- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
کتاب ارکان حج - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں کہ بقر عید کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم کو خطبہ دیا ۱؎فرمایا کہ زمانہ گھوم پھر کر اپنی اسی حالت پر آگیا ۲؎جس پر اللّٰه نے اسے آسمان و زمین بنانے کے دن کیا تھا۳؎سال بارہ مہینے کا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۴؎تین تو مسلسل ہیں ذیقعدہ،ذی الحجہ،محرم چوتھا قبیلہ مضر کا ماہ رجب جو دو جمادوں اور شعبان کے درمیان ہے ۵؎فرمایا یہ کون مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللّٰه و رسول جانیں حضور انور خاموش رہے حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ حضور اس کا اس کے نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے ۶؎تو فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا یہ کون سا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللّٰه رسول جانیں حضور خاموش رہے حتی کہ ہم سمجھے آپ اس کے نام کے علاو ہ کوئی اور نام رکھیں گے ۷؎فرمایا کیا یہ مکہ معظمہ شہر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا اچھا یہ کون دن ہے ہم نے عرض کیا اللّٰه رسول جانیں حضور خاموش رہے حتی کہ ہم سمجھے کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے(اصلی نام کے سوا)فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہم نے عرض کیا ہاں ۸؎فرمایا تو تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں تم میں سے ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسے ہمارے اس دن کی حرمت ہمارے اس شہر اور اس مہینہ میں ۹؎تم عنقریب اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق پوچھے گا۱۰؎تو خبردار میرے بعد گمراہ ہوکر نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں ۱۱؎خبردار رہو کیا میں نے تبلیغ کر دی سب بولے ہاں فرمایا الٰہی گواہ ہوجا لازم ہے کہ حاضرین غائبوں کو پہنچا دیں بہت سے پہنچائے ہوئے سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوں گے۱۲؎(مسلم، بخاری)
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهٖ يَوْمَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ» وَقَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هٰذَا؟» قُلْنَا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا أَنَّهٗ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهٖ فَقَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟» قُلْنَا: بَلٰى . قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هٰذَا؟» قُلْنَا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا أَنَّهٗ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهٖ قَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلْدَةُ؟» قُلْنَا: بَلٰى قَالَ «فَأَيُّ يَوْمٍ هٰذَا؟» قُلْنَا: اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا أَنَّهٗ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهٖ . قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟» قُلْنَا: بَلٰى . قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بِعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2659 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت وبرہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا ۱؎کہ میں جمروں کی رمی کب کروں فرمایا جب تمہارا امام رمی کرے تو تم بھی کر و۲؎میں نے پھر یہ ہی سوال کیا تو فرمایا ہم وقت کے منتظر رہتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تو ہم رمی کرلیتے تھے ۳؎(بخاری)
وَعَن وَبَرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتٰى أَرْمِي الْجِمَارَ؟ قَالَ: إِذَارَمٰى إِمَامُكَ فَارْمِهٖ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ. فَقَالَ: كُنَّا نَتَحَيَّنُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2660 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت سالم سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی کہ وہ قریبی جمرہ کی ۱؎سات کنکروں سے رمی کرتے تھے ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ۲؎پھر آگے بڑھ جاتے حتی کہ نرم زمین میں آجاتے پھر رو بقبلہ دیر تک کھڑے رہتے ہاتھ اٹھائے دعا مانگتے ۳؎پھر درمیانی جمرہ کی سات کنکریوں سے رمی کرتے ۴؎جب بھی کنکری پھینکتے تو تکبیر کہتے پھر بائیں طرف ہٹ جاتے نرم زمین میں پہنچ جاتے روبقبلہ کھڑے ہوتے پھر ہاتھ اٹھائے دعاکرتے رہتے دیر تک کھڑے رہتے پھربطن وادی سے پیچھے والے جمرہ کو سات کنکریاں مارتے ۵؎کہ ہرکنکری پرتکبیر کہتے تھے مگر اس کے پاس کھڑے نہ ہوتے تھے ۶؎پھر واپس ہوجاتے حضرت ابن عمرفرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ عمل کرتے دیکھا ۷؎(بخاری)
وَعَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهٗ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الدُّنْيَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكبِّرُ عَلٰى اَثَرِ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ حَتّٰى يُسْهِلَ فَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ طَوِيلًا وَّيَدْعُوا وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي الْوُسْطٰى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَمٰى بِحَصَاةٍ ثُمَّ يَأْخُذُ بِذَاتِ الشِّمَالِ فَيُسْهِلُ وَيَقُومُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ثُمَّ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُومُ طَوِيلًا ثُمَّ يَرْمِي جَمْرَةَ ذَاتِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُولُ: هٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهٗ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2661 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ حضرت عباس ابن عبدالمطلب نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے منٰی کی راتوں میں مکہ معظمہ رہنے کی اجازت مانگی ۱؎زمزم پلانے کی وجہ سے ۲؎تو حضور نے انہیں اجازت دے دی ۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى، مِنْ أَجْلِ سِقايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2662 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم زمزم کے سقایہ(مٹی)پر تشریف لائے پانی مانگا ۱؎تو حضرت عباس نے فرمایا اے فضل اپنی والدہ کے پاس جاؤ ان کے پاس سے رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے لیے پانی لے آؤ ۲؎حضور انور نے فرمایا مجھے پانی پلاؤ ۳؎عرض کیا یارسول اللّٰه اس میں لوگ ہاتھ ڈالتے ہیں فرمایا ہم کو پانی پلاؤ چنانچہ حضور نے اس ہی سے پیا ۴؎پھر چاہ زمزم پر تشریف لائے جب کہ وہ پانی بھررہے تھے اور اس میں کام کاج کررہے تھے تو فرمایا کئے جاؤ تم لوگ اچھے کام میں لگے ہوئے ہو۵؎پھر فرمایا اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو ہم خود اترتے حتی کہ رسی اس پر رکھتے اور اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا ۶؎(بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلٰى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقٰى. فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلٰى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ: اسْقِنِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ قَالَ: اسْقِنِي . فَشرب مِنْهُ ثُمَّ أَتٰى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا. فَقَالَ: اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلٰى عَمَلٍ صَالِحٍ. ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتّٰى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلٰى هٰذِهٖ . وَأَشَارَ إِلٰى عَاتِقِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2663 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مقام محصب ۱؎میں ظہروعصر مغرب اور عشاء پڑھی پھر کچھ سوئے پھر بیت اللّٰه کی طرف سوار ہوگئے تو اس کا طواف کیا ۲؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعَشَاءَ ثُمَّ رَقَدَ رَقْدَةً بِالمُحَصَّبِ ثُمَّ رَكِبَ إِلَى الْبَيْتِ فَطَافَ بِهٖ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2664 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت عبدالعزیز ابن رفیع سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا میں نے کہا مجھے وہ چیز بتائیے جو آپ نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم سے سمجھی یاد کی ہو،حضور انور نے آٹھویں بقرعید کو ظہر کہاں پڑھی ۱؎فرمایا منٰی میں ۲؎عرض کیا پھر واپسی کے دن عصر کہاں پڑھی فرمایا مقام ابطح میں ۳؎پھر فرمایا جیسا تمہارے امیرکریں ویسا تم بھی کرو ۴؎(مسلم)
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسٍ بْنَ مَالِكٍ. قُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهٗ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى. قَالَ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالأَبْطَحِ. ثُمَّ قَالَ افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2665 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مقام ابطح میں اترنا سنت نہیں ۱؎وہاں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم اس لیے اترے تھے کہ آپ کی روانگی کے لیے آسان تر تھا ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّمَا نَزَلَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهٗ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهٖ إِذَا خَرَجَ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2666 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے مقام تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا پھر میں مکہ معظمہ آئی اپنا عمرہ پورا کیا ۱؎رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مقام ابطح میں میرا انتظار فرمایا حتی کہ میں فارغ ہوگئی ۲؎پھر لوگوں کو کوچ کا حکم دیا پھر آپ وہاں سے آئے تو بیت اللّٰه شریف پر گزرے فجر سے پہلے اس کا طواف کیا ۳؎پھر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے میں نے یہ حدیث مسلم، بخاری کی روایت سے نہ پائی بلکہ آخر میں تھوڑے اختلاف کے ساتھ ابوداؤد کی روایت سے پائی ۴؎
وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ حَتّٰى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالبَيْتِ فَطَافَ بِهٖ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هٰذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهٗ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَافٍ يَسِيرٍ فِي آخِرِهٖ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2667 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ لوگ ہر طرف چل دیتے تھے ۱؎تب رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی واپس نہ ہو حتی کہ اس کا آخری کام بیت اللّٰه سے ہو ۲؎مگر حائضہ سے یہ حکم ہلکا کردیا گیا۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدُكُمْ حَتّٰى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهٖ بِالبَيْتِ إِلَّا أَنَّهٗ خُفِّفَ عَنِ الْحَائِضِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2668 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت صفیہ واپسی کے دن حائضہ ہوگئیں ۱؎تو بولیں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں تم کو روک ہی لوں گی ۲؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا اری بانجھ منڈی کیا تم نے بقر عید کے دن طواف کرلیا تھا عرض کیا ہاں فرمایا تو چلو۳؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: حَاضَتْ صَفِيَّةُ لَيْلَةَ النَّفْرِ فَقَالَتْ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقْرٰى حَلْقٰى أَطَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ؟» " قِيلَ: نَعَمْ. قَالَ: "فَانْفِرِي"(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2669 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت عمرو ابن احوص سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا یہ کون دن ہے صحابہ نے عرض کیا حج اکبر کا دن ۱؎فرمایا تمہارے خون تمہارے مال تمہاری آبروئیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ۲؎خبردار کوئی مجرم اپنی جان پر ظلم نہ کرے۳؎خبردار کوئی مجرم اپنی اولاد پر ظلم نہ کرے اور نہ کوئی فرزند اپنے باپ پر ۴؎خبردار شیطان اس سے تو مایوس ہوچکا کہ تمہارے اس شہر میں کوئی اسے پوجے ۵؎مگر جن گناہوں کو تم معمولی سمجھتے ہو ان میں اس کی اطاعت ہوجایا کرے گی جس سے وہ راضی ہوتا رہے گا ۶؎(ابن ماجہ،ترمذی)اور ترمذی نے اسے صحیح کہا۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «أَيُّ يَوْمٍ هٰذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ الْحَجِّ الأَكْبَرِ. قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا أَلَا لَا يَجْنِي جَانٍعَلٰى نَفْسِهٖ وَلَا يَجْنِي جَانٍ عَلٰى وَلَدِهٖ وَلَا مَوْلُودٌ عَلٰى وَالِدِهٖ أَلَا وَإِنَّ الشَّيْطَانَ قد أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا أَبَدًا وَلٰكِنْ سَتَكُونُ لَهٗ طَاعَةٌفِيمَا تَحْتَقِرُونَمِنْ أَعْمَالِكُمْ فَسَيَرْضَى بِهٖ » . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالتِّرْمِذِيّ
وَصَحَّحَهٗ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2670 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت رافع ابن عمرو مزنی سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ منٰی میں اپنے چتکبرے خچر پر خطبہ پڑھ رہے تھے جب کہ دن چڑھ چکا تھا ۱؎اور جناب علی اس کی تفسیر و تعبیر کررہے تھے لوگ کچھ بیٹھے تھے کچھ کھڑے تھے۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحٰى عَلٰى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَائِم وَقَاعِدٍ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2671 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت عائشہ اور ابن عباس سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بقرعید کے دن طواف زیارت رات تک مؤخر فرمایا ۱؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2672 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے طواف زیارت کے سات چکروں میں رمل نہ کیا ۱؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرْمَلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2673 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کرے تو اس کے لیے بیوی کے سوا ہرچیز حلال ہوگئی ۱؎(شرح سنہ)اور فرمایا کہ اس کی اسناد ضعیف ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَمٰى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ» . رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ" وَقَالَ: إِسْنَادُهٗ ضَعِيفٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2674 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
اور احمد و نسائی کی روایت میں حضرت ابن عباس سے یوں ہے کہ خود ان ہی نے فرمایا کہ جب جمرہ کی رمی کرے تو عورتوں کے سوا سب حلال ہے
وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ »
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2675 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دن کے آخری حصہ میں جب کہ ظہر پڑھ چکے تو طواف زیارت کیا پھر منٰی لوٹ آئے ۱؎پھر تشریق کے زمانہ میں وہاں ہی قیام فرمایا کہ سورج ڈھل جانے پر جمرہ کی رمی کرتے تھے ۲؎ہر جمرہ کی ساتھ کنکریوں سے ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ۳؎پہلے اور دوسرے جمروں کے پاس کچھ ٹھہرتے تھے تو دراز قیام کرتے تھے عاجزی زاری کرتے تھے اور تیسرے جمرہ کی رمی کرتے تو وہاں نہ ٹھہرتے ۴؎(ابوداؤد)
وَعَنْهَا قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهٖ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلٰى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ فَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2676 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
روایت ہے حضرت ابو البداح ابن عاصم ابن عدی سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اونٹ چرانے والوں کو شب گزاری کی اجازت دی ۲؎کہ بقر عید کے دن رمی کرلیں پھر بقر عید کے بعد دو دن کی رمی جمع کرلیں اس طرح کہ ان دونوں میں سے ایک ہی رمی کریں ۳؎(مالک،ترمذی، نسائی)اور ترمذی نے فرمایا حدیث صحیح ہے۔
وَعَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ عَن أَبِيهِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم لِرُعَاءِ الإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ: أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ فَيَرْمُوهُ فِي أَحَدِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2677 ، باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف