باب : قربانی کابيان

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہےحضرت انس سے فرماتےہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دوچتکبرے سینگ والے بکروں کی قربانی کی ۱∞؎کہ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیابسم اللهو تکبیرکہی فرمایا کہ میں نے آپ کو ان بکروں کی کروٹوں پر اپنا قدم رکھے دیکھا۲؎آپ فرماتے تھےبِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ ۔(مسلم،بخاری)

عَن أَنَسٍ قَالَ: ضَحّٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ ذَبَحَهُمَا بِيَدِهٖ وَسَمّٰى وَكَبَّرَ قَالَ: رَأَيْتُهٗ وَاضِعًا قَدَمَهٗ عَلیٰ صِفَاحِهِمَا وَيَقُولُ: “بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرْ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1453 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہےحضرت عائشہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے سینگ والے بکرے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلے،سیاہی میں بیٹھے،سیاہی میں دیکھے ۱∞؎آپ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تاکہ اس کی قربانی کریں فرمایا عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کرلو،میں نے کرلیا پھر آپ نے چھری پکڑی اور بکرا پکڑکرلٹایا پھر اسے ذبح کیا پھر فرمایابِسْمِ اللهِ۲؎الٰہی اسے محمدصلی الله علیہ وسلم و آل محمدصلی الله علیہ وسلم و امت محمدصلی الله علیہ وسلم کی طرف سے قبول فرما۳؎پھر اس کی قربانی کی ۴؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ وَيَبْرَكُ فِي سَوَادٍ وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ فَأُتِيَ بِهٖ لِيُضَحِّيَ بِهٖ قَالَ: “يَا عَائِشَةُ هَلُمِّي الْمُدْيَةَ” ثُمَّ قَالَ: “اشْحَذِيهَا بِحَجَرٍ” فَفَعَلَتْ ثُمَّ أَخَذَهَا وَأَخَذَ الْكَبْشَ فَأَضْجَعَهٗ ثُمَّ ذَبَحَهٗ ثُمَّ قَالَ: “بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ” . ثُمَّ ضَحّٰى بِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1454 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سال سے کم جانور ذبح نہ کرو مگر جب کہ دشوار ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ ذبح کرو ۱∞؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1455 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہےحضرت ابن عامرسے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے انہیں کچھ بکریاں صحابہ میں قربانی کے لیئے تقسیم فرمانے کو دیں ۱∞؎تو ایک شش ماہیہ بکری کی بچی اس کا ذکرحضور انورصلی الله علیہ وسلم سے کیا آپ نے فرمایا اس کی قربانی تم کرلو۔ایک روایت میں ہےکہ میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے چھ ماہ کا ملا فرمایا قربانی کرلو ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ غَنَمًا يُقَسِّمُهَا عَلیٰ صَحَابَتِهٖ ضَحَايَا فَبَقِيَ عَتُوْدٌ فَذَكَرَهٗ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “ضَحِّ بِهٖ أَنْتَ” وَفِي رِوَايَةٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابَنِيْ جِذْعٌ قَالَ: “ ضَحِّ بِهٖ “(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1456 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم عیدگاہ میں ذبحہ ونحر فرماتے تھے ۱∞؎(بخاری)

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلّٰى . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1457 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا گائے سات کی طرف سےہے اوراونٹ سات کی طرف سے ۱∞؎(مسلم وابوداؤد)لفظ ابوداؤد کے ہیں۔

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَأَبُو دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1458 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہےحضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب عشرہ آجائے تو تم میں سےکوئی قربانی کرناچاہے تو اپنے بال وکھال کو بالکل ہاتھ نہ لگائے ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے نہ بال لے نہ ناخن کاٹے،ایک روایت میں ہے کہ جو بقرعید کاچاند دیکھے اورقربانی کرناچاہے تو نہ اپنے بال لے نہ ناخن ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أُمِّ سَلْمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهٖ وَبُشرِهٖ شَيْئًا” وَفِي رِوَايَةٍ “فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا” وَفِي رِوَايَةٍ “مَنْ رَأٰى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهٖ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهٖ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1459 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وہ زمانہ کوئی نہیں جن میں نیکیاں رب کو اس دن سے زیادہ پیاری ہوں ۱∞؎لوگوں نےعرض کیا یا رسول الله نہ الله کی راہ میں جہاد فرمایا نہ الله کی راہ میں جہاد سوائے اس کے جو اپنا جان و مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هٰذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشَرَةِ” قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ ؟ قَالَ: “وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهٖ وَمَالِهٖ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذٰلِكَ بِشَيْءٍ” . رَوَاهُ البُخَارِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1460 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے دوخصی چتکبرے سینگ والے بکرے بقرعید کے دن ذبح کیے ۱∞؎جب انہیں قبلہ رو لٹایا تو فرمایا کہ میں نے اپنے کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمان و زمین پیدا کیے دین ابراہیمی پر ہوں ہر بے دینی سے الگ مشرکوں میں سےنہیں ہوں۲؎یقینًا میری نمازمیری قربانی میری زندگی اور میری موت رب العلمین کے لیئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم ملا اور میں مطیعین سے ہوں۳؎الٰہی یہ تجھ سے ہے اورتیرے لیئے ہے محمدمصطفےٰصلی الله علیہ وسلم اور ان کی امت کی طرف سے۴؎بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ،پھر ذبح فرمایا۔(احمد، ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)اوراحمد،ابوداؤد و ترمذی کی دوسری روایت میں ہے کہ اپنے ہاتھ سے ذبح فرمایا اورکہابِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُالٰہی یہ میری طرف سے اور میرے اس امت کی طرف سے جو قربانی نہ کرسکے ۵؎

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجُوْئَيْنِ فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ: “إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيْ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمَوَات وَالْأَرْضَ عَلیٰ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهٗ وَبِذٰلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الِمُسْلِمينَ اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهٖ بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ” . رَوَاهُ أَحْمدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ: ذَبَحَ بِيَدِهٖ وَقَالَ: “بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ اَللّٰهُمَّ هٰذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ”

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1461 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت حنش سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو دیکھا کہ آپ دو بکرے قربانی دیتے تھے میں نے عرض کیا یہ کیا فرمایا مجھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں آپ کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں لہذا میں حضور کی طرف سے قربانی کرتا ہوں ۱∞؎(ابوداؤد)اور ترمذی نے اس کی مثل۔

وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَهٗ : مَا هَذَا؟ فَقَالَ: (إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَى التِّرْمِذِيْ نَحْوَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1462 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں ہمیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم آنکھ،کان،دیکھ لیں ۱∞؎نہ اگلے کان کٹے کی قربانی کریں نہ پچھلے کی نہ کان چرے کی نہ کان پھٹے کی۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی،ابن ماجہ)ابن ماجہ کی روایتأذنپرختم ہوگئی۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَأَلَّا نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ والدَارمِيْ وَاَنْتَهَتْ رِوَايَتَهُ الٰى قَوْلِهٖ: وَالْأُذُنَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1463 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے کی قربانی کریں ۱∞؎(ابن ماجہ)

وَعَنْهُ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُضَحِّيْ بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1464 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کن قربانیوں سے بچنا چاہیے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا چار سے ۱∞؎لنگڑے سے جس کا لنگ ظاہرہو،کا نے سے جس کانا پن ظاہرہو۲؎بیمار سےجس کی بیماری ظاہر ہو اور دبلے سے جو ہڈی میں سپنگ نہ رکھتا ہو۳؎(مالک، احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَاذَا يُتَّقٰى مِنَ الضَّحَايَا؟ فَأَشَارَ بِيَدِهٖ فَقَالَ: “أَرْبَعًا الْعَرْجَاءُ وَالْبَيِّنُ ظَلْعُهَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقٰى” . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيْ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1465 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت ابوسعیدسے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سینگ والے بکرے کی قربانی کرتے تھے جو سیاہی میں دیکھے،سیاہی میں کھائے اورسیاہی میں چلے ۱∞؎(ترمذی،ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ يَنْظُرُ فِي سَوَادٍ وَيَأْكُلُ فِي سَوَادٍ وَيَمْشِي فِي سَوَادٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1466 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت مجاشع سے جوبنی سلیم سے ہیں ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بھیڑ کاشش ماہیہ بچہ اس میں کفایت کرتا ہے جس میں بکری کا ایک سالہ بچہ کافی ہو۲؎(ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْ مَجَاشِعٍ مِنْ بَنٰى سُلَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: “إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ” . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1467 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتےہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا بھیڑ کے شش ماہے بچہ کی قربانی اچھی ہے ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:”نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذْعُ مِنَ الضَّأْنِ”. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1468 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفرمیں تھے ۱∞؎کہ بقرعید آگئی تو ہم گائے میں سات اور اونٹ میں دس آدمی شریک ہوگئے ۱∞؎(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَ الْأَضْحٰى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةٌ وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيْ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1469 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انسان بقرعید کے دن کوئی ایسی نیکی نہیں کرتا جو خون بہانے سے خدا کو زیادہ پیاری ہو ۱∞؎یہ قربانی قیامت میں اپنے سینگوں بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گی ۲؎اورخون زمین پرگرنے سے پہلے الله کے ہاں قبول ہوجاتاہے لہذا خوش دلی سے قربانی کرو۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ يَوْمَ النَّحْرِ أَحَبَّ إِلَى اللهِ مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَإِنَّهٗ لَيُؤْتٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَإِنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ الله بمَكَانٍ قَبْلَ أَن يَقَعَ بِالْأَرْضِ فَطَيِّبُوا بهَا نَفْسًا”. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1470 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کوئی زمانہ ایسا نہیں جس میں خدا تعالٰی کو اپنی بقرعید کے عشرہ کی عبادت سے زیادہ پیاری ہو اس زمانہ کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابرہوتاہے اور اس کی ہر رات کا قیام شبِ قدر کے قیام کے برابر ۱∞؎(ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہے ۲؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهٗ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ” .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ إِسْنَادُهٗ ضَعِيفٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1471 ، باب : قربانی کابيان

روایت ہے حضرت جندب ابن عبد الله سے فرماتے ہیں کہ میں بقرعید یعنی قربانی کے دن حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ حاضرہوا تو ابھی آپ نمازسے آگے نہ بڑھتے تھے نماز سے فارغ ہوتے ہی تھے سلام ہی پھیرا تھا کہ قربانیوں کے گوشت دیکھے جو آپ کے نماز سے فارغ ہونےسے پہلے ذبح کردی گئی تھیں ۱∞؎تو فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے یا ہماری نماز سے پہلے ذبح کرلیا ہوتو وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بقرعید کے دن نماز پڑھی پھرخطبہ پڑھا پھرقربانی کی اور فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اورجس نے قربانی نہ کی ہوتو وہ الله کے نام پر قربانی کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

عَن جُنْدُب بن عبد الله قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحٰى يَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعْدُ أَن صَلّٰى وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهٖ وَسَلَّمَ فَإِذا هُوَ يَرٰى لَحْمَ أَضَاحِيٍّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرَغَ مِنْ صَلَاتِهٖ فَقَالَ: “مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرٰى” . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ صَلّٰى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ: “مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيَذْبَحْ أُخْرٰى مَكَانَهَا وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللهِ”(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 1472 ، باب : قربانی کابيان