باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں: ”حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھروالوں نے مسلسل دو دن بھی جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوگیا۔‘‘ دوسری روایت میں ہےکہ”جب سے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینے تشریف لائے اُس وقت سے آپ کے گھر والوں نے مسلسل تین راتیں بھی گندم کی روٹی نہ کھائی یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوگیا۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، حَتّٰى قُبِضَ.وَفِی رِوَایَۃٍ: مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 491 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرت سیدنا عُروہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِااُن سے فرمایا کرتی تھیں: ”اے بھانجے!اللہکی قسم! ہم چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے، پھر چاند دیکھتے، دو مہینوں میں تین بار چاند دیکھتے اور اِس دوران رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کاشائہ اقدس میں چولہانہ جلتا۔‘‘ حضرتِ سیدناعُروہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے پوچھاکہ ”پھر آپ لوگوں کا گزارہ کیسے ہوتا تھا؟“فرمایا:”دو سیاہ چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔البتہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے پاس دودھ دینے والی اونٹنیاں تھیں وہ اُن کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے تو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں پلا دیتے ۔

عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا اَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: وَاللهِ يَا ابْنَ اُخْتِي اِنْ كُنَّا لَنَنْظُرُ اِلَى الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ اَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا اُوْقِدَ فِي اَبْيَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ قَالَ: قُلْتُ: يَا خَالَةُ فَمَا كَانَ يُعَيِّشُكُمْ؟ قَالَتْ: اَلْاَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ اِلَّا اَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنَ الْاَنْصَارِ وَكَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ فَكَانُوا يُرْسِلُونَ اِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 492 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرت سیدنا ابو سعیدمَقْبُری رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسےمروی ہے کہ ایک دن حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُایک قوم کے پاس سے گزرے، اُن کے درمیان ایک بھنی ہوئی بکری رکھی تھی انہوں نے آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو دعوت دی تو آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کھانے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: ’’رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے پردہ فرماگئے اور آپ نے کبھی جَو کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔“

عَنْ اَبي سَعِيدٍ ا لْمَقْبُرِىِّ عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ اَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَدَعَوْهُ فَاَبىٰ اَنْ يَّاْكُلَ وَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِير.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 493 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی دسترخوان پر کھانا نہیں کھایا اورنہ ہی کبھی باریک نرم روٹی ( چپاتی)کھائی حتی کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموصال فرماگئے۔‘‘بخاری کی ایک روایت میں ہےکہ”آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کبھی بھنی ہوئی بکری ملاحظہ نہ فرمائی ۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ لَمْ يَاْكُلِ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی خِوَانٍ حَتّٰى مَاتَ، وَمَا اَكَلَ خُبْزًا مُرَقَّقًا حَتّٰى مَاتَ.وَفِی رِوَایَۃٍ لَہُ: وَلَا رَاٰی شَاۃً سَمِیْطًا بِعَیْنِہِ قَطُّ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 494 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”میں نے تمہارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواس حال میں دیکھاکہ انہیں ردی کھجوریں بھی پیٹ بھر میسر نہ ہوتیں ۔‘‘

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَقَدْ رَاَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَاُ بِهِ بَطْنَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 495 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناسہل بن سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب سےاللہ عَزَّوَجَلَّنے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مبعوث فرمایا ہے اس وقت سے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میدہ نہیں دیکھا یہاں تک کہاللہتعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔“پوچھا گیا: ” کہ یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں آپ لوگوں کے پاس چھلنیاں ہوتی تھیں؟“∞حضرت سہل بنسعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا: ”جب سےاللہ عَزَّوَجَلَّنے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مبعوث فرمایا ہے اس وقت سے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چھلنی نہیں دیکھی یہاں تک کہاللہتعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔“پوچھا گیا:”آپ لوگ جَو کو چھانے بغیر کیسے کھاتے تھے؟“حضرت سہلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے جواب دیا:”ہم جَو کو پیستے تھے اور پھونک مارتے تھے جوکچھ اُڑنا ہوتا تھا وہ اُڑ جاتا تھا اور جو باقی بچتا تھا اس کو گوندھ لیتے تھے۔“

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: مَا رَاٰى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِىَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالٰی حَتّٰی قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالٰی. فَقِیْلَ لَہُ: هَلْ كَانَ لَكُمْ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟ قَالَ: مَا رَاٰى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالٰی حَتّٰى قَبَضَهُ اللہ تَعَالٰی. فَقِیْلَ لَہُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِىَ ثَرَّيْنَاهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 496 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” ایک مرتبہ رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدن یا رات کے وقت کاشانہ ٔاقدس سےباہر تشریف لائے تو سیدنا صدیق اکبر ا ور سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوموجودپایا۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا: ”اِس وقت تمہیں کس چیز نے اپنے گھروں سے باہر نکالا؟“عرض کی:”بھوک نے،یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم“ αفرمایا:” αاُس ذات کی قسم ہے جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!مجھے بھی وہی چیز(یعنی بھوک) باہر لائی جس کے سبب تم باہر آئے ہو ۔اٹھو! میرےساتھ چلو!“ پھر دونوں حضرات رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ چلے اور ایک انصاری صحابیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے گھر پہنچے، اُس وقت وہ گھر پرموجود نہ تھے ، اُن کی زوجہ ٔمحترمہ نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو بولیں: ”خوش آمدید۔“حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن سے دریافت فرمایا:” فلاں کہاں ہے؟“عرض کی: وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ اتنے میں وہ انصاری صحابی بھی آگئے، انہوں نے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا:”اَلْحَمْدُللہ!آج مجھ سے زیادہ بہتر مہمانوں والا کوئی نہیں۔“پھر وہ چلے گئے اوران حضرات کے پاس کھجوروں کا گچھا لائے جس میں اَدھ پکی ہوئی خشک اور تازہ کھجوریں تھیں اور عرض کی: تناول فرمائیےاور چُھری اٹھائی(تاکہ بکری ذبح کریں)۔رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا!“پس اس نےان حضرات کے لیے بکری ذبح کی، انہوں نے اس بکری اور کھجوروں میں سے کھایااور پانی پیا جب سیر ہوگئے تو رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صدیقِ اکبر اور فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے فرمایا: ”اُس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں میری جان ہے! بے شک!کل بروزِقیامت تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا،تمہیں بھوک نےگھروں سے نکالا پھرتم گھرکوواپس نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمتیں حاصل ہوئیں۔“وہ اَنصاری صحابی جن کے پاس آپعَلَیْہِ السَّلَامتشریف لائے، وہ حضرتِ سَیِّدُنااَبُو الْهَيْثَم بن التَّيِّهَانِ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُتھے جیسا کہ ترمذی وغیرہ کی روایت میں صراحتاً مذکور ہے۔

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ اَوْ لَيْلَةٍ فَاِذَا هُوَ بِاَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا، فَقَالَ:”مَا اَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُو تِكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟“ قَالَا: الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:”وَاَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَاَخْرَجَنِي الَّذِي اَخْرَجَكُمَا قُوْمَا!‘‘ فَقَامَا مَعَهُ، فَاَتٰی رَجُلًا مِنَ الْاَنْصَارِ فَاِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهِ فَلَمَّا رَاَتْهُ الْمَرْاَةُ، قَالَتْ: مَرْحَبًا وَاَهْلًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:”اَيْنَ فُلَانٌ؟“ قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ اِذْ جَاءَ الْاَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ اِلٰی رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا اَحَدٌ الْيَوْمَ اَكْرَمَ اَضْيَافًا مِّنِّي فَانْطَلَقَ، فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوْا وَاَخَذَ الْمُدْيَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”اِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ“ فَذَبَحَ لَهُمْ فَاَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذَالِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا اَنْ شَبِعُوا وَرَوُوْا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِاَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا:”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُسْاَلُنَّ عَنْ هَذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتّٰى اَصَابَكُمْ هَذَا النَّعِيمُ.“وَهَذَا الاَنْصَارِيُّ الَّذِي اَتَوْهُ هُوَ اَبُو الْهَيْثَم بن التَّيِّهَانِ رَضِیَ اللہ عَنْہُ، كَذَا جَاءَ مُبَيَّنًا فِی رِوَايَةِ التِّرْمِذِي وَغَيْرِه .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 497 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرت سیدنا خالِد بن عمیر عدویرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : امیرِ بصرہ حضرت سیدنا عتبہ بن غزوانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ہمیں خطبہ دیا اوراللہتعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا:”اَمَّا بَعْد!بے شک! دنیا اپنے فنا ہونے کا اِعلان کر چکی، وہ پیٹھ پھیر کربہت تیزی سے جارہی ہے اور اب صرف اتنی باقی رہ گئی ہے جتنا برتن میں بچا ہوا پانی (جسے پینے والا چھوڑدیتاہے۔) تم اس فانی دنیا سےباقی رہنے والے گھر کی طرف جارہے ہو، لہٰذااپنی بہترین چیز ساتھ لے کر جاؤ،بیشک ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”اگرجہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے اور وہ ستر سال تک گرتا رہے تب بھی جہنم کی تہہ تک نہ پہنچ سکےگا۔“ خدا کی قسم! اس جہنم کو ضرور بھر ا جائے گا، کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ جنت کی چوکھٹوں میں سے دو چوکھٹوں کا درمیانی فاصلہ چالیس سال کی مسافت ہے اور ایک دن ایسا آئے گا وہ دروازہ لوگوں کے رش کی وجہ سے بھر جائے گا۔بے شک !میں نے وہ وقت بھی دیکھا جب ہم سات اشخاص رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے اور ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا کھانے کو کچھ نہ تھا، پتے کھانے کی وجہ سے ہمارے جبڑے زخمی ہوگئے۔ مجھے ایک چادر ملی تو اس کے دو حصے کر کےآدھی میں نے بطور ِتہبند استعمال کی اور آدھی سعد بن مالکرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے۔( ہم نے ایسی تنگی بھی دیکھی)اور آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی شہر کا حاکم ہے۔ میںاللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بڑاسمجھوں اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں حقیر ہوں۔“

عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ وَ كَانَ اَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنٰی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ!فَاِنَّ الدُّنْيَا قَدْ اٰذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا اِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْاِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَ اِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا اِلٰى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَابِحَضْرَ تِكُمْ فَاِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا اَنَّ الْحَجَرَ يُلْقٰی مِنْ شَفِیْرِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا وَاللهِ لَتُمْلَاَنَّ اَفَعَجِبْتُمْ؟ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا اَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ اَرْبَعِينَ عَامًا وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَاَ يْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ اِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتّٰى قَرِحَتْ اَشْدَاقُنَا فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا فَمَا اَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا اَحَدٌ اِلَّا اَصْبَحَ اَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْاَمْصَارِ وَإِنِّي اَعُوذُ بِاللهِ اَنْ اَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللهِ صَغِيرًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 498 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہمیں اُمُّ المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِانےایک چادر اور موٹا تہبند نکال کر دکھایا اورفرمایا:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رُوح اِن دو کپڑوں میں قبض ہوئی۔“

عَنْ اَبِى مُوْسَی الْاَشْعَرِیْ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ اَخْرَجَتْ لَنَا عَائِشَةُ كِسَاءً وَ اِزَارًا غَلِيظًا قَالَتْ قُبِضَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى هٰذَيْنِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 499 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ” میں وہ پہلا عربی مَرد ہوں جس نے راہِ خدا میں تیر پھینکا، ہم رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےہمراہ جہاد کرتے تھے اور ہمارے پاس کیکرکےدرخت کے پتوں اور کیکرکے بیج کےسوا کھانے کو کچھ نہ ہوتا تھا، حتی کہ ہم میں سے کوئی قضائے حاجت کرتا تو وہ بکری کی خشک مینگنیوں کی طرح ہوتی ۔“

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِي وَقَّاصٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: اِنِّى لَاَ وَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم مَا لَنَا طَعَامٌ اِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ حَتّٰی اِنْ کَانَ اَحَدُنَا لَیَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ مَا لَهُ خِلْطٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 500 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےاللہ!آلِ محمد(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو صرف اتنا رزق عطا فرما جس سے وہ زندہ رہ سکیں۔“

عَنْ اَبِي هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 501 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” اُس ربِّ کریمعَزَّوَجَلَّکی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میں شدّتِ بھوک سے اپنے جگر(پیٹ) کو زمین سے لگالیتا اور بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا ، ایک دن میں اُس راستے پر بیٹھ گیا جہاں سےلوگ گزرتے تھے، حضرت سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُوہاں سے گزرےتو میں نے ان سےکتابُ اللہکی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا اور میرے سوال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مجھے پیٹ بھر کر کھانا کھلائیں مگر وہ چلے گئے اور انہوں نے ایسا نہیں کیا، پھر حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُوہاں سے گزرے، میں نے ان سے بھی اسی مقصد کے تحتکتابُ اللہکی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا مگروہ بھی چلے گئے اور انہوں نے بھی ایسا نہیں کیا۔پھرمیرے پاس سے نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگزرے جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مسکرا دئیےاور جو کچھ میرے چہرے پر(بھوک کے) اثرات تھے اور جو میرے اندر کی کیفیت تھی اسےآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھانپ گئے۔فرمایا: ”اے ابو ھِرّ!“ میں نے عرض کی: ”لَبَّیْکیَارَسُوْلَاللہ!“ فرمایا:”چلو“ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچلے اور میں آپ کے پیچھے چل دیا، آپ کاشانہ ٔ اقدس میں داخل ہوگئے میں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی پھر میں بھی اندر داخل ہوا، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے گھر میں ایک پیالے میں دودھ موجود پایا توپوچھا: ”یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟“ گھر والوں نے عرض کی: ”یہ فلاں شخص یا فلاں عورت نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا ہے۔“حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اے ابو ھِر!“میں نے عرض کی: ”لَبَّیْکیَارَسُوْلَاللہ!“ فرمایا: ”اہلِ صُفّہ کے پاس جاؤ،انہیں میرے پاس بلالاؤ۔“ حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”اہلِ صفہ اسلام کے مہمان تھے نہ ان کے کوئی اہل و عیال تھے نہ ان کے پاس مال تھا اور نہ وہ کسی کے پاس جاتے تھے،حضور نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس جب کوئی صدقہ آتا تو آپ اسے اصحابِ صفہ کے پاس بھیج دیتے اور خود اُس میں سے کچھ نہ لیتے اور جب کوئی ہدیہ آتا تو اصحابِ صفہ کو بھی دیتے اور خود بھی اُس میں سے لے لیتےاور انہیں بھی اس میں شریک کرتے۔ (حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں) مجھے یہ بات گراں محسوس ہوئی تومیں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اِس دودھ سے اہلِ صفہ کا کیا ہوگا؟میں اس بات کا زیادہ حقدار تھا کہ یہ سارا دودھ مجھے پینے کیلئے دیا جاتاتاکہ میں کچھ قوّت حاصل کرتا، پس جب اہلِ صفہ آجائیں گے اور حضور مجھے حکم ارشاد فرمائیں گےتو میں انہیں یہ پیالہ دے دونگا اور مجھے نہیں لگتا کہ اس دودھ سے مجھے کچھ بھی ملے گا۔اوراللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کے رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت بھی ضروری ہے چنانچہ میں اہلِ صفہ کے پاس آیا اور انہیں بلایا، وہ آگئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اجازت دے دی، وہ اندر آکر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے،حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اے ابوھِر!“ میں نے عرض کی: ”لَبَیَّکیَارَسُوْلَاللہ!“ فرمایا: ”یہ پیالہ لو اور اِن کو دو۔“ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں:” میں نے وہ پیالہ لیا اورایک ایک کو دینے لگا پس وہ دودھ پیتا اور خوب سیر ہوجاتاتو مجھے پیالہ واپس کردیتا پھر میں دوسرے کو دیتا وہ پیتا یہاں تک کہ خوب سیر ہوجاتا پھر وہ مجھے پیالہ واپس کردیتا پھر تیسرا شخص دودھ پیتا حتّٰی کہ وہ سیر ہوجاتا پھر وہ مجھے پیالہ واپس کردیتا، حتّٰی کہ وہ پیالہ نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس پہنچا اور سب لوگ سیر ہوچکے تھے، آپ نے پیالہ اپنے دستِ مبارک میں لیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے، پھر فرمایا: ”اے ابا ھِر!“میں نے عرض کی: ”لَبَّیْکَیَارَسُوْلَاللہ!“فرمایا:”اب صرف ہم دونوں باقی رہ گئے ہیں۔“میں نےعرض کی:”یَارَسُوْلَ اللہآپ نے سچ فرمایا۔‘‘فرمایا:”بیٹھوپھر پیو۔“حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں:میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” اور پیو۔“ پس میں نے پیا۔ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہی فرماتے رہے:”اور پیواور پیو۔“حتی کہ میں نے عرض کی:”نہیں،اُس ذات کی قسم جس نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا!اب مزیدکی گنجائش نہیں۔“آپ نے فرمایا: ”لاؤ مجھے دو۔“پس میں نے وہ پیالہ پیش کردیا،حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاللہ عَزَّوَجَلَّکی حمدکی اوربِسْمِ اللہپڑھی پھر باقی دودھ نوش فرمالیا۔

عَنْ اَبِيْ هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: وَاللَّهِ الَّذِى لَا اِلَهَ اِلَّا هُوَ اِنْ كُنْتُ لَاَعْتَمِدُ بِكَبِدِى عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْجُوعِ ، وَ اِنْ كُنْتُ لَاَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِى مِنَ الْجُوعِ ، وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِى يَخْرُجُونَ مِنْهُ، فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيُشْبِعَنِي، فَمَرَّ فَلَمْ يَفْعَلْ، ثُمَّ مَرَّ بِى النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَاٰنِى وَعَرَفَ مَا فِى وَجْهِى وَمَا فِى نَفْسِى ثُمَّ قَالَ:”اَبَا هِرٍّ “. قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:”الْحَقْ“. وَمَضٰى فَاتَّبَعْتُهُ، فَدَخَلَ فَاسْتَأْذِنُ، فَاَذِنَ لِى فَدَخَلْتُ، فَوَجَدَ لَبَنًا فِى قَدَحٍ فَقَالَ:”مِنْ اَيْنَ هٰذَا اللَّبَنُ“. قَالُوْا: اَهْدَاهُ لَكَ فُلاَنٌ اَوْ فُلَانَةٌ. قَالَ: ”اَبَا هِرٍّ “. قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: ”الْحَقْ اِلٰی اَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِى“. قَالَ: وَاَهْلُ الصُّفَّةِ اَضْيَافُ الْاِسْلَامِ ، لَا يَأْوُوْنَ عَلَی اَهْلٍ وَلَا مَالٍ، وَلَا عَلٰی اَحَدٍ،وَکَانَ اِذَا اَ تَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا اِلَيْهِمْ، وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا، وَ اِذَا اَ تَتْهُ هَدِيَّةٌ اَرْسَلَ اِلَيْهِمْ، وَاَصَابَ مِنْهَا وَاَشْرَكَهُمْ فِيهَا، فَسَآءَنِى ذَالِكَ، فَقُلْتُ:وَمَا هَذَا اللَّبَنُ فِى اَهْلِ الصُّفَّةِ كُنْتُ اَحَقّ اَنْ اُصِيبَ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ شَرْبَةً اَتَقَوَّى بِهَا، فَاِذَا جَاؤُا وَاَمَرَنِى فَكُنْتُ اَنَا اُعْطِيْهِمْ ، وَمَا عَسٰى اَنْ يَّبْلُغَنِى مِنْ هٰذَا اللَّبَنِ، وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدٌّ، فَاَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَاَقْبَلُوا، وَاسْتَأْذَنُوا فَاَذِنَ لَهُمْ، وَاَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنَ الْبَيْتِ قَالَ:”يَا اَبَا هِرٍّ “. قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَارَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:”خُذْ فَاَعْطِهِمْ“. قَالَ: فَاَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ اُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَىَّ الْقَدَحَ، فَاُعْطِيهِ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَىَّ الْقَدَحَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَرُدُّ عَلَىَّ الْقَدَحَ، حَتَّى انْـتَهَيْتُ اِلَى النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوِىَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ، فَاَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ فَنَظَرَ اِلَىَّ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ:” اَبَا هِرٍّ “. قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَارَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:” بَقِيتُ اَنَا وَاَنْتَ“.قُلْتُ صَدَقْتَ يَارَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:”اقْعُدْ فَاشْرَبْ“. فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ. فَقَالَ: ”اشْرَبْ “. فَشَرِبْتُ، فَمَا زَالَ يَقُولُ:”اشْرَبْ“.حَتَّى قُلْتُ لَا وَالَّذِى بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا اَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا. قَالَ:”فَاَرِنِى“. فَاَعْطَيْتُهُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالٰی وَسَمَّى وَشَرِبَ الْفَضْلَةَ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 502 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

امام محمد بن سیرینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمُبِیْنسے مروی ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :”بے شک میں منبرِ رسولصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حُجرۂ عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکے درمیان غش کھاکر گر جاتا، گزرنے والا یہ سمجھ کر اپنا پاؤں میری گردن پر رکھ دیتا کہ اسے جنون لاحق ہوگیا ہےحالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا بلکہ بھوک کی شدت سے یہ حالت ہواکرتی تھی۔“

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ :لَقَدْ رَ اَيْتُنِى وَ اِنِّى لَاَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلىٰ حُجْرَ ةِ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہَا مَغْشِيًّا عَلَىَّ، فَيَجِىءُ الْجَائِى فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِى وَيَرَى اَنِّى مَجْنُونٌ وَمَا بِى مِنْ جُنُونٍ مَا بِى اِلَّا الْجُوعُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 503 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

ام المومنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:”جب رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہواتو اُس وقت آپ کی زِرہ مبارکہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَوکے عوض گِروی رکھی ہوئی تھی۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہَا قَالَتْ تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِىٍّ فِي ثَلاَثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 504 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی زِرہ جَو کے عوض رَہن رکھوائی ہوئی تھی اور میں آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں جَو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی لے کر حاضر ہوا، میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:”آلِ محمد کےلیے نہ صبح ایک صاع ہوتا ہے نہ شام کو۔‘‘اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہلِ بیت میں نو(9) گھر تھے۔

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: رَهَنَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِرْعَهُ بِشَعِيرٍ ، وَمَشَيْتُ اِلىَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:”مَا اَصْبَحَ لآلِ مُحَمَّدٍ صَاعٌ وَلَا اَمْسَى.“ وَإِنَّهُمْ لَتِسْعَةُ اَبْيَاتٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 505 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں نے ستّر اصحابِ صُفّہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے پاس بھی چادر نہ تھی،صرف تہبند یا کمبل ہوتا تھا،جسےاپنی گردن میں باندھے رکھتے۔ بعض کا تہبند آدھی پنڈلی تک پہنچتا تھا تو بعض کا ٹخنوں تک اور وہ اُسے اپنے ہاتھوں سے سمیٹے رکھتےاس ڈر سے کہ کہیں سَتْر ظاہر نہ ہوجائے ۔ “

عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ سَبْعِينَ مِنْ أَھْلِ الصُّفَّةِ ، مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ ، اِمَّا اِزَارٌ وَاِمَّا كِسَاءٌ ، قَدْ رَبَطُوا فِى اَعْنَاقِهِمْ ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ، فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ ، كَرَاهِيَةَ اَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 506 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا بچھونا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔“

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہَا قَالَتْ كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَدَمٍ حَشْوُهُ لِيْفٌ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 507 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”ہم ایک مرتبہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری صحابی آئے اور بارگاہِ رسالت میں سلام عرض کیا، جب وہ جانے لگے تو رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اے انصاری بھائی! میرے بھائی سعد بن عبادہ کا کیا حال ہے؟“عرض کی:”وہ ٹھیک ہیں۔“حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”تم میں سے کون اُس کی عیادت کرے گا؟“یہ فرما کر آپعَلَیْہِ السَّلَامکھڑے ہوئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، ہم دس سے کچھ زیادہ تھے، نہ ہمارے پاس چپلیں تھیں ،نہ موزے ٹوپیاں اور نہ ہی قمیص۔ ہم سخت بنجر زمین پر چل رہے تھے جب ہم سعد بن عبادہ کے گھر پہنچے توان کے پاس موجود لوگ پیچھے ہٹ گئےیہاں تک کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور ساتھ آنے والے اَصحاب سعد بن عُبادہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے قریب ہوگئے۔“

عَن ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ اَدْبَرَ الْاَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا اَخَا الْاَنْصَارِ! كَيْفَ اَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟، فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟“ فَقَامَ، وَقُمْنَا مَعَهُ، وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ، وَلَا خِفَافٌ، وَلَا قَلَانِسُ، وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتّٰى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْ لِهِ، حَتّٰى دَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 508 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عمران بن حُصینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہےکہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ ہیں جو اُن سے قریب ہوں، پھر وہ لوگ جو اُن سے قریب ہوں۔“حضرت عمران بن حصینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ)دو بار فرمایا یا تین بار۔ ارشاد فرمایا: ”پھر اُن کے بعد ایسی قوم ہوگی جو گواہی دے گی حالانکہ اس سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور وہ خیانت کرے گی اورانہیں امانت دارنہیں سمجھا جائے گا، نذر مانے گی اورنذر پوری نہ کرے گی اور اُن میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔“

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الحُصَيْن رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّہُ قَالَ:”خَيْرُكُمْ قَرْنِى، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ.“ قَالَ عِمْرَانُ فَمَا اَدْرِیْ قَالَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَیْنِ اَوْ ْ ثَلَاثًا. ”ثُمَّ یَکُوْنُ بَعْدَہُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوْفُوْنَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ.“

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 509 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ”اے ابن آدم!ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنا تیرے لیے بہترہےاور اُسے روک لینا تیرے لیے بُرا ہےاور بقدرِ ضرورت پر تجھے ملامت نہ کی جائے گی اور (خرچ کرنے میں) اپنے اہل و عیال سے ابتدا کر۔“

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ اٰدَمَ! اِنَّكَ اَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ وَاَنْ تُمْسِكَهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلٰی كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 510 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان