ہوتے ہیں اور میرے مخلص دوست زبیر ہیں۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّاً وحَوَاريَّ الزبيرُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6110 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بنی قریظہ کے پاس کون جائے گا جو ان کی خبر لائے ۱∞؎میں چل دیا پھر جب میں لوٹا تو میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ دونوں جمع فرما دئیے کہ فرمایا تم پر میرے ماں باپ فدا ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ؟ فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ: فِدَاكَ أَبِيْ وَأُمِّيْ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6111 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہ سنا کہ آپ نے کسی کے لئے اپنے ماں باپ جمع کئے ہوں سواء سعد ابن مالک کے ۱∞؎میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے سنا کہ اے سعد تیر مارو تم پر میرے ماں باپ فدا۔ (مسلم، بخاری)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَإِنِّي سَمِعْتُهٗ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: يَا سَعْدُ اِرْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6112 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ میں پہلا وہ عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمٰى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6113 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ آتے وقت ایک رات بے خواب رہے ۱∞؎پھر فرمایا کاش کوئی نیک شخص ہماری حفاظت کرتا ۲؎اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے عرض کیا میں سعد ہوں فرمایا کیا چیز تم کو یہاں لائی عرض کیا میرے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر خطرہ گزرا تو میں ان کی حفاظت کرنے آیا۳؎ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی پھر سوگئے ۴؎(بخاری،مسلم)

وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدِمَهُ المَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِي إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ فَقَالَ: مَنْ هٰذَا ؟ قَالَ: أَنَا سَعْدٌ قَالَ: مَا جَآءَ بِكَ؟ قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهٗ فَدَعَا لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6114 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ ہر امت کا کوئی امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6115 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کسی کو خلیفہ بناتے تو کسے بناتے فرمایا ابوبکر کو،پھر کہا گیا پھر ابو بکر صدیق کے بعد کسے بناتے فرمایا عمر کو،کہا گیا کہ عمر کے بعد پھر کسے بولیں ابو عبیدہ ابن جراح کو ۲؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ أَبِيْ مُلَيْكَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ: مَنْ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوِ اسْتَخْلَفَهُ؟ قَالَت: أَبُو بَكْرٍ. فَقِيْلَ: ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَتْ: عُمَرُ. قِيلَ: مَنْ بَعْدَ عُمَرَ؟ قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6116 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کوہ حراء پر تھے اور ابوبکر و عمر اور عثمان و علی طلحہ اور زبیر تھے کہ پتھرکی چٹان ہلی ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ ٹھہر جا نہیں ہیں تجھ پر مگر نبی یا صدیق یا شہید ۲؎بعض محدثین نے یہ زیادہ کیا کہ سعد ابن ابی وقاص بھی تھے اور حضرت علی کا ذکر نہیں کیا ۳؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلٰى حِرَاءٍ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ .وَزَادَ بَعْضُهُمْ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَلِيًّا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6117 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت عبد الرحمن ابن عوف سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر جنتی ہیں اور عمر جنتی ہیں اور عثمان جنتی ہیں اور علی جنتی ہیں ۲؎طلحہ جنتی ہیں اور زبیرجنتی ہیں اور حضرت عبد الرحمن ابن عوف جنتی ہیں اور سعد ابن ابی وقاص جنتی ہیں اور سعید ابن زید جنتی ہیں اور ابوعبیدہ ابن جراح جنتی ہیں ۳؎(ترمذی)

عَن عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي الْجَنَّةِ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ فِي الْجَنَّةِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6118 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

اور ابن ماجہ نے حضرت سعید ابن زید سے روایت کی ۱∞؎

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6119 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا کہ میری امت میں میری امت پر بہت رحیم و کریم ابوبکر ہیں اور الله کی راہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور ان سب میں سچے جہاد والے عثمان ہیں اور زیادہ علم فرائض دان زید ابن ثابت ۱∞؎سب میں بڑے قاری ابی ابن کعب ہیں ۲؎حرام و حلال کو بہت جاننے والے معاذ ابن جبل ہیں ۳؎ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اس امت کے امین ابو عبیدہ ابن جراح ہیں ۴؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے صحیح ہے اور معمر نے قتادہ سے مرسلًا روایت کی اس میں یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر فیصلہ فرمانے والے علی ہیں ۵؎

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللّٰهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِىَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَفِيهِ: وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6120 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں کہ احد کے دن نبی صلی الله علیہ و سلم پر دو زرہیں تھیں ۱∞؎آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے ۲؎مگر نہ چڑھ سکے تو حضرت طلحہ آپ کے نیچے بیٹھ گئے حتی کہ حضور چٹان پر چڑھ گئے ۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو میں نے فرماتے سنا کہ طلحہ نے جنت واجب کرلی ۴؎(ترمذی)

وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ فَنَهَضَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَعَدَ طَلْحَةُ تَحْتَهٗ حَتّٰى اسْتَوٰى عَلَى الصَّخْرَةِ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6121 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے طلحہ ابن عبیدالله کی طرف دیکھا فرمایا جو اس شخص کو دیکھنا چاہے جو روئے زمین پر چل رہاہے اور اس نے اپناعہدو پیمان پورا کردیا تو انہیں دیکھے ۱∞؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جو اس شہید کو دیکھنا چاہے جو روئے زمین پر چل رہا ہے وہ طلحہ ابن عبیدالله کو دیکھے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰى رَجُلٍ يَمْشِي عَلٰى وَجْهِ الْأَرْضِ وَقَدْ قَضٰى نَحْبَهٗ فَلْيَنْظُرْ إِلٰى هٰذَا .وَفِي رِوَايَةٍ: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يَنْظُرَ إِلٰى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلٰى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلٰى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6122 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ میرے کانوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ۱∞؎سنا کہ طلحہ اور زبیر میرے جنت کے پڑوسی ہیں ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6123 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس دن یعنی احد کے دن فرمایا کہ الٰہی اس کی تیر اندازی کو مضبوط کر اور اس کی دعا قبول فرما ۱∞؎(شرح سنہ)

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَئِذٍ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ: «اللّٰهُمَّ اشْدُدْ رَمْيَتَهٗ وَأَجِبْ دَعْوَتَهٗ» . رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6124 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے انہیں سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا الٰہی سعد جب بھی تجھ سے دعا کریں تو قبول فرمایا کر ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللّٰهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6125 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے سعد کے سواءکسی کے لیے اپنے باپ و ماں جمع نہیں فرمائے ۱∞؎کہ ان سے احد کے دن فرمایا تیر چلاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں ۲؎اور ان سے فرمایا اے بہادر لڑکے تیر چلا ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهٗ إِلَّالِسَعْدٍ قَالَ لَهٗ يَوْمَ أُحُدٍ: «ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» وَقَالَ لَهٗ: "اِرْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6126 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ جناب سعد حاضر ہوئے تو نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ ہیں میرے ماموں کوئی شخص مجھے اپنا ایسا ماموں دکھائے ۱∞؎(ترمذی)اور کہا کہ سعد بنی زہرہ سے تھے اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی والدہ بنی زہرہ سے تھیں ۲؎اسی لیے نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہیں اور مصابیح میں بجائےفلیرنیکےفلیکرمنہے ۳؎

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَاخَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهٗ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: كَانَ سَعْدٌ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ فَلِذٰلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هٰذَاخَالِي»وَفِي «الْمَصَابِيحِ» :"فَلْيُكْرِمَنَّ" بَدَلَ "فَلْيُرِنِي"

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6127 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم