باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرتِ سَیِّدُناعُبَیْدُ اللہ بن مِحصَنانصاری خَطمیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” تم میں سے جس نے اس حال میں صبح کی کہ اُسے اپنی جان کی طرف سے کوئی خوف نہ ہو، جسم تندرست ہو اور اُس کے پاس ایک دن کا رزق ہو تو گویا کہ پوری دنیا اُس کے لیے جمع کردی گئی۔‘‘

عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْاَنْصَارِیِّ الْخَطْمِيِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ اَصْبَحَ مِنْكُمْ اٰمِنًا فِي سِرْبِهِ،مُعَافًى فِي جَسَدِهِ،عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَاَنَّمَا حِيْزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِیْرِھَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 511 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:” کامیاب ہے وہ شخص جو اسلام لایا اور اُس کے پاس بقدرِ کفایت رِزق ہو اوراللہ عَزَّوَجَلَّنے اُسے اپنے دئیے پر قناعت عطا فرمائی ہو۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا، اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:”قَدْ اَفْلَحَ مَنْ اَسْلَمَ، وَکَانَ رِزْقُہُ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللهُ بِمَا آتَاهُ.“

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 512 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو محمد فضالہ بن عُبَید انصاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ انہوں نے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے ہوئے سنا:”خوشخبری ہے اس کے لیے جسے اسلام کی ہدایت ملے،گزر بسر ضرورت کے مطابق ہو اوروہ قناعت اختیار کرے۔“

عَنْ اَبِيْ مُحَمَّدٍ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدِالْاَنْصَاريِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:”طُوبیٰ لِمَنْ هُدِيَ اِلَى الْاِسْلَامِ، وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ.“

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 513 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرت عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ رسولِ اکرم ، نورِ مُجَسّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکئی کئی راتیں مسلسل بھوک کی حالت میں گزارتے، آپ کے گھروالوں کے پاس رات کا کھانا نہ ہوتا اور عام طور پر اُن حضرات کی خوراک جَو کی روٹی ہواکرتی تھی۔

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ اللَّيَالِي المُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا، وَاَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً، وَكَانَ اَكْثَرُ خُبْزِ هِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 514 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا فضالہ بن عُبَیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کو نماز پڑھارہے ہوتے اور کچھ لوگ حالتِ قیام ہی میں بھوک کی شدت سے گر جاتے، یہ اَصحابِ صفہ تھے، یہاں تک کہ بعض اَعرابی کہتے کہ انہیں جنون لاحق ہوگیا ہے۔ جب رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے فارغ ہوتے تو اُن کی طرف متوجہ ہوکر ارشاد فرماتے:”اگر تمہیں پتا چل جائے کہاللہتعالیٰ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجر ہے تو تم خواہش کرو کہ تمہارا فاقہ اور محتاجی مزید بڑھ جائے۔“

عَنْ فُضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ: اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا صَلَّى بِالنَّاسِ، يَخِرُّ رِجَالٌ مِنْ قَامَتِهِمْ فِی الصَّلاةِ مِنَ الْخَصَاصَةِ وَهُمْ اَصْحَابُ الصُّفَّةِ حَتَّى يَقُوْلَ الاَعْرَابُ: هٰؤُلٓاءِ مَجَانِيْنُ. فَاِذَا صَلَّی رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ اِلَيْهِمْ، فَقَالَ:”لَوْ تَعْلَمُونَ مَا لَكُمْ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰی، لَاَحْبَبْتُمْ اَنْ تَزْدَادُوْا فَاقَةً وَحَاجَةً.“

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 515 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو کُرَیْمہ مِقدام بن مَعْدِیکَرَبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نےحضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا ہے:”آدمی نے اپنے پیٹ سے زیادہ بُرا برتن نہیں بھرا، ابن آدم کو چند لقمے ہی کافی ہیں جو اُس کی پیٹھ کو سیدھا کردیں۔ اگرزیادہ کھانا ضروری ہو تو (پیٹ کا) تہائی حصہ کھانے کے لیے، تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے رکھے۔“

عَنْ اَبيْ كُرَيْمَةَ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يْكَرَبَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ”مَا مَلأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَاِنْ كانَ لَا مَحَالةَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ، وَثُلُثٌ لِشَرابِهِ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ.“

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 516 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو اُمامہ اِیاس بن ثعلبہ انصاریرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” ایک دن رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے صحابہ کرام نے دنیا کا ذکر کیا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ” کیا تم سنتے نہیں؟ کیا تم سنتے نہیں؟ بے شک!سادگی میں رہنا اِیمان کا حصہ ہے، بے شک!سادگی میں رہنا اِیمان کا حصہ ہے۔“ یعنی لباس وغیرہ میں سادگی برتنا اِیمان کا حصہ ہے۔

عَنْ اَبِيْ اُمَامَة اِيَاسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الاَنْصَارِيِّ الْحَارِثيِّ رَضِیَ اللہ عَنْہُ قَالَ: ذَكَرَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومًا عِنْدَهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:” اَلاَ تَسْمَعُوْنَ؟ اَلَا تَسْمَعُونَ؟ اِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْاِيمَانِ، اِنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْاِيْمَانِ“ يَعْنِي: التَّقَحُّلَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 517 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو عبداللہجابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ہمیں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قریش کے ایک قافلے کے مقابلے میں بھیجا اورحضرت ابو عبیدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکو ہمارا امیر مقرر فرمایا اور ہمیں کھجوروں کی ایک تھیلی بطورِ زادِ راہ عنایت فرمائی کیونکہ اُس وقت ان کھجوروں کے علاوہ کوئی اورچیزمیسر نہ تھی۔حضرت سیدناابو عبیدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُہمیں روزانہ ایک کھجور دیتے تھے۔(راوی سے) پوچھا گیا کہ آپ لوگ ایک کھجور پر کیسے گزارہ کرتے تھے؟ فرمایا: ’’ہم اُسے چوستے تھے جیسے چھوٹا بچہ چوستا ہے ،پھر اس کے اوپر پانی پی لیتے تو وہ ہمیں صبح سے رات تک کفایت کرجاتی تھی اور ہم اپنی لاٹھیوں سے پتے توڑتے اور پانی میں بھگوکر کھالیتے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ ہم سمُندر کے کَنارے چل رہے تھے اچانک کَنارے پرٹیلے کے برابر کوئی چیز نمودار ہوئی ہم اُس کے پاس گئے تو وہ ایک بہت ہی بڑا جانور تھا جسے’’عنبر‘‘ کہا جاتا ہے۔( یہ مچھلی کی ایک قسم ہے)حضرت ابو عُبَیْدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنےفرمایا:”یہ مردار ہے۔“ پھر فرمایا: نہیں،بلکہ ہم رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بھیجے ہوئے اور راہِ خدا کے مسافرہیں اور تم لوگ اِضطراری حالت میں ہو،پس تم لوگ کھاؤ۔ پھر ہم ایک مہینے تک اُس مچھلی سے کھاتے رہے ہم تین سو اَفراد تھے حتی کہ ہم سب صحت مند ہوگئے، مجھے یاد ہے کہ ہم اُس کی آنکھ کے ڈھیلے سے مٹکے بھر بھر کر چربی نکالتے تھے اور بیل کی جسامت کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے، حضرت ابو عُبیدہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو اُس کی آنکھ میں بٹھادیا، ہم نے اُس کی ایک پسلی کو لیکر کھڑا کیا پھر ایک بڑے اونٹ پر کجاوہ رکھا تو وہ اُس پسلی کے نیچے سے نکل گیا، واپسی پر ہم نےاس گوشت کے خشک ٹکڑے اپنے ساتھ لے لیے۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر سارا واقعہ عرض کیا،آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”وہ رزق تھا جواللہتعالیٰ نے تمہارے لیے ظاہر فرمایا تھا ،اگر تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ۔“پھر ہم نے اس کا گوشت حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پیش کیا تو آپ نے اسے تناول فرمایا۔

عَنْ اَبي عَبْدِ الله جَابِر بِنْ عَبْدِ اللهِ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَمَّرَ عَلَيْنَا اَبَا عُبَيْدَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ نَتَلَقّٰى عِيْرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ يَجِدْ لَنَا غَيْرَهُ، فَكَانَ اَبُوْ عُبَيْدَةَ يُعْطِيْنَا تَمْرَةً تَمْرَةً، فَقِيْلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُوْنَ بِهَا؟ قَالَ: نَمَصُّهَا كَمَا يَمَصُّ الصَّبيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِيْنَا يَوْمَنَا اِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصيِّنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْماءِ فَنَأْكُلُهُ. قَالَ: وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَاَتَيْنَاهُ فَاِذَا هِيَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ ، فَقَالَ اَبُوْ عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيْ سَبِيْلِ الله وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ فَكُلُوْا، فَاَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلاَثُ مِائَةٍ حَتّٰی سَمِنَّا، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْتَرِفُ مِن وَقْبِ عَيْنِهِ بِالْقِلَالِ الدُّهْنَ وَنَقْطَعُ مِنْهُ الْفِدَرَ كالثَّوْرِ اَوْ كَقَدْرِ الثَّوْرِ، وَلَقَدْ اَخَذَ مِنَّا اَبُوْ عُبَيْدَةَ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَاَقْعَدَهُمْ في وَقْبِ عَيْنِهِ وَاَخَذَ ضِلَعًا مِنْ اَضْلَاعِهِ فَاَقَامَهَا ثُمَّ رَحَلَ اَعْظَمَ بَعِيْرٍ مَعَنَا فَمَرَّ مِنْ تَحْتِهَا وَتَزَوَّدْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَشَائِقَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ اَتَيْنَا رَسُوْلَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذٰلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ”هُوَ رِزْقٌ اَخْرَجَهُ اللهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُوْنَا“ فَاَرْسَلْنَا اِلٰی رَسُوْلِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَاَكَلَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 518 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدَتُنااسماء بنت یزیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں:”رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قمیص کی آستین کلائی تک تھی۔“

عَنْ اَسْمَاءَ بنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللہ عَنْهَا قَالَتْ: كانَ كُمُّ قَمِيْصِ رَسُوْلِ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِلَى الرُّصْغِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 519 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرت سیدنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:” خندق کے دن ہم لوگ خندق کھود رہے تھے تو ایک بڑی چٹان آڑے آگئی، صحابہ ٔ کرام نے بارگاہِ رسالت میں حاضرہوکر عرض کی: ”یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ایک چٹان آڑے آگئی ہے۔“ فرمایا:”میں آتا ہوں۔ “پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوئے حالانکہ آپ کے شکم مبارک پر پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم نےتین دن سے کچھ کھایا نہ تھا۔ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کُدال اُٹھایا اور ایک ضرب لگائی تو وہ پتھر رَیت کی طرح بکھر گیا (حضرت جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں) میں نے عرض کی:”یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے گھر جانے کی اجازت مرحمت فرمائیے۔“پھر گھر آکر میں نے اپنی زوجہ سے کہا: میں نے جس حالت میں رسولِ اکرم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا ہے مجھ سے صبر نہیں ہورہا،کیا تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں! کچھ جَو اور ایک بکری کا بچہ ہے۔میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور میری زوجہ نے جَو پیسے، یہاں تک کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈال دیا۔ پھر میں حضورنبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا، آٹا پکنے کے قابل ہوگیا تھا اور ہنڈیا چولہے پر تھی اور سالن پکنے والا تھا۔ میں نے عرض کی:”یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے گھر پر کچھ کھاناتیار ہے آپ تشریف لے چلئے اور ایک دوافراد کو بھی ساتھ لے لیجئے۔“ فرمایا :”کھانا کتنا ہے؟“ میں نے عرض کردیا کہ اتنا ہے، فرمایا: ”بہت ہے اور اچھا ہے، اپنی زوجہ سے کہنا کہ جب تک میں نہ آؤں ہنڈیا چولہے سے نہ اُتارے اور نہ تندور میں روٹی لگائے۔“ پھرآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا: ”اٹھو!“ مہاجرین اور انصارصحابہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْکھڑے ہوئے اور چل دئیے، میں اپنی زوجہ کے پاس آیا اور کہا:سنتی ہو!نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، مہاجرین اور انصار صحابہ ٔ کرامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْآرہے ہیں۔ اس نے کہا: یارسولَاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سےکھانے کے بارےمیں پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ (یعنی جب انہوں نے پوچھ لیا تو اب آپ کو اس معاملے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔) بعدازاں جب وہ سب میرے گھر کے پاس پہنچے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :سب داخل ہوجاؤ اور بھیڑ نہ کرو۔پس آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروٹی توڑتے اور اُس پر گوشت رکھ دیتے۔ جب بھی آپ ہانڈی یاتنور سے کچھ لیتے تو اُس کو ڈھانپ دیتے اور صحابہ ٔ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو دیتے جاتےپھر نکالتے پھر دیتے، یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے اور اُس میں سے کھانا بھی بچ گیا۔پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (حضرت جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکی زوجہ سے) فرمایا:”اسے کھاؤ اور دوسروں کو بھی دو کیونکہ لوگ بھوک سے دوچار ہیں۔“
ایک روایت میں ہے:حضرت جابر
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب خندق کھودی جارہی تھی میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھوک کی حالت میں دیکھا تو اپنی زوجہ کے پاس آیا اور کہا:” کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ بے شک! میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شدید بھوک کی حالت میں دیکھا ہے۔“تو اُس نے ایک تھیلی نکالی جس میں ایک صاع جَو تھے اور ہمارے پاس گھر کا پلا ہوا بکری کا بچہ تھا میں نے اسے ذبح کیا اور میری زوجہ نے جَو پیسے، میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہوگئی۔ میں نے گوشت کاٹ کر ہنڈیا میں ڈال دیا پھر میں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس چلا گیا۔ میری زوجہ نے کہا: مجھے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور اُن کے اصحاب کے سامنے رُسوا مت کرنا۔ میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر آہستہ سے عرض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہےاور میری زوجہ نے ایک صاع جَو کا آٹا گوندھا ہےآپ اور آپ کے ساتھ چند اصحاب تشریف لے آئیں۔ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بلند آواز سے پکارا:”اے اہلِ خندق! جابر نے تمہاری دعوت کی ہےپس دعوت کے لیے آجاؤ۔“ پھر (مجھ سے) فرمایا:”جب تک میں نہ آجاؤں ہنڈیا کو چولہے سے مت اُتارنا، نہ ہی آٹے کی روٹی پکانا۔“ (حضرت جابر کہتے ہیں) میں آیا اورسرکار دوعالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے آگے آگے تشریف لارہے تھے، میں اپنی زوجہ کے پاس آیا تو اُس نے کہا:اب تمہاری وجہ سے ہوگا جو بھی کچھ ہوگا۔ میں نے اس سے کہا: میں نے وہی کیا جو تم نے کہا تھا۔ اُس نے گوندھا ہوا آٹا نکالا، رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس میں اپنا لعابِ دَہَن ڈالا اور برکت کی دعا فرمائی۔ پھر ہماری ہنڈیا کے پاس تشریف لائے اور اُس میں بھی لعاب شریف ڈال کر برکت کی دعا فرمائی پھر فرمایا: ”کسی روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے، اپنی ہانڈی سے سالن نکالتی رہو لیکن اِسے چولہے سے مت اُتارنا۔“صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تعداد ایک ہزارتھی،اللہکی قسم! سب نے سیر ہوکر کھایااور چلے گئےمگر ہماری ہانڈی پہلے کی طرح اُبل رہی تھی اورآٹے کی روٹی پہلے کی طرح پک رہی تھی۔

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللہ عَنْهُ قَال: اِنَّا كُنَّا يَوْم الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ، فَعَرضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيْدَةٌ فَجَاءُوْااِلَی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالُوْا: هٰذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ. فَقَالَ:”اَنَا نَازِلٌ“ ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوْبٌ بِحَجرٍ ، وَلَبِثْنَا ثَلاثَةَ اَيَّامٍ لَانَذُوْقُ ذَوَاقاً، فَاَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ، فَضرَب فَعَادَ كَثيْباً اَهْيَلَ،اَوْ اَهْيَمَ. فَقُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللَّه! ائْذَنْ لِيْ اِلَی الْبَيْتِ، فَقُلْتُ لِاِمْرَأَتيْ:رَاَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم شَيْئاً مَافِي ذٰلِكَ صَبْرٌ فَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ فَقَالَتْ:عِنْدِيْ شَعِيْرٌ وَعَنَاقٌ، فَذَبَحْتُ الْعَنَاقَ، وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ حَتّٰى جَعَلْنَا اللَّحْمَ في الْبُرْمَة، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَالْعَجِيْنُ قَدِ انْكَسَرَ وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْاَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ تَنْضِجُ . فَقُلْتُ: طُعَيِّمٌ لِی فَقُمْ اَنْتَ يَارَسُوْلَ اللَّه وَرَجُلٌ اَوْ رَجُلَانِ، قَالَ:”كَمْ هُوَ ؟“ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ: ”كَثِيْرٌ طَيِّبٌ، قُلْ لَهَا لَاتَنْزِعُ الْبُرْمَةَ،وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتّٰى اٰ تِيَ“ فَقَالَ:”قُوْمُوْا“ فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْاَنْصَارُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَقُلْتُ: وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَالْمُهَاجِرُونَ، وَالْاَنْصَارُ وَمَنْ مَعَهُمْ، قَالَتْ: هَل سَاَلَكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ! قَالَ:”اُدْخُلُوْا وَلَا تَضَاغَطُوْا“ فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ ، وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ، ويُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ اِذا اَخَذَ مِنْهُ، وَيُقَرِّبُ اِلٰی اَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ وَيَغْرِفُ حَتّٰى شَبِعُوا وَبَقِيَ مِنْهُ، فَقَالَ:”كُلِيْ هٰذَا وَاَهْدِيْ، فَاِنَّ النَّاسَ اَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ.“
وَفِیْ رِوَايَةٍ: قَالَ جَابِرٌ : لَمَّا حُفِرَ الْخَنْدَقُ رَأَيتُ بِالنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَمَصًا، فَانْكَفَأْتُ اِلٰی امْرَأَتيْ فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَاِنِّي رَأَيْتُ بِرَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَمَصاً شَدِيداً. فَاَخْرَجَتْ اِلَيَّ جِرَاباً فِيْهِ صَاعٌ مِنْ شَعِيْرٍ ، وَلَنَا بُهَيْمَةٌ داجِنٌ فَذَبحْتُهَا،وَطَحَنَتِ الشَّعِيْرَ فَفَرَغَتْ اِلٰی فَرَاغِي، وَقَطَّعْتُهَا في بُرْمَتِهَا، ثُمَّ وَلَّيْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، فَقَالَتْ: لَا تَفْضَحْنِي بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَمَن مَّعَهُ ،فَجِئْتُهُ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّه،ذَبَحْنا بُهَيْمَةً لَنَا، وَطَحَنَتْ صَاعاً مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ اَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ، فَصَاحَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَقَالَ:”يَا اَهْلَ الْخَنْدَقِ:اِنَّ جَابِراً قدْ صَنَع سُؤْراً فَحَيَّ هَلاًّ بِكُمْ‘‘ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:”لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِيْنَكُمْ حَتّٰى أَجيْءَ “. فَجِئْتُ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقْدُمُ النَّاسَ، حَتّٰى جِئْتُ امْرَأَتي فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ، فَقُلْتُ: قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي قُلْتِ. فَاَخْرَجَتْ عَجِيْناً فَبصَقَ فِيْهِ وَبَارَكَ، ثُمَّ عَمَدَ اِلٰی بُرْمَتِنا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ:”ادْعِي خَابِزَةً فلْتَخْبِزْ مَعَكِ، وَاقْدَحِيْ مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزلُوْهَا“ وَهُمْ اَلْفٌ، فَأُقْسِمُ بِاللَّه لَاَكَلُوْا حَتّٰى تَرَكُوْهُ وَانَحرَفُوْا، وَ اِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ ، وَاِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ .

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 520 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضرت سیدناابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت سیدتنا اُمّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاسے کہا:”میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آواز میں کمزوری محسوس کی ہے مجھے حضورپر بھوک کے آثار معلوم ہوتے ہیں، کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟“ حضرت اُمّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِانے کہا:”ہاں۔‘‘ پھر انہوں نے جَو کی کچھ روٹیاں نکالیں، پھر اپنا دوپٹہ لیا اور روٹیوں کو اس میں لپیٹا اور میرے کپڑوں کے نیچے چھپا دیااور کپڑے کا کچھ حصہ مجھ پر ڈال دیا، پھر مجھے رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بھیج دیا۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے ساتھ دیگر اصحاب بھی ہیں، میں وہاں کھڑا ہوگیا۔ نبی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’کیا تمہیں ابو طلحہ نے بھیجا ہے؟“میں نے عرض کی:”جی ہاں۔“ پوچھا: ”کھانے کے لیے؟“عرض کی:”جی ہاں۔“ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اعلان فرمادیا:”کھڑے ہوجاؤاور چلو۔“میں بھی ان کے ساتھ ساتھ چل دیا اور جلدی سے ابو طلحہ کے پاس آیا اور انہیں (رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابہ کرام کے آنے کی) خبر دی۔ حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا: اے اُمِّ سُلَیم! رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اصحاب کے ساتھ تشریف لارہےہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں کہ ہم ان سب کو کھلاسکیں۔ اُمّ سُلَیم نے کہا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوب جانتے ہیں۔“پس ابوطلحہ نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا استقبال کیا، حضور اُن کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا: ”اے اُمِّ سُلَیم! تمہارے پاس کھانے کے لیےجو کچھ ہے وہ لے آؤ۔“ وہ جَو کی روٹیاں لے آئیں، پھر حضور نے حکم دیا روٹیاں توڑی گئیں، اُمّ سُلَیم نے روٹیاں توڑ کر گھی کا ڈبہ اُن پر نچوڑ دیا اور اسے سالن بنا دیا، پھررسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مشیتِ الٰہی کے مطابق دعا و برکت کے کلمات پڑھے اور فرمایا: ”دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔“دس آدمیوں کو بھیجا گیا، انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور چلے گئے۔ پھر فرمایا:”دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔“دس آدمیوں کو بھیجا گیا، انہوں نے سیر ہوکر کھایا اور چلے گئے۔ پھر فرمایا:”دس آدمیوں کو اندر آنے دو۔“دس آدمیوں کو بھیجا گیا یہاں تک کہ ساری قوم نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا، اُن کی تعداد ستّر یا اسّی افرادتھی۔ایک روایت میں ہے کہ دس دس آدمی آتے رہےاورکھا کر جاتے رہے یہاں تک کہ کوئی بھی ایسا نہ رہا جو اندر داخل ہوا ہو اور اس نے پیٹ بھر کر نہ کھایا ہو۔ پھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کھانے کو جمع فرمایا تووہ اتنا ہی تھا جتناپہلے تھا۔ایک روایت میں ہے کہ دس دس افراد کھانا کھاتے یہاں تک کہ اسّی اصحاب نے کھانا کھالیا، اس کے بعد آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور گھر والوں نے کھانا کھایا پھربھی کھانا بچ گیا۔ایک روایت میں ہے : جو کھانا بچ گیا اسے پڑوسیوں کے ہاں بھیج دیا گیا۔ایک روایت میں یوں ہےکہ حضرت سیدناانسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرماتھے اور آپ نےپیٹ مبارک پر پٹی باندھی ہوئی تھی، میں نے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے پوچھا کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے بطن مبارک پر پٹی کیوں باندھ رکھی ہے؟ انہوں نے کہاکہ بھوک کی وجہ سے۔ پس میں حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا جو کہ اُمّ سُلَیم بنت مِلحانرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکے شوہر ہیں۔ میں نے کہا : اے ابا جان! میں نےرسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پیٹ پر پٹی باندھے دیکھا ہے، میں نے حضور کے اصحاب سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ بھوک کی وجہ سے باندھی ہے۔حضرت ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمیری والدہ اُمّ سُلَیمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہِاکے پاس گئے اور کہا:” کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟“انہوں نےکہا:”ہاں!روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر حضور تنہا ہمارے ہاں تشریف لائیں تو ہم انہیں شکم سیر کردیں گے اوراگر اُن کےساتھ کچھ اور لوگ بھی ہوئے تو کھانا کم پڑ جائے گا۔“(پھرآگے پوری حدیث ذکر کی۔)

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَا لَ اَبوْ طَلْحَةَ لِاُمِّ سُلَيْمٍ : قَدْ سَمِعْتُ صَوتَ رَسُولِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ضَعِيْفاً اَعْرِفُ فِيْهِ الجُوْعَ، فَهَل عِندَكِ مِنْ شيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصاً مِنْ شَعِيْرٍ، ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الخُبزَ بِبَعْضِه، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ ثَوْبي وَرَدَّتْنِيْ بِبَعضِهِ، ثُمَّ أَرْسلَتْنِيْ إِلى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبتُ بِهِ، فَوَجَدتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جالِسًا في الْمَسْجِدِ، ومَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لِیْ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:”اَرْسَلَكَ اَبُو طَلْحَةَ ؟“ فَقُلْتُ:نَعَمْ! فَقَالَ: ” اَلِطَعَام ٍ؟“ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:”قُوْمُوْا“ فَانْطَلَقُوْا وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ اَيْدِیْهِمْ حَتَّى جِئْتُ اَبَا طَلْحَةَ فَاَخبَرتُهُ، فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَةَ: يَا اُمِّ سُلَيْمٍ: قَد جَاءَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ، فَقَالَتْ: اَللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ. فَانْطَلَقَ اَبُوْ طَلْحَةَ حتّٰى لَقِيَ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاَقبَلَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:” هَلُمِّي مَا عِندَكِ يا اُمَّ سُلَيْمٍ“ فَاَتَتْ بِذَالكَ الْخُبْزِ ، فَاَمَرَ بِهِ رَسُوْلُ اللَّه فَفُتَّ، وعَصَرَتْ عَلَيْه اُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَاَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ فِيْهِ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم مَاشَآءَ اللَّهُ اَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ:”اِئْذَنْ لِعَشَرَةٍ “ فَاَذِنَ لَهُم، فَاَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوْا ثُمَّ خَرَجُوْا، ثُمَّ قَالَ:”اِئْذَنْ لِعَشَرَةٍ “ فَاَذِنَ لَهُمْ، فَاَكَلُوْا حَتّٰى شَبِعُوْا، ثُمَّ خَرَجُوْا، ثُمَّ قَالَ:”اِئْذَنْ لِعَشَرَةٍ“فَاَذِنَ لَهُمْ حَتّٰى اَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُم وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُوْنَ رَجُلاً اَوْ ثَمَانُوْنَ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَمَا زَالَ يَدْخُلُ عَشَرَةٌ وَيَخْرُجُ عَشَرَةٌ، حَتّٰى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ اَحَدٌ اِلَّا دَخَلَ، فَاَكَلَ حَتّٰى شَبِعَ، ثُمَّ هَيَّاَهَا فَاِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِيْنَ اَكَلُوا مِنْهَا. وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَاَكَلُوْا عَشَرَةً عَشَرةً، حَتّٰى فَعَلَ ذَالِكَ بثَمانِيْنَ رَجُلاً ثُمَّ اَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَعْدَ ذَالِكَ وَاَهْلُ البَيتِ، وَتَرَكُوْا سُؤْرًا. وَفِيْ رِوَايَةٍ: ثمَّ اَفْضَلُوْا مَا اَبْلَغُوْا جِيْرَانَهُم.
وَفِيْ رِوَايَةٍ عَنْ اَنَسٍ قَالَ: جِئتُ رَسُوْلَ اللَّه صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يوْمًا فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعْ اَصْحَابِهِ، وَقد عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فقلتُ لِبَعضِ اَصْحَابِهِ: لِمَ عَصَبَ رَسُولُ اللہ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بطْنَهُ ؟ فَقَالُوْا: مِنَ الْجُوْعِ . فَذَهَبْتُ اِلٰى اَبِيْ طَلحَةَ ، وَهُوَ زَوْجُ اُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، فَقُلْتُ: يَا اَبَتَاه ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَصَبَ بَطْنَهُ بِعِصَابَةٍ، فَسَاَلْتُ بَعضَ اَصْحَابِهِ، فَقَالُوْا: مِنَ الجُوعِ . فَدَخل اَبُو طَلْحَةَ عَلٰى اُمِّي فَقَالَ: هَلْ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَتْ:نَعَمْ عِنْدِيْ كِسَرٌ مِنْ خُبْزٍ وَتَمَرَاتٌ، فَاِنْ جَاءَنَا رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَحْدَهُ اَشْبَعَنَاهُ، وَاِنْ جَاءَ آخَرُ مَعَهُ قَلَّ عَنْهُمْ، وذَكَرَ تَمَامَ الْحَديث.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 521 ، باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان