- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ جنت کا ایک شخص جنت میں ستر مسندوں پر تکیہ لگائے ہوگا ۱∞؎اس کے کروٹ لینے سے پہلے ۲؎پھر اس کے پاس ایک عورت آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے گی۳؎یہ شخص اس کے رخسار میں اپنا منہ دیکھے گا آئینہ سے زیادہ صاف ہوگا۴؎اس پر ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکادے گا وہ اسے سلام کرے گی یہ اس کاجواب دے گا اور اس سے پوچھے گا تو کون ہے وہ کہے گی میں زائد نعمتوں سے ہوں ۵؎اس پر ستر جوڑے ہوں گے جنہیں اس کی نظر آر پار کرجاوے گی حتی کہ اس کی پنڈلی کی مینگ ان کے اوپر سے دیکھے گا ۶؎اس عورت پر ایسے تاج ہوں گے کہ ان کا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دے گا ۷؎(احمد)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَنَّةِ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ مَسْنَدًا قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ، ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَةٌ فَتَضْرِبُ عَلَى مَنْكِبِهِ ، فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْأَةِ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَيَرُدُّ السَّلَامَ وَيَسْأَلُهَا: مَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أنا مِنَ الْمَزِيدِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا، فَيَنْفُذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءَ ذَلِكَ، وإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ، إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5652 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم باتیں کررہے تھے اور آپ کے پاس دیہات والوں میں سے ایک شخص تھا کہ جنتیوں میں سے ایک آدمی اپنے رب سے کھیتی باڑی کی اجازت مانگے گا ۱∞؎رب اس سے فرمائے گا کہ کیا تو اپنی چاہی نعمتوں میں نہیں ہے ۲؎عرض کرے گا ہاں لیکن میں کھیتی کرنا چاہتا ہوں چنانچہ وہ بیچ بوئے گا۳؎تو پلک جھپکنے سے پہلے اس کا اگنا پورا ہوگا کٹ جانا ہوجاوے گا اور پہاڑوں کی طرح ہوجاوے گا۴؎تب الله تعالٰی فرمائے گا اے ابن آدم کوئی چیز تیرا پیٹ نہیں بھرتی۵؎تو وہ بدوی بولا رب کی قسم ایسا آدمی آپ قریشی یا انصاری ہی کو پائیں گے کہ وہ لوگ کھیتی باڑی والے ہیں۶؎رہے ہم،ہم تو کھیتی والے ہیں ہی نہیں رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہنس پڑے ۷؎(بخاری)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- كَانَ يَتَحَدَّثُ -وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ-: "إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ. فَقَالَ لَهُ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنْ أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ، فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ، فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: دُونَكَ يَا ابْنُ آدَمَ! فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ". فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أو أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ، فَضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5653 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا جنتی سویا کریں گے فرمایا نیند موت کی جنس ہے اور جنتی مریں گے نہیں ۱∞؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيَنَامُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "النَّوْمُ أَخُو الْمَوْتِ، وَلَا يَمُوتُ أَهْلُ الْجَنَّةِ" رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5654 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان