باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں ایک سو درجے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت ہے ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حسن غریب ہے۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِئَةَ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِئَةُ عَامٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5632 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت میں سو درجے ہیں اگر تمام جہانوں کے لوگ ان میں سے ایک درجے میں جمع ہوں تو وہ ان سب کو کافی ہو ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِئَةَ دَرَجَةٍ، لَوْ أَنَّ الْعَالَمِينَ اجْتَمَعُوا فِي إِحْدَاهُنَّ لَوَسِعَتْهُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5633 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے انہیں سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی الله تعالٰی کے فرمان کے بارے میںوفرش مرفوعۃفرمایا ان بستروں کی بلندی ایسی ہے جیسے آسمان و زمین کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ} [الواقعة: 34] ، قَالَ: "ارْتفَاعُهَا لَكَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِئَةِ سَنَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5634 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ پہلا گروہ جو قیامت کے دن جنت میں جائے گا ان کے چہروں کی چمک چودھویں رات کے چاند کی چمک کی طرح ہوگی اور دوسرا گروہ آسمان میں بہترین چمک دار تارے کی طرح ۱∞؎ان میں ہرشخص کی دو بیویاں ہوں گی ہر بیوی پر ستر جوڑے ہوں گے،ان کی پنڈلی کی مینگ ان سب کے اوپر سے دیکھی جاوے گی۲؎(ترمذی)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ضَوْءُ وُجُوهِهِمْ عَلَى مِثْلِ ضَوْءِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى مِثْلِ أَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا من وَرَائِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5635 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا جنت میں مؤمن کو جماع کی اتنی اتنی طاقت دی جاوے گی ۱∞؎عرض کیا گیا یارسول الله کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا ۲؎فرمایا سو آدمیوں کی طاقت دی جاوے گی۳؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يُعْطَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ قُوَّةَ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْجمَاعِ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَوَيُطِيقُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "يُعْطَى قُوَّةَ مِئَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5636 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا جنت کی وہ نعمتیں جو جنتی کا ناخن اٹھائے گا ۱∞؎ظاہر ہوجاوے تو اس سے آسمانوں اور زمین کناروں کے درمیان کی جڑیں سج جاویں گی ۲؎اور اگر کوئی جنتی آدمی جھانک لے تو اس کے کنگن ظاہر ہوجاویں تو ان کی روشنی سورج کی روشنی کو مٹا دے۳؎جیسے سورج تاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہے۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ: "لَوْ أَنَّ مَا يُقِلُّ ظُفْرٌ مِمَّا فِي الْجَنَّةِ بَدَا لَتَزَخْرَفَتْ لَهُ مَا بَيْنَ خَوَافِقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَ فَبَدَا أَسَاوِرُهُ لَطَمَسَ ضَوْؤُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ كَمَا تَطْمِسُ الشَّمْسُ ضَوْءَ النُّجُومِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5637 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنتی لوگ بغیر بال والے صاف بدن ۱∞؎بے داڑھی والے،سرمہ کی آنکھ والے ہوں گے۲؎نہ ان کی جوانی ختم ہو،نہ ان کے کپڑے گلیں۳؎(ترمذی،دارمی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَهْلُ الْجَنَّةِ جُرْدٌ مُرْدٌ كَحْلَى لَا يَفْنَى شَبَابُهُمْ، وَلَا يَبْلَى ثِيَابُهمْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5638 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جنتی جنت میں جائیں گے بغیر رونگٹے والے صاف بدن بے داڑھی سرمہ گیں آنکھ،تیس سالہ یا تینتیس سالہ ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا مُرْدًا مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثِينَ -أَوْ ثَلاثٍ وَثَلَاثِينَ- سَنَةً". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5639 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا حضور کی خدمت میں سدرۃ المنتہی کا ذکر ہوا ۱∞؎فرمایا کہ اس کی شاخوں کے سایہ میں سوار سو برس چلے گا یا اس کے سایہ میں سو سوار سایہ لیں گے، راوی کو شک ہے۲؎اس میں سونے کے پتنگے ہیں اس کے پھل گویا مٹکے ہیں ۳؎(چاٹیاں)ترمذی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَسمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَذُكِرَ لَهُ سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى قَالَ: "يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّ الْفَنَنِ مِنْهَا مِئَةَ سَنَةٍ، أَوْ يَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا مِئَةُ رَاكِبٍ -شَكَّ الرَّاوِي- فِيهَا فَرَاشُ الذَّهَبِ كَأَنَّ ثَمَرَهَا الْقِلَالُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5640 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کوثر کیا ہے فرمایا یہ ایک نہر ہے جو الله نے مجھے عطا فرمائی ہے یعنی جنت میں دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھی،اس میں پرندے جن کی گردنیں اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہیں۲؎عمران بولے یہ تو خوب ہی ہے۳؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا وہاں کے کھانے ان سے بھی زیادہ خوب ہیں۴؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَا الْكَوْثَرُ؟ قَالَ: "ذَاكَ نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ -يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ- أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، فِيهِ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ قَالَ عُمَرُ: إِنَّ هَذِهِ لَنَاعِمَةٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5641 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت بریدہ سے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول الله کہ جنت میں گھوڑے ہوں گے ۱∞؎فرمایا کہ اگر تجھے الله جنت میں داخل فرما دے تو تو وہاں نہ چاہے گا کہ سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جاوے جو تجھے جنت میں وہاں اڑا کر پہنچادے جہاں تو چاہے مگر ایسا کیا جاوے گا۲؎اور حضور سے ایک شخص نے پوچھا عرض کیا یارسول الله کیا جنت میں اونٹ ہوں گے،راوی کہتے ہیں کہ اس سے وہ نہ فرمایا جو اس کے ساتھی سے فرمایا تھا۳؎بلکہ فرمایا الله اگر تجھے جنت میں داخل فرمادے تو وہاں تیرے لیے ہر وہ چیز ہوگی جو تیرا دل چاہے اور تیری آنکھیں پسندکریں۴؎(ترمذی)

وَعَن بُريدةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ فِي الْجَنَّةِ مِنْ خَيْلٍ؟ قَالَ: "إِنِ اللَّهُ أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ فَلَا تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فِيهَا عَلَى فَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ يَطِيرُ بِكَ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ إِلَّا فَعَلْتَ"، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَل فِي الْجَنَّةِ مِنْ إِبلٍ؟ قَالَ: فَلَمْ يَقُلْ لَهُ مَا قَالَ لِصَاحِبِهِ. فَقَالَ: "إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ يَكُنْ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5642 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوا عرض کیا یارسول للہ صلی الله علیہ و سلم میں گھوڑے پسند کرتا ہوں تو کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے ۱∞؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو جنت میں داخل کیا گیا تو تیرے پاس ایک یاقوت کاگھوڑا لایا جاوے گا جس کے دو پر ہوں گے۲؎تو اس پر سوار کیا جاوے گا پھر وہ تجھے وہاں اڑا کر لے جاوے گا جہاں تو چاہے۳؎(ترمذی)اور فرمایا اس حدیث کی سند قوی نہیں اور ابو سورہ راوی حدیث میں ضعیف مانا جاتا ہے،میں نے محمدبن اسماعیل کو فرماتے سنا کہ یہ ابو سورہ منکر الحدیث ہے منکر احادیث روایت کرتا ہے۴؎

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ الْخَيْلَ أَفِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنْ أُدْخِلْتَ الْجَنَّةَ أُتِيتَ بِفَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ لَهُ جَنَاحَانِ، فَحُمِلْتَ عَلَيْهِ، ثُمَّ طَارَ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إسنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، وَأَبو سَوْرَةَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: أَبُو سَوْرَةَ هَذَا مُنكَرُ الحَدِيثِ، يَرْوِي مَنَاكِيرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5643 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے جنت والے ایک سو بیس صفیں ہیں ۱∞؎جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہیں اور چالیس صفیں باقی ساری امتوں کی ۲؎(ترمذی،دارمی،بیہقی کتاب البعث والنشور)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِئَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْهَا مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ، وَأَرْبَعُونَ مِنْ سَائِرِ الأُمَمِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "كِتَابِ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5644 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت سالم سے وہ اپنے والد سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے میری امت کا وہ دروازہ جس سے وہ جنت میں داخل ہوں گے اس کی چوڑائی تیز سوار کی رفتار سے تین سال کا ہے۲؎پھر وہ اس پر تنگ ہوں گے حتی کہ قریب ہوگا کہ ان کے کندھے مل جاویں۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے۴؎اور میں نے محمد ابن اسمعیل سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسے نہ پہچانا،فرمایا یخلد ابن ابی بکر منکر حدیثیں روایت کرتا ہے۵؎

وَعَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "بَابُ أُمَّتِي الَّذِينَ (1) يَدْخُلُونَ مِنْهُ الْجَنَّةَ عَرْضُهُ مَسِيرَةُ الرَّاكِبِ الْمُجَوِّدِ ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّهُمْ لَيُضْغَطُونَ عَلَيْهِ حَتَّى تَكَادُ مَنَاكِبُهُمْ تَزُولُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَقَالَ: يَخْلُدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ يَرْوِي الْمَنَاكِيرَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5645 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں ایک بازار ہے جس میں خرید و فروخت نہیں ہیں مگر یہ مردوں عورتوں کی صورتیں ہیں تو جب کوئی شخص کوئی صورت پسند کرے گا تو اس میں داخل ہوجاوے گا ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا مَا فِيهَا شِرًى وَلَا بَيْعٌ إِلَّا الصُّوَرَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ، فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ صُورَةً دَخَلَ فِيهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5646 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے کہ وہ حضرت ابو ہریرہ سے ہے تو جناب ابو ہریرہ نے فرمایا کہ میں الله تعالٰی سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے تمہیں جنت کے بازار میں ملائے ۱∞؎تو جناب سعید نے کہا کہ اس میں بازار ہے۲؎فرمایا ہاں مجھے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے خبر دی کہ جنت والے جب جنت میں داخل ہوں گے۳؎تو وہاں اپنے اعمال کے مطابق داخل ہوں گے۴؎پھر انہیں دنیا میں کے دنوں کے حساب سے ایک ہفتہ میں اجازت دے دی جاوے گی تو اپنی رب سے ملاقات کریں گے ۵؎اور عرش الٰہی ان پر ہوگا ۶؎اور رب ان پر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا۷؎تو ان کے لیے نور کے منبر موتیوں کے منبر یاقوت کے اور زبرجد کے منبر سونے کے منبر چاندی کے منبر رکھے جائیں گے ۸؎ان میں سے ادنی(حالانکہ ان میں ادنی کوئی نہیں)مشک و کافور کے ٹیلہ پر ہوں گے ۹؎وہ یہ تصور نہ کریں گے کہ کرسیوں والے ان سے اعلٰی جگہ میں ہیں۱۰؎حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے فرمایا ہاں کیا تم سورج کے اور چودھویں شب میں چاند کے دیکھنے میں شک کرتے ہو ہم نے کہا نہیں فرمایا ایسے تم اپنے رب کے دیکھنے میں شک نہ کرو گے ۱۱∞؎اس مجلس میں کوئی باقی نہ رہے گا مگر الله تعالٰی اس کے سامنے بے حجاب موجود ہوگا۱۲؎حتی کہ ان میں سے ایک شخص سے کہے اے فلاں کے بیٹے فلاں کیا تجھے وہ دن یاد ہے جب تو نے ایسا ایسا کہا تھا اسے اس کی بعض دنیاوی بدعہدیاں یاد دلائے گا۱۳؎بندہ عرض کرے گا الٰہی کیا تو مجھے بخش نہ دے گا۱۴؎فرمائے گا ہاں تو میری وسعت رحمت کی وجہ سے اپنے اس درجہ میں پہنچا تو جب کہ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کے اوپر بادل چھا جائے گا ۱۵؎تو ان پر ایسی خوشبو برسائے گا کہ اس جیسی خوشبو کبھی کسی چیز میں نہ پائی ہوگی۱۶؎اور ہمارا رب فرمائے گا کہ اس اعزاز کی طرف جاؤ جو میں نے تمہارے لیے تیار کیا ہوا ہے جو چاہو لو ۱۷؎تب ہم اس بازار میں پہنچیں گے جسے فرشتوں نے گھیرا ہوگا اس میں وہ چیزیں ہوں گی کہ ان کی مثل آنکھوں نے نہ دیکھی نہ کانوں نے سنی اور نہ دلوں پر انکا خطرہ گزرا ۱۸؎تب ہم جو چاہیں گے ہم کو پہنچادیا جاوے گا۱۹؎وہاں نہ تو خرید ہوگی نہ فروخت اور اس بازار میں بعض جنتی بعض سے ملیں گے ۲۰؎فرمایا کہ ایک اونچے درجے والا آوے گا وہ اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا حالانکہ ان میں نیچا کوئی نہیں تو اس پر جو لباس یہ دیکھے گا وہ اسے پسند آوے گا ابھی اس کی آخری بات ختم نہ ہوگی کہ اسے اپنے پر اس سے اچھا محسوس ہوگا ۲۱∞؎یہ اس لیے ہوگا کہ جنت میں کسی کا غمگین ہونا ممکن نہیں پھر ہم اپنے گھروں کی طرف لوٹیں گے تو ہم سے ہماری بیویاں ملیں گی کہیں گی۲۲؎خوب آئے اپنے گھر میں پہنچے تو تم اس حالت میں آئے ہو کہ تمہارا حسن و جمال اس سے اچھا ہے جس پر تم ہم سے جدا ہوئے تھے۲۳؎تب ہم کہیں گے کہ آج ہم نے اپنے رب جبار کے پاس ہم نشینی کی ہے ہمارا حق یہ ہی تھا کہ اس طرح لوٹیں مؤمنین جیسے لوٹے۲۴؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ. فَقَالَ سَعِيدٌ: أَفِيهَا سُوقٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، فَيَزُورُونَ رَبَّهُمْ وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ، وَيَتَبَدَّى لَهُم فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَيُوضَعُ لَهُم مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُم -وَمَا فِيهِمْ دَنِيٌّ- عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، مَا يَرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: "نَعَمْ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ " قُلْنَا: لَا. قَالَ: "كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ مُحَاضَرَةً حَتَّى يَقُولَ لِلرَّجُلِ مِنْهُمْ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانٍ! أَتَذْكُرُ يَوْمَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ فَيُذَكِّرهُ بِبَعْضِ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ. فَبَيْنَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ غَشِيتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، وَيَقُولُ ربُّنَا: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حَفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ، فِيهَا مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الآذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهَا، وَلَا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا". قَالَ: "فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ -وَمَا فِيهِم دَنِيٌّ-، فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يُتَخَيَّلَ عَلَيْهِ مَا هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلنَا فَيَتَلَقَّانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، لَقَدْ جِئْتَ، وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَيَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5647 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ ادنیٰ جنتی وہ ہوگا ۱∞؎جس کے اسّی ہزار خادم ہوں اور بہتر بیویاں ۲؎اور اس کے لیے موتیوں زبرجد اور یاقوت کا خیمہ لگایا جاوے گا ۳؎جیساکہ جابیہ اور صنعاء کے درمیان کا فاصلہ ہے۴؎اور اسی اسناد سے ہے فرمایا جو جنتی چھوٹا یا بوڑھا مرجاوے گا وہ جنت میں تیس سال کا بنادیا جاوے گا،یہ لوگ اس عمر سے کبھی نہ زیادہ ہوں گے۵؎اسی طرح آگ والے لوگ ۶؎اور اسی اسناد سے ہے کہ فرمایا ان پر تاج ہوں گے جنکا ادنی موتی پورب پچھم کے درمیان کو چمکا دےگا۷؎اوراسی اسناد سے ہے فرمایا مؤمن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اس کا جننا اس کا عمر رسیدہ ہونا پل بھر میں ہوجاوے گا جیسا وہ چاہے ۸؎اور کہا اسحاق ابن ابراہیم نے اس حدیث کے متعلق کہ جب مؤمن جنت میں اولاد چاہے گا تو ایک پل میں ہوجاوے گی مگر وہ چاہے گا نہیں۹؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابن ماجہ نے چوتھی حدیث اور دارمی نے آخری حدیث نقل فرمائی۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ، وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ". وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: "وَمَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنْ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ، يُرَدُّونَ بَنِي ثَلَاثِينَ فِي الْجَنَّةِ لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ".
وَبِهَذَا الإسْنَاد قَالَ: "إِنَّ عَلَيْهِمُ التِّيجَانَ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ".
وَبِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ: "الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي". وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: "إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ فِي الْجَنَّةِ الْوَلَدَ كَانَ فِي سَاعَةٍ، وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي"، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَرَوَىَ ابْنُ مَاجَهْ الرَّابِعَةَ وَالدَّارِمِيُّ الأَخِيرَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5648 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں آنکھ والی حوروں کا مجمع ہوتا ہے ۱∞؎جو اپنی آوازیں بلند کرتی ہیں ایسی آواز مخلوق نے کبھی نہ سنی ۲؎کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والیاں ہیں،کبھی نہ فنا ہوں گے اور ہم خوش رہنے والیاں ہیں کبھی غمگین نہ ہوں گے،ہم راضی رہنے والیاں کبھی ناراض نہ ہوں گی۳؎اسے خوشخبری ہو جو ہمارا ہو اور ہم اس کے ہوں۴؎(ترمذی)

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ، يَرْفَعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ تَسْمَعِ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا، يَقُلْنَ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ، طُوبَى لِمَنْ كانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5649 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

روایت ہے حضرت حکیم ابن معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ جنت میں پانی کا دریا ہے اور شہد کا دریا ہے اور دودھ کا دریا ہے اور شراب کا دریا ہے پھر اس سے آگے نہریں نکلتی ہیں ۱∞؎(ترمذی)

وَعَنْ حَكِيم بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ، وَبَحْرَ الْعَسَلِ، وَبَحْرَ اللَّبَنِ، وَبَحْرَ الْخَمْرِ، ثُمَّ تُشَقَّقُ الأَنْهَارُ بَعْدُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5650 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان

اور دارمی نے اس حدیث کو معاویہ سے روایت کیا

وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَن مُعَاوِيَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5651 ، باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان