- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ۱∞؎وہ نعمتیں تیار کی جو نہ آنکھ نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خطرہ گزرا ۲؎اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کہ کوئی نفس نہیں جانتا کہ انکے لیے کیسی آنکھ کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۳؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ. واقْرَؤُوْا إِنْ شِئْتُمْ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ} [السجدة: 17]. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5612 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک کوزے کی جگہ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے ۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5613 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله کی راہ میں صبح یا شام چلنا ۱∞؎دنیا سے اور دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر ہے ۲؎اور اگر جنت والی عورتوں میں سے کوئی عو رت۳؎زمین کی طرف جھانکے تو ان دونوں کے درمیان کو چمکادے۴؎اور ان کے درمیان کو خوشبو سے بھردے ۵؎اور اس کے سر کی مانگ دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے ۶؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "غَدْوَةٌ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ. خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الأَرْضِ لأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَمَلأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5614 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا ۱∞؎اور وہ طے نہ کرسکے گا اور تم میں سے ایک کے کمان کی جگہ جنت میں اس سے بہتر ہے جس پر سورج طلوع یا غروب ہوگا۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِئَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5615 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ مؤمن کا جنت میں ایک کھکلی موتی کا خیمہ ہوگا جس کی چوڑائی اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی لمبائی ساٹھ میل کی ہے ۱∞؎اس کے ہر گوشہ میں اس کے گھر والے ہوں گے کہ دوسروں کو نہ دیکھ سکیں گے۲؎جن پر مؤمن گشت کرے گا۳؎اور اس کے دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان چاندی کے ہوں گے۴؎اور دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور سامان سونے کے ہوں گے۵؎وہاں کی ہر چیز اور قوم اور رب تعالٰی کو دیکھنے کے درمیان صرف کبریائی کی چادر ہوگی ۶؎رب کی ذات پر جنت عدن میں ۷؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ، عَرْضُهَا -وَفِي رِوَايَةٍ: طُولُهَا- سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الآخَرِينَ، يَطُوفُ عَلَيْهِم الْمُؤْمِنُونَ، وَجَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جنَّةِ عَدْنٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5616 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت عبادہ ابن صامت سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں سو منزلیں ہیں ہر دو منزلوں کے درمیان فاصلہ ایسا ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان اور فردوس اعلی درجہ ہے جس سے جنت کی چاروں نہریں پھوٹتی ہیں ۲؎اور اس کے اوپر عرش ہوتا ہے۳؎تو تم جب بھی الله سے مانگو تو اس سے فردوس مانگو۴؎(ترمذی)اور یہ حدیث میں نے نہ مسلم، بخاری میں پائی نہ کتاب حمیدی میں۵؎
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "فِي الْجَنَّةِ مِئَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَاهَا دَرَجَةً، مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الأَرْبَعَةُ، وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُونُ الْعَرْشُ، فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي "الصَّحِيحَيْنِ" وَلَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5617 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں ایک بازار ہے جہاں جنتی ہر جمعہ کو آئیں گے ۱∞؎تو شمالی ہوا چلے گی ان کے چہروں ان کے کپڑوں میں بھرجاوے گی جس سے ان کا حسن و جمال اور بڑھ جاوے گا۲؎پھر یہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں گے جو حسن و جمال میں بڑھ چکے ہوں گے ۳؎ان سے ان کے گھر والے کہیں گے الله کی قسم تم تو ہمارے پیچھے حسن و جمال میں بہت بڑھ گئے تو یہ کہیں گے رب کی قسم تم لوگ بھی ہمارے پیچھے حسن و جمال میں بہت بڑھ گئے ۴؎(مسلم)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ، فَيَزْدَادُوْنَ حُسْنًا وَجَمَالًا،فَيَرْجِعُوْنَ إِلى أَهْلِيْهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسُنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُونَ: وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ حُسْنًا وَجَمَالًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5618 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایارسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ پہلا گروہ جو جنت میں جاوے گا ۱∞؎وہ چودھویں رات کے چاند کی شکل پر ہوگا۲؎پھر جو ان سے متصل ہوں گے آسمان کے تیز چمک دار تارے کی روشنی میں ہوں گے۳؎ان سب کے دل ایک آدمی کے دل کے موافق ہوں گے کہ نہ ان میں مخالفت نہ بغض۴؎ان میں سے ہرشخص کی دو بیویاں ہوں گی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے۵؎جن کی پنڈلیوں کی مینگ حسن کی وجہ سے ہڈی و گوشت کے اوپر سے دیکھی جاوے گی ۶؎صبح شام الله کی تسبیح پڑھیں گے۷؎نہ کبھی بیمار ہوں گے نہ پیشاب پاخانہ کریں گے اور نہ تھوکیں گے نہ ناک صاف کریں گے ۸؎ان کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن لوبان اور ان کا پسینہ مشک ہوگا ۹؎ایک آدمی کے عادت پر ۱۰؎اپنے باپ حضرت آدم کے شکل پر ساٹھ گز بلند ۱۱∞؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.كَأَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيِّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ، لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْم مِنَ الْحُسْنِ، يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُكْرَةً وَعَشِيًّا، لَا يَسْقَمُونُ، وَلَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، آنِيَتُهُمُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ، وَأَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَوَقُودُ مَجَامِرِهِمُ الأَلُوَّةُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5619 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں کھائیں گے پئیں گے ۱∞؎اور نہ تو تھوکیں گے نہ پیشاب پاخانہ کریں گے اور نہ ناک جھاڑیں گے ۲؎صحابہ نے عرض کیا تو ان کے کھانے کا کیا حال ہوگا۳؎فرمایا ڈکار اور مشک کی طرح پسینہ۴؎تسبیح و حمد الٰہی ان کے دل میں ڈالی جاوے گی جیسے تم سانس لیے جاتے ہو۵؎(مسلم)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمتَخِطُونَ". قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ: "جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ، يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5620 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جو جنت میں جائے گا خوش رہے گا کبھی غمگین نہ ہوگا ۱∞؎نہ اس کے کپڑے گلیں نہ اس کی جوانی ختم ہو۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ، وَلَا يَبْأَسُ، وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يفْنى شَبَابُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5621 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ پکارنے والا پکارے گا ۱∞؎کہ تمہارے لیے یہ ہے کہ تندرست رہوگے کبھی بیمار نہ ہو گے اور تمہارے لیے یہ ہے کہ زندہ رہوگے کبھی نہ مروگے اور تمہارے لیے یہ ہے کہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوؤگے اور تمہارے لیے یہ کہ خوش رہوگے کبھی غمگین نہ ہوؤگے۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5622 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ پکارنے والا پکارے گا ۱∞؎کہ تمہارے لیے یہ ہے کہ تندرست رہوگے کبھی بیمار نہ ہو گے اور تمہارے لیے یہ ہے کہ زندہ رہوگے کبھی نہ مروگے اور تمہارے لیے یہ ہے کہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہوؤگے اور تمہارے لیے یہ کہ خوش رہوگے کبھی غمگین نہ ہوؤگے۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُنَادِي مُنَادٍ: إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5623 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنتی لوگ اپنے اوپر بالاخانہ والوں کو اس طرح ایک دوسرے کو دکھائیں گے جیسے تم چمکدار تارے کو جو شرقی غربی کنارے میں ہو ایک دوسرے کو دکھاتے ہو ۱∞؎ان کے درمیان فضیلت کی وجہ سے۲؎صحابہ نے عرض کیا یارسول الله یہ تو انبیاءکرام کی منزلیں ہوں گی جن تک ان کے سواء کوئی نہ پہنچ سکے گا ۳؎فرمایا ہاں کیوں نہیں اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے وہ لوگ وہاں پہنچیں گے جو الله پر ایمان لائے رسولوں کی تصدیق کی۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَو الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تِلْكَ مَنَازِلُ الأَنْبِيَاءِ، لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ. قَالَ: "بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5624 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جنت میں ایسی قومیں جائیں گی جن کے دل چڑیوں کے دل کی طرح ہیں ۱∞؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5625 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ الله تعالٰی جنت والوں سے فرمائے گا اے جنتیو! وہ عرض کریں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب بندے ہیں تیرے اور ساری خیر تیرے ہاتھ ہے ۱∞؎وہ فرمائے گا کیا تم خوش ہوگئے ۲؎عرض کریں گے ہم کیوں خوش نہ ہوں یا رب تو نے ہم کو وہ دیا جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہ دیا ۳؎تو فرمائے گا کیا میں تم کو اس سے بھی اعلٰی افضل نعمت نہ دوں وہ عرض کریں گے یارب اس سے افضل کوئی چیز ہے ۴؎تو فرمائے گا تم پر اپنی رضا نازل کروں گا تو اس کے بعد تم پر کبھی ناراض نہ ہوں ۵؎(مسلم، بخاری)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ! وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ؟ فَيَقُولُ: أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ! وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي، فَلَا أَسْخَطُ عَلَيكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5626 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم میں سے ادنی ٹھکانے والے جنتی سے رب فرمائے گا آرزو کر وہ آرزو کرے گا اور آرزو کرے گا تو اس سے فرمائے گا کیا تو نے آرزو کرلی وہ کہے گا ہاں تو اس سے فرمائے گا کہ جو تو نے آرزوئیں کیں وہ اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور تیرے لیے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَدْنَى مَقْعَدِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتمَنَّى وَيَتَمَنَّى، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَمَنَّيْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقُولُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5627 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ سیحان و جیحان ۱∞؎فرات و نیل یہ سب جنت کی نہروں میں سے ہیں۲؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّة". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5628 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت عتبہ ابن غزوان سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم سے ذکر کیا گیا۲؎کہ دوزخ کے کنارے سے پتھر ڈالا جاوے گا تو اس میں ستر سال گرے گا اس کی تہہ نہ پاے گا ۳؎رب کی قسم وہ بھری جاوے گی اور ہم سے ذکر کیا گیا کہ جنت کی چوکھٹوں میں سے دو چوکھٹوں کے درمیان چالیس سالوں کا فاصلہ ہے اور اس پر ایک ایسا دن آوے گا جب وہ بھیڑ کی وجہ سے ٹھسا ہوگا۴؎(مسلم)
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزحام ". رَوَاهُ مُسلم
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5629 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله مخلوق کس چیز سے پیدا کی گئی فرمایا پانی سے ۱∞؎ہم نے عرض کیا جنت کا میڑیل کیا ہے۲؎فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اور اس کا گارا خالص مشک کا ہے اور اس کی بجری موتی اور یاقوت ہے اس کی مٹی زعفران ہے۳؎جو وہاں داخل ہوگا خوش رہے گا غمگین نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا کبھی نہ مرے گا،ان کے کپڑے گلیں گے نہیں اس کی جوانی فنا نہ ہوگی ۴؎(احمد،ترمذی،دارمی)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ قَالَ: "مِنَ الْمَاءِ" قُلْنَا: الْجَنَّةُ مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: "لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ، وَتُرْبَتُهَا الزَّعْفَرَانُ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ، وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ، وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهُمْ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5630 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں کوئی درخت نہیں مگر اس کا تنا سونے کا ہے ۱∞؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ إِلَّا وَسَاقُهَا مِنْ ذَهَبٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5631 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان