باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت قیس ابن ابی حازم سے فرماتے ہیں کہ میں نے سعد ابن ابی وقاص کو فرماتے سنا کہ میں پہلا عربی مرد ہوں جس نے الله کی راہ میں تیر چلایا ۱∞؎اور میں نے اپنے کو دیکھا کہ ہم رسو ل الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے پاس کیکر کے بیج ۲؎اور کیکر کے پتوں کے اور کوئی کھانا نہ تھا اور ہم میں سے ہر ایک ایسا پاخانہ کرتا تھا جیسا کہ بکری کرتی ہے جس میں کوئی تری نہیں ہوتی ۳؎پھر بنو اسد مجھے اسلام سکھانا چاہتے ہیں ۴؎تب تو میں خسارہ والا ہوجاؤں گا اور میرے عمل برباد ہوجائیں گے ۵؎لوگوں نے حضرت عمر کے پاس ان کی شکایت کی تھی کہا تھا کہ یہ اچھی طرح نماز نہیں پڑھتے ۶؎(مسلم،بخاری)

عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمٰى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَرَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْحُبْلَةُ وَوَرَقُ السَّمُرِوَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ، مَا لَهٗخِلْطٌ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلَامِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَكَانُوا وَشَوْا بِهٖ إِلٰى عُمَرَ وَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6128 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کو اسلام کا تہائی دیکھا ۱∞؎اور کوئی آدمی نہیں لایا مگر اس دن جب میں اسلام لایا اور میں سات روز تک اس طرح رہا کہ میں اسلام کا تہائی حصہ تھا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُنِي وَأَنَا ثَالِثُ الْإِسْلَامِ وَمَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلَامِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6129 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم اپنی بیویوں سے فرماتے تھے کہ میرے بعد تمہارے حالات کی مجھے بڑی فکر ہے ۱∞؎تم پر صبر نہ کریں گے مگر صبر اور صدق والے ۲؎جناب عائشہ سے فرمایا یعنی صدقہ والے پھر حضرت عائشہ نے جناب ابو سلمہ ابن عبدالرحمن سے فرمایا ۳؎کہ الله تمہارے والد کو جنت کے سلسبیل سے پلائے اور ابن عوف نے امہات المؤمنین پر ایک باغ صدقہ کیا تھا۴؎جو چالیس ہزار میں فروخت ہوا ۵؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لِنِسَائِهٖ: «إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يَهُمُّنِي مِنْ بَعْدِي وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ الصِّدِّيقُونَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: يَعْنِي الْمُتَصَدِّقِينَ ثُمَّ قَالَتْ عَائِشَةُ لِأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ سَقَى اللّٰهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ وَكَانَ ابنُ عوفٍ قَدْ تَصَدَّقَ عَلٰى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ بِحَدِيقَةٍ بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6130 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو اپنی بیویوں سے فرماتے سنا کہ جو شخص تم سب پر میرے بعد تم پر نچھاور کرے وہ سچا اور نیک ہوگا ۱∞؎الٰہی عبدالرحمن ابن عوف کو جنت کے سلسبیل سے پلا ۲؎(احمد)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَزْوَاجِهِ: «إِنَّ الَّذِي يَحْثُو عَلَيْكُنَّ بَعْدِي هُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ اللّٰهُمَّ اسْقِ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6131 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نجران والے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱∞؎عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم ہمارے پاس ایک امین آدمی بھیجیں ۲؎تو فرمایا کہ میں تمہارے پاس ایسا امین بھیجوں گا جیسا چاہیے ویسا امین ہے۳؎لوگوں نے اس کا انتظار کیا فرمایا کہ حضور نے ابو عبیدہ ابن جراح کو بھیجا۔(مسلم،بخاری)

وَعَن حُذَيْفَة قَالَ: جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا. فَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ» فَاسْتَشْرَفَ لَهَا الناسُ قَالَ: فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ. مُتَّفَقٌ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6132 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے حضرت علی سے کہ عرض کیا گیا یارسول الله صلی الله علیہ و سلم آپ کے بعد ہم کسے امیر بنائیں ۱∞؎فرمایا اگر تم ابوبکر کو امیر بناؤ تو تم انہیں امین دنیا سے بے رغبت آخرت میں رغبت والا پاؤ گے ۲؎اور اگر تم عمر کو امیر بناؤ تو تم انہیں قوت والا امانت والا پاؤ گے کہ وہ الله کے بارے میں کسی ملامتی کی ملامت سے نہیں ڈرتے ۳؎اور اگر تم علی کو امیر بناؤ میں نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کرو گے ۴؎تو تم انہیں ہدایت یافتہ پاؤ گے جو تمہیں سیدھے راستہ پر چلائیں گے ۵؎(احمد)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ: مَنْ نُؤَمِّرُ بَعْدَكَ؟ قَالَ: «إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا يَخَافُ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا - وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6133 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے الله ابوبکر پر رحمت کرے انہوں نے اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کردیا ۱∞؎اور مجھے ہجرت گاہ تک پہنچایا ۲؎اور غار میں میرے ساتھ رہے۳؎اور بلال کو اپنے مال سے آزاد کیا ۴؎الله عمر پر رحمت کرے کہ وہ حق بات کہتے ہیں اگرچہ کڑوی ہو انہیں حق نے ایسا کردیا کہ ان کا کوئی دوست نہیں ۵؎الله عثمان پر رحمت کرے کہ ان سے فرشتے غیرت کرتے ہیں، الله علی پر رحمت کرے،الٰہی علی کے ساتھ حق کو گردش دے جدھر وہ گردش کریں ۶؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللّٰهُ أَبَا بَكْرٍ زَوَّجَنِي ابْنَتَهٗ وَحَمَلَنِي إِلٰى دَارِ الْهِجْرَةِ وَصَحِبَنِي فِي الْغَارِ وَأَعْتَقَ بِلَالًا مِنْ مَالِهِ. رَحِمَ اللّٰهُ عُمَرَ يَقُولُ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا تَرَكَهُ الحَقُّ وَمَا لَهٗ مِنْ صَدِيقٍ. رَحِمَ اللّٰهُ عُثْمَانَ تَسْتَحْيِيهِ الْمَلَائِكَةُ رَحِمَ اللّٰهُ عَلِيًّا اللّٰهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَهٗ حَيْثُ دَارَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6134 ، باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم