باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

اللہ تعالٰی کے ناموں کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 3

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے بندہ کبھی خلوص دل سےلا الہ الا اﷲنہیں کہتا مگر اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں حتی کہ وہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جب تک کہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچا رہے ۱؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا قَالَ عَبْدٌ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُخْلِصًا قَطُّ إِلَّا فُتِحَتْ لَهٗ أَبْوَابُ السَّمَاءِ حَتّٰى يُفْضِيَ إِلَى الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2314 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ شبِ معراج میں ہماری ملاقات ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ۱؎انہوں نے فرمایا یارسول اللہ اپنی امت کو میرا سلام فرمادیں ۲؎اور انہیں بتادیں کہ جنت کی زمین بہت زرخیز ہے وہاں کا پانی بہت شیریں جنت میں سفید زمین بہت ہے وہاں کے درخت یہ کلمات ہیں اللہ پاک ہے اسی کی تعریف ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ بہت بڑا ہے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد سے حسن و غریب ہے۔

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَقِيْتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِيْ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ،وَأَنَّ غِرَاسَهَا سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ إِسْنَادًا.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2315 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے حضرت یسیرہ سے آپ مہاجر بیویوں میں سے ہیں ۱؎فرماتی ہیں ہم سے رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا اے بیبیو تسبیح وتہلیل اور رب کی پاکی بولنے کو لازم کرلو۲؎انگلیوں پر گنا کرو ۳؎(عقد انامل)کہ انگلیوں سے سوال ہوگا انہیں گویائی بخشی جائے گی۴؎اور کبھی غافل نہ ہونا ورنہ تم رحمت سے بھلادی جاؤ گی ۵؎(ترمذی و ابوداؤد)

وَعَنْ يُسَيْرَةَ -وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ- قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "عَلَيْكُنَّ بِالتَّسْبِيْحِ وَالتَّهْلِيْلِ وَالتَّقْدِيْسِ، وَاعْقِدْنَ بِالأَنَامِلِ؛فَإِنَّهُنَّ مَسْؤُوْلَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ، وَلَا تَغْفُلْنَ فَتُنْسَيْنَ الرَّحْمَةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2316 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک بدوی حاضر ہوئے بولے مجھے کوئی وظیفہ سکھائیے جو میں پڑھ لیا کروں ۱؎فرمایا کہو اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں،اللہ بہت ہی بڑا ہے، اللہ کی بہت حمد ہے، اللہ پاک ہے،جہانوں کا پالنے والا، اللہ غالب حکمت والے کے بغیر نہ طاقت ہے نہ قوت وہ بولے یہ تو رب کے لیے ہوئے میرے لیے کیا ہے ۲؎فرمایا یوں کہو الٰہی مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما،مجھے ہدایت دے،مجھے روزی دے۳؎مجھے امن نصیب کر ۴؎راوی کوعَافِنِیمیں کچھ شک ہے ۵؎(مسلم)

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُوْلِ اللّٰه -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَقَالَ: عَلِّمْنِي كَلَامًا أَقُوْلُهٗ قَالَ: "قُلْ: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، اللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَ سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ". فَقَالَ: فَهَؤُلَاءِ لِرَبِّيْ فَمَا لِيْ؟ فَقَالَ: "قُلْ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي". شَكَّ الرَّاوِي فِي "عَافِنِيْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2317 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہےحضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خشک پتوں والے درخت سے گزرے تو اس میں اپنی لاٹھی شریف ماری پتے جھڑ گئے ۱؎فرمایاالحمد لله،سبحان اللهاورلا الہ الا اللهاورالله اکبربندے کے گناہ یوں جھاڑ دیتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑگئے ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مَرَّ عَلٰى شَجَرَةٍ يَابِسَةِ الْوَرَقِ، فَضَرَبَهَا بِعَصَاهُ، فَتَنَاثَرَ الْوَرَقُ، فَقَالَ: "إِنَّ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تُسَاقِطُ ذُنُوْبَ العَبْدِ كَمَا يتَسَاقَطُ وَرَقُ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2318 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے حضرت مکحول سے ۱؎وہ حضرت ابوہریرہ سے راوی فرماتے ہیں مجھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہلاحول ولا قوۃ الا باﷲزیادہ پڑھا کرو کہ یہ جنت کے خزانے سے ہے ۲؎مکحول فرماتے ہیں جو کوئی پڑھاکرےلاحول ولا قوۃ الا باﷲاورلا منجامن اﷲ الا الیہتو اتعالٰی اس سے ستر مصیبتوں کے در بند کردے گا جن میں سے ادنیٰ مصیبت فقیری ہے ۳؎(ترمذی) اور ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد متصل نہیں مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے سنا نہیں ۴؎

وَعَنْ مَكْحُوْلٍ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ"قَالَ مَكْحُوْلٌ: فَمَنْ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا مَنْجَا مِنَ اللّٰهِ إِلَّا إِلَيْهِ كَشَفَ اللّٰه عَنْهُ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ، أَدْنَاهَا الفَقْرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ، ومَكْحُوْلٌ لَمْ يَسْمَعْ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2319 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہلاحول ولا قوۃ الا باﷲننانوے بیماریوں کی دعا ہے ۱؎جن میں ادنی بیماری غم ہے ۲؎

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ دَوَاءٌ مِنْ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ دَاءً أَيْسَرُهَا الْهَمُّ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2320 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتادوں جو عرش کے نیچے سے آیا ۱؎جنت کے خزانوں سے ہے ۲؎وہلاحول ولا قوۃ الا باﷲہے، رب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ فرمانبردار ہوگیا اور اس نے اپنے کو میرے سپردکردیا ۳؎یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیں۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ عَبْدِيْ وَاسْتَسْلَمَ"رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2321 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان اللهساری مخلوق کی عبادت ہے ۱؎اورالحمد للهکلمہ شکر ہے ۲؎اورلا الہ الا اللهاخلاص کا کلمہ ہے ۳؎اورالله اکبرآسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہے۴؎اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا باللهتورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2322 ، باب :سبحان اللہ،الحمد للّٰه،لاالہ الا اللہ، اللہ اکبر کہنے کابیان