- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان
- باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3
روایت ہے حضرت سمرہ بن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے افضل کلمات چار ہیں ۱؎سبحان الله،الحمد لله،لا الہ الا اللهاورالله اکبر۲؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اللہ کو پیارے کلمات چار ہیںسبحان الله،الحمد لله،لا الہ الا اللهاورالله اکبرجس کلمہ سے ابتداءکرو مضر نہیں ۳؎(مسلم)
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ".
وَفِي رِوَايَةٍ: "أَحَبُّ الْكَلَامِ إِلَى اللّٰهِ أَرْبَعٌ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2294 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے میراسبحان اﷲ،الحمدﷲاورلا الہ الا اﷲ واﷲ اکبرکہنا مجھے اس سب سے پیارا ہے جس پر سورج طلوع ہو ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لِأَنْ أَقُوْلَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2295 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دن میں سو بارسبحان الله وبحمدہپڑھے ۱؎تو اس کی تمام خطائیں بخش دی جائیں گی اگرچہ کف دریا یعنی سمندر کے جھاگ برابر ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ"مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2296 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صبح و شام کے وقتسبحان الله وبحمدہسو بار پڑھ لیا کرے ۱؎تو قیامت کے دن کوئی شخص اس سے بہتر عمل نہ لائے گا اس کے سوا جو اس طرح یا اس سے زیادہ پڑھا کرے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي: سُبْحَانَ اللّٰه وَبِحَمْدِهٖ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهٖ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2297 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں ترازو میں بھاری رحمن کو پیارے ہیں ۱؎سبحان اﷲ و بحمدہ سبحان الله العظیم۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ، حَبِيْبَتَانِ إِلَى الرَّحْمٰنِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2298 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں ہم رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کر لیا کرے ہم نشینوں میں سے کسی نے پوچھا کہ کوئی روزانہ ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے ۱؎فرمایا ایک سو دفعہسبحان اللهپڑھ لیا کرے اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی ہزار خطائیں معاف کی جائیں گی ۲؎(مسلم)اس کتاب مسلم میں ابو موسٰی جھنی سے تمام روایات میں یوں ہے کہ یا معاف کی جائینگی ۳؎ابوبکر برقانی فرماتے ہیں ۴؎کہ اسے شعبہ و ابوعوانہ اور یحیی ابن سعید قطان نے حضرت موسیٰ سے روایت کی ان سب نےویحطفرمایا الف کے بغیر (کتاب حمیدی میں اسی طرح ہے)۵؎
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ: قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: "أَيَعْحِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ " فَسَأَلَهٗ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهٖ : كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ: "يُسَبِّحُ مِائَةَ تَسْبِيْحَةٍ، فَيُكْتَبُ لَهُ الفُ حَسَنَةٍ، أَوْ يُحَطُّ عَنهُ أَلْفُ خَطِيْئَةٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وَفِي كتَابِهٖ فِي جَمِيْعِ الرِّوَايَاتِ عَنْ مُوْسَى الْجُهَنِيِّ: "أَوْ يُحَطُّ" قَالَ أَبُوْ بِكْرٍ البِرْقَانِي: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ وَأَبُوْ عَوَانَةَ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيْدٍ الْقطَّانُ عَنْ مُوْسٰى فَقَالُوْا: "ويُحَطُّ" بِغَيْر ألِفٍ، هٰكَذَا فِي كِتَابِ الْحُمَيْدِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2299 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کون سا کلام افضل ہے فرمایا جو اللہ تعالٰی نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایاسبحان الله وبحمدہٖ۱؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِيْ ذَرٍّ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "مَا اصْطَفَى اللّٰهُ لِمَلَائِكَتِهٖ : سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2300 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت جویریہ سے ۱؎کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس سےگزرے جب کہ نماز فجر پڑھی وہ اپنی مسجد میں تھیں ۲؎پھر دوپہر کے بعد واپس ہوئے وہ وہاں ہی بیٹھی تھیں ۳؎فرمایا کیا تم اسی طرح بیٹھی ہو جیسے میں تمہیں چھوڑ گیا تھا عرض کیا ۴؎ہاں تب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارے پیچھے چار کلمے تین دفعہ پڑھ لیے ۵؎اگر انہیں تمہارے تمام وظیفوں سے تولا جائے جو تم نے سارے دن میں پڑھے تو ان پر بھاری ہوجائیں ۶؎"سبحان الله وبحمدہ عدد خلقہ ورضانفسہ وزنۃ عرشہ ومداد کلماتہ"۷؎(مسلم)
وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِيْنَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجَدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحٰى وَهِيَ جَالِسَةٌ قَالَ: "مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهٖ عَدَدَ خَلْقِهٖ ، وَرِضَا نَفْسِهٖ ، وَزِنَةَ عَرْشِهٖ ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهٖ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2301 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک دن میں سو بار یہ کہہ لے ۱؎ﷲکے اکیلے کے سواء کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف ہے،وہ ہر چیز پر قادر ہے،اس کے لیے دس۱۰ غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا ۲؎اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے سو گناہ معاف کئے جائیں گے اور اس دن دن بھر اس کی شیطان سے حفاظت ہوگی حتی کہ شام پالے ۳؎اور کوئی شخص اس سے بہتر افضل عمل نہ کرسکے گا اس کے سوا جو اس سے زیادہ یہ پڑھ لے ۴؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "من قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهٗ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهٗ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهٗ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهٗ ذٰلِكَ حَتّٰى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهٖ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2302 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابو موسٰی اشعری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ۱؎اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو اپنی جانوں پر نرمی کرو ۲؎تم لوگ نہ بہرے کو پکارتے ہو نہ غائب کو تم تو سمیع بصیر کو پکاررہے ہو۳؎جو تمہارے ساتھ ہے جسے تم پکار رہے ہو وہ تم میں سے ہر ایک کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے ۴؎ابو موسٰی فرماتے ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا اپنے دل میں کہہ رہا تھالاحول ولا قوۃ الا باللهتو حضور نے فرمایا اے عبداللہ ابن قیس کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ پر رہبری نہ کروں میں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایاولاحول ولا قوۃ الا باللهہے ۵؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِيْ مُوْسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي سَفَرٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُوْنَ بِالتَّكْبِيرِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ارْبَعُوْا عَلٰى أَنْفُسِكُمْ،إِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّكُمْ تَدْعُوْنَ سَمِيعًا بَصِيرًا وَهُوَ مَعَكُمْ، وَالَّذِي تَدْعُوْنَهٗ أَقْرَبُ إِلٰى أَحَدِكُمْ مِنْ عُنُقِ رَاحِلَتِهٖ " قَالَ أَبُوْ مُوْسٰى: وَأَنَا خَلْفَهٗ أَقُوْلُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ فِي نَفْسِيْ فَقَالَ: "يَا عَبْدَ اللّٰهِ بْنَ قَيْسٍ! أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى كَنْزٍ مِنْ كُنُوْزِ الْجَنَّةِ؟ " فَقُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ قَالَ: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2303 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت جابر سےفرماتےہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے جوسبحان اﷲ العظیم وبحمدہٖپڑھے اس کے لیے جنت میں درخت بویا جائے گا ۱؎(ترمذی)
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهٖ ، غُرِسَتْ لَهٗ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2304 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی کوئی صبح نہیں جسے بندے پائیں مگر ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ پاک بادشاہ کی تسبیح پڑھ لو ۱؎(ترمذی)
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ صَبَاحٍ يُصْبحُ الْعِبَادُ فِيْهِ إِلَّا مُنَادٍ يُنَادِي: سَبِّحُوا الْمَلِكَ القُدُّوْسَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2305 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بزرگ ترین ذکرلا الہ الااللهہے ۱؎اور بزرگ ترین دعاالحمدللهہے۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَفْضَلُ الذِّكْرِ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2306 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حمد شکر کا سر ہے ۱؎جس بندے نے خدا کی حمد نہ کی اس نے رب کا شکر ہی نہ کیا ۲؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰه بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "الْحَمْدُ رَأْسُ الشُّكْرِ، مَا شَكَرَ اللّٰهَ عَبْدٌ لَا يَحْمَدُهٗ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2307 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جنہیں قیامت کے دن سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا وہ ہوں گے جو خوشی و غم میں اللہ کی حمد کرتے ہیں ۱؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَوَّلُ مَنْ يُدْعٰى إِلَى الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِيْنَ يَحْمَدُوْنَ اللّٰهَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2308 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا یارب مجھے وہ چیز سکھا جس سے تجھے یاد کیا کروں یا جس کے ذریعے تجھ سے دعا کروں ۱؎رب نے فرمایا اے موسٰی کہولا الہ الا اللهپھر عرض کیا یا رب یہ تو تیرے سارے بندے ہی کہتے ہیں میں تو کوئی ایسی خاص چیز چاہتا ہوں جس سے تو مجھے خاص کرے ۲؎فرمایا اے موسٰی اگر ساتوں آسمان اور میرے سواء ان کی آبادی اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں ۳؎اورلا الہ الا اللهدوسرے پلڑے میں تو ان سب پرلا الہ الا اللهبھاری ہوگا ۴؎(شرح سنہ)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "قَالَ مُوْسٰى عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَا رَبِّ عَلِّمْنِيْ شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهٖ أَوْ أَدْعُوْكَ بِهٖ فَقَالَ: يَا مُوْسٰى قُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه، فَقَالَ: يَا رَبِّ! كلُّ عِبَادِكَ يَقُوْلُ هٰذَا ، إِنَّما أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِيْ بِهٖ قَالَ: يَا مُوْسٰى! لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِيْ، وَالأَرَضِيْنَ السَّبْعِ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ فِي كِفَّةٍ لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ". رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2309 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت ابوسعید و حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کہتا ہےلا الہ الا الله والله اکبرتو رب تعالٰی اس کی تصدیق کرتا ہے کہتا ہے کہ واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں اور میں بہت بڑا ہوں ۱؎اور جب بندہ کہتا ہے کہ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں تو رب فرماتاہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میں اکیلا ہوں میرا کوئی شریک نہیں ۲؎اور جب بندہ کہتا ہے اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف ہے تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواء کوئی معبود نہیں میرا ہی ملک ہے میری ہی تعریف ہے ۳؎جب بندہ کہتا ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت تو رب فرماتا ہے واقعی میرے سواءکوئی معبود نہیں میرے بغیر نہ قوت ہے نہ طاقت ۴؎حضور فرماتے تھے کہ جو یہ کلمات اپنے مرض میں کہے پھر مرجائے تو اسے آگ نہ جلائے گی ۵؎(ترمذی،ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيدٍ وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، صَدَّقَهٗ رَبُّهٗ قَالَ:لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَأَنَا أَكْبَرُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، يَقُوْلُ اللّٰهُ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا وَحْدِيْ لَا شَرِيْكَ لِيْ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا لِيَ الْمُلْكُ وَلِيَ الْحَمْدُ، وَإِذَا قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، قَالَ: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنَا، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِي" وَكَانَ يَقُوْلُ: "مَنْ قَالَهَا فِي مَرَضِهٖ ثُمَّ مَاتَ لَمْ تَطْعَمْهُ النَّارُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2310 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک بی بی کے پاس گئے ۱؎جن کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں تھیں جن پر وہ تسبیح پڑھ رہی تھیں ۲؎تب حضور نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تم پر اس سے آسان بھی ہو اور بہتربھی ۳؎اللہ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جسے آسمان میں پیدا فرمایا اور اللہ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جسے زمین میں پیدا فرمایا اور اللہ کی پاکی بولتا ہوں اس کی برابر جو ان کے درمیان ہے۴؎اور اللہ کی پاکی بولتاہوں اس کی برابر جسے وہ پیدا فرمانے والا ہے اور اللہ بہت بڑا ہے (اسی قدر)تمام تعریفیںﷲکی ہیں(اسی قدر)اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (اسی قدر)اور اللہ کے بغیر نہ قوت(اسی قدر)۵؎(ترمذی،ابوداؤد) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ أَنَّهٗ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- عَلَى امْرَأَةٍ وبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهٖ فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هٰذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذٰلِكَ، وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ مِثْلَ ذٰلِكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2311 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اللہ کے لیے صبح کو سو بارسبحان اللهپڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو سو حج کرے ۱؎اور جو صبح کو سو بارالحمد للّٰہپڑھے اور سو بار شام کو تو اس جیسا ہوگا جو اللہ کی راہ میں سو گھوڑے خیرات کرے ۲؎اور جو صبح کو سو بارلاالہ الا اللهپڑھے اور سو بار شام کو تو اس کی طرح ہوگا جو اولاد حضرت اسماعیل سے سو غلام آزاد کرے ۳؎اور جو صبح کو سو بارالله اکبرپڑھے اور سو بار شام کو تو کوئی اس سے زیادہ نیکیاں اس دن نہ کرسکے گا بجز اس کے جو اتنی ہی بار یہ کلمات کہہ لے یا اس سے زیادہ۴؎ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے غریب بھی۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ سَبَّحَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ حَجَّ مِائَةَ حَجَّةٍ، وَمَنْ حَمِدَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كمَنْ حَمَلَ عَلٰى مِائَةِ فَرَسٍ فِيْ سَبِيلِ اللّٰهِ، وَمَنْ هَلَّلَ اللّٰهَ مِئَةً بِالْغَدَاةِ وَمِئَةً بِالْعَشِيِّ كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ مِائَةَ رَقَبَةٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ، وَمَنْ كَبَّرَ اللّٰهَ مِائَةً بِالْغَدَاةِ وَمِائَةً بِالْعَشِيِّ لَمْ يَأْتِ فِي ذٰلِكَ الْيَوْمِ أَحَدٌ بأَكْثَرَ مِمَّا أَتَى بِهٖ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ ذٰلِكَ أَوْ زَادَ عَلٰى مَا قَالَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2312 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہسبحان اللهآدھی میزان ہے اورالحمد للّٰہاسے بھردے گی ۱؎اورلا الہ الا اللهکے لیے رب سے کوئی آڑ نہیں سیدھا اس تک پہنچتا ہے ۲؎(ترمذی) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں۳؎
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰه بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اَلتَّسْبِيحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ يَمْلَؤُهٗ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ لَيْسَ لَهَا حِجَابٌ دُوْنَ اللّٰهِ حَتّٰى تَخْلُصَ إِلَيْهِ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2313 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان
- 1
- 2