- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- زھد و فقر کی فضیلت
زھد و فقر کی فضیلت
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عَمرو بن عوف انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابو عُبَیدہ بن جَرّاحرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بحرین سے جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، جب وہ بحرین سے ( جزیہ کا ) مال لے کر واپس آئے اورانصار نے ان کی آمدکی خبرسنی تو سب نے فجر کی نماز حضورنبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اداکی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے فارغ ہوئے اور رُخِ انور پھیرا توانصار سامنے آگئے ، آپعَلَیْہِ السَّلَامانہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا : ” میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابو عُبَیْدَہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) بحرین سے کچھ مال لے کر آیا ہے ؟“ انہوں نے عرض کی : ” جی ہاں !یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! “آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ اور اُس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! مجھے تم پر فَقر ( غربت ) کا خوف نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم پردنیا پھیلا دی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر پھیلائی گئی تھی ، پھر تم بھی اس دنیا کی خاطر پہلے لوگوں کی طرح باہم مقابلہ کرو ، اور وہ تمہیں اسی طرح ہلاک کرے جیسے تم سے پہلوں کو ہلاک کیا تھا ۔ “
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الاَنْصَارِىِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَعَثَ اَبَا عُبَيْدَةَ ابْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اِلَى الْبَحْرَيْنِ يَاْتِي بِجِزْيَتِهَا ، فَقَدِمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ ، فَسَمِعَتِ الْاَنْصَارُ بِقُدُوْمِ اَبِيْ عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا صَلاَةَ الفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنْصَرفَ ، فَتَعَرَّضُوْا لَهُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ رَآهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : اَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ
اَنَّ اَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ؟ فَقَالُوْا : اَجَلْ يَا رَسُوْلَ اللهِ ، فَقَالَ : اَبْشِرُوْا وَاَمِّلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ ، فَوَاللهِ مَا الفَقْرَ اَخْشٰى عَلَيْكُمْ وَ لٰکِنِّیْ اَخْشٰى اَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا تَنَافَسُوْهَا ، فَتُهْلِكَكُمْ كَمَااَهْلَكَتْهُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 457 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنبر اقدس پر جلوہ افروز تھے اور ہم آپ کے ارد گردحاضر تھے ، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” بے شک ! مجھے تم پر اپنے بعد جن چیزوں کا ڈر ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ تم پر دنیا کی زیب و زینت کا دروازہ کھول دیا جائے گا ۔ “
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ ، فَقَالَ : اِ نَّ مِمَّا اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِيْ ، مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَ ةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 458 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” دنیا میٹھی اور سرسبز ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں ( پچھلی قوموں کا ) خلیفہ بنانے والا ہے اور وہ دیکھتاہے تم کیسے اعمال کرتے ہو ، لہٰذا دنیا سے بچواور عورتوں سے بچو ۔ “
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَ اِنَّ اللهَ تَعَالَى مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيْهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 459 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اےاللہ(عَزَّ وَجَلَّ) ! زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے ۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ اِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 460 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ، اس کے گھر والے ، اس کا مال اور اس کاعمل ، پس اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ جاتے ہیں اور اس کا عمل اسکے ساتھ باقی رہتاہے ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ : اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ ، وَیَبْقٰی وَاحِدٌ ، یَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 461 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” قیامت کے دن اہل جہنم میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا کہ جو دنیا میں ناز و نعمت والوں میں سے تھا اور اسے جہنم میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! کیا کبھی تونے کوئی بھلائی دیکھی تھی؟ کیا تجھے کبھی کوئی نعمت حاصل ہوئی تھی؟ ‘‘ وہ کہے گا : ”اللہکی قسم ! نہیں ، اے میرے رب ۔ “ اور ( قیامت کے دن ) اہل جنت میں سے ایسے شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سخت تنگ دست تھا ، اُسے جنت میں ایک غوطہ دیا جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا : ” اے ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی تکلیف دیکھی تھی؟ کیا تجھ پر کبھی کوئی سختی آئی تھی؟ وہ کہے گا : ”اللہکی قسم ! نہیں ، اے میرے ربّ ! مجھ پر کبھی تنگ دستی نہیں آئی اور نہ ہی میں نے کبھی کوئی سختی دیکھی ہے ۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : یُؤْتَى بِاَنْعَمِ اَهْلِ الدُّنْيَا مِنْ اَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُصْبَغُ فِي النَّارِ صَبْغَةً ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ نَعِيْمٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ وَيُؤْتَى بِاَشَدِّ النَّاسِ بُؤْسًا فِي الدُّنْيَا ، مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيُصْبَغُ صَبْغَةً فِي الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ هَلْ رَاَيْتَ بُؤْسًا قَطُّ؟ هَلْ مَرَّ بِكَ شِدَّةٌ قَطُّ؟ فَيَقُوْلُ : لَا ، وَاللهِ يَا رَبِّ مَامَرَّ بِیْ بُؤْسٌ قَطُّ ، وَلَا رَاَيْتُ شِدَّةً قَطُّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 462 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “
وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 463 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبازار سے گزرے اور لوگ آپ کی دونوں طرف تھے ، پس آپ بکری کے ایک مرے ہوئے بچے کے پاس سے گزرے جس کے کان چھوٹے تھے ، آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اسے کان سے پکڑتے ہوئے فرمایا : ” تم میں سے کون پسند کرے گا کہ اسے یہ ایک درہم کے بدلے لے ؟ ‘‘ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ” ہم اسے کسی چیز کے عوض نہیں لینا چاہتے اور ہم اسے لے کر کیا کریں گے ؟ ‘‘ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” کیا تم یہ چاہتے ہو کہ یہ بِلا عوض تمہیں مل جائے ؟ ‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : ”اللہکی قسم ! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی عیب دار تھا کیونکہ اس کے کان چھوٹے ہیں ( ہم اسے تب بھی نہ لیتے ) اور جبکہ یہ مرا ہوا ہے تو ہم اسے لینا کیسے پسند کر سکتے ہیں ۔ ‘‘ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ”اللہکی قسم !اللہتعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ ذلیل ہے جتنا یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے ۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوْقِ وَالنَّاسُ كَنَفَتَيْهِ ، فَمَرَّ بِجَدْيٍ اَسَكَّ مَيِّتٍ ، فَتَنَاوَلَهُ فَاَخَذَ بِاُذُنِهِ ، ثُمَّ قَالَ : اَيُّكُم يُحِبُّ اَنْ يَكُوْنَ هٰذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ؟ فَقَالُوْا : مَا نُحِبُّ اَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ وَمَا نَصْنَعُ بِهِ؟ ثُمَّ قَالَ : اَتُحِبُّوْنَ اَنَّهُ لَكُمْ؟ قَالُوْا : وَاللهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا اِنَّهُ اَسَكُّ فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ ! فَقَالَ : فَوَاللهِ لَلدُّنْيَا اَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ هٰذَا عَلَيْكُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 464 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ مدینہ طیبہ کی پتھریلی زمین پر چل رہا تھا کہ اُحد پہاڑ ہمارے سامنے آیا ، حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا : ” اے ابو ذر ! میں نے عرض کی : ”لَبَّیْک یَارَسُوْلَ اللہ! آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تین دن اس حال میں گزر جائیں کہ سوائے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھی ہوئی رقم کے اُس پہاڑ میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی ہو مگر یہ کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں میں اُسے اس طرح اور اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں ، بائیں اور پیچھے خرچ کردوں ۔ “ پھر آپ چل پڑے اور ارشاد فرمایا : ” بے شک مالدار لوگ قیامت کے دن مفلس ( یعنی کم اجر والے ) ہوں گے سوائے اس شخص کے جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں ، بائیں اور پیچھے خرچ کرے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ “ پھر مجھ سے فرمایا : ” اپنی جگہ ٹھہرے رہو اور میرے واپس آنے تک کہیں نہ جانا ۔ “ پھر آپعَلَیْہِ السَّلَامرات کے اندھیرے میں چل پڑے یہاں تک کہ نظروں سے اوجھل ہوگئے ، پھر میں نے ایک بہت اونچی آواز سُنی ، میں خوف زدہ ہوا کہ کہیں حضور سے کسی نے تعرض نہ کیا ہو ، پس میں نے آپ کے پاس جانے کا اِرادہ کیا لیکن مجھے آپ کی بات یاد آگئی کہ ” میرے آنے تک یہاں سے نہ جانا“ لہٰذا میں وہیں رُکا رہا
یہاں تک کہ آپ واپس تشریف لے آئے ، میں نے عرض کی : ” میں نے ایک بلند آواز سُنی تھی جس سے میں ڈر گیا ۔ ‘‘ پس میں نے آپ سے اس کا ذکر کیاتو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا : ” کیا تم نے وہ آواز سُنی تھی؟ ‘‘ میں نے عرض کی : ” جی ہاں ۔ “ فرمایا : ” وہ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) تھے جو میرے پاس آئے اور کہا کہ ” آپ کی امت میں سے جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ‘‘ میں نے کہا : ” اگرچہ وہ زناکار یا چور ہو؟ ‘‘ فرمایا : ’’ اگرچہ وہ زناکار یا چور ہو ۔ “
عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ اَمْشِيْ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ حَرَّةٍ بِالْمَدِيْنَةِ ، فَاسْتَقْبَلَنَا
اُحُدٌ فَقَالَ : يَا اَبَا ذَرٍّ ! قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَارَسُوْلَ اللهِ ! فَقَالَ : مَا يَسُرُّ نِيْ اَنَّ عِنْدِيْ مِثْلَ اُحُدٍ هَذَا ذَهَبًا تَمْضِيْ عَلَيَّ ثَلاَثَةُ اَيَّامٍ وَعِنْدِيْ مِنْهُ دِيْنَارٌ اِلَّا شَيْءٌاُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ اِلَّا اَنْ اَقُوْلَ بِهِ فِيْ عِبَادِ اللهِ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا عَنْ يَمِيْنِهِ وعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ ، ثُمَّ سَارَ ، فَقَالَ : اِنَّ الْاَ كْثَرِيْنَ هُمُ الْاَقَلُّوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِاِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا عَنْ يَمِيْنِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَقَلِيْلٌ مَّاهُمْ ثُمَّ قَالَ لِيْ : مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ ثُمَّ انْطَلَقَ فيِْ سَوَادِ اللَّيْلِ حَتَّى تَوَارَى ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا ، قَدِ ارْتَفَعَ فَتَخَوَّفْتُ اَنْ يَّكُوْنَ اَحَدٌ عَرَضَ لِلنَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَرَدْتُ اَنْ آتِيَهُ فَذَكَرْتُ قَوْلَهُ : لَا تَبْرَحْ حَتَّى آتِيَكَ فَلَمْ اَبْرَحْ حَتَّى اَتَانِيْ ، فَقُلْتُ : لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتًا تَخَوَّفْتُ مِنْهُ ، فَذَكَرْتُ لَهُ ، فَقَالَ : وَهَلْ سَمِعْتَهُ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ذَاكَ جِبْرِيْلُ اَتَانِيْ فَقَالَ : مَنْ مَاتَ مِنْ اُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ؟ قَالَ : وَ اِنْ زَنٰی وَ اِنْ سَرَقَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 465 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اگر میرے پاس اُحد پہاڑجتنا سونا ہو تو میں پسند کروں گا کہ تین راتیں گزرنے سے پہلے پہلے میرے پاس اس میں سے کچھ بھی نہ ہو سوائے قرض کی ادائیگی کے لیے رکھے ہوئے سونے کے ۔ “
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ كَانَ لِيْ مِثْلُ اُحُدٍ ذَهَبًا ، لَسَرَّنِيْ اَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِيْ مِنْهُ شَيْءٌ اِلَّا شَيْءٌ اُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 466 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھو اپنے سے زیادہ حیثیت والے پر نظر نہ رکھو ، بے شک یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے کہ تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کو حقیر نہ جانو ۔ “اوربخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ ” جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے بندے کو دیکھے جسے مال اور خوبصورتی میں اس پر فضیلت دی گئی ہو تو چاہیے کہ اپنے سے کم درجے والے کی طرف نظر کرے ۔ “
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُنْظُرُوْا اِلٰی مَنْ هُوَ اَسْفَلُ مِنْكُمْ وَلَا تَنْظُرُوْا اِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ ، فَهُوَ اَجْدَرُ اَنْ لَا تَزْدَرُوْا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃِ الْبُخَارِيْ : اِذَا نَظَرَ اَحَدُكُمْ اِلٰی مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْمَالِ وَالْخَلْقِ فَلْيَنْظُرْ اِلٰی مَنْ هُوَ اَسْفَلُ مِنْهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 467 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم ، رؤوف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” ہلاک ہو درہم و دینار ، مخملی چادر اور سیاہ دھاری دار کپڑے کا غلام کہ اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر نہ دیا جائے تو ناراض ہو ۔ ‘‘
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَعِسَ عَبْدُ الدِّيْنَارِ وَالدِّرْهَمِ وَالْقَطِيْفَةِ وَالْخَمِيْصَةِ اِنْ اُعْطِىَ رَضِىَ وَاِنْ لَمْ يُعْطَ لَمْ يَرْضَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 468 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” میں نے اصحابِ صُفہ میں سے ستر افراد کو اس حالت میں دیکھاکہ انکے پاس چادر نہ ہوتی صرف تہبندہوتا تھا یا کمبل جسے وہ اپنی گردنوں میں باندھتے تھے تو اُن میں سے بعض کا تہبند آدھی پنڈلی تک پہنچتا اور بعض کا ٹخنوں تک اور وہ اسے بے پردگی کے خوف سے اپنے ہاتھوں سے سمیٹے رکھتے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَقَدْ رَاَيْتُ سَبْعِيْنَ مِنْ اَهْلِ الصُّفَّةِ ، مَا مِنهُمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ رِدَاءٌ اِمَّا اِزَارٌ وَ اِمَّا كِسَاءٌ ، قَدْ رَبَطُوْا فِيْ اَعْنَاقِہِمْ ، فَمِنْهَا مَا یَبْلُغُ نِصْفَ السَّاقَيْنِ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ الْكَعْبَيْنِ فَيَجْمَعُهُ بِيَدِهِ كَراهِيَةَ اَنْ تُرَى عَوْرَتُهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 469 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ۔ “
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 470 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے کندھے پکڑ کر ارشاد فرمایا : ” دنیا میں یوں رہو گویا کہ تم مسافر یا راستہ طے کرنے والے ہو ۔ “ حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرمایا کرتے تھے کہ ” جب تم شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح کرلو تو شام کے منتظر نہ رہو اور حالت صحت میں بیماری کے لیے اور زندگی میں موت کے لیے تیاری کرلو ۔ “
امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ” محدثین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلامحدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ” مطلب یہ ہے کہ دنیا کی طرف مائل نہ ہو ، دنیا کو وطن نہ بناؤ ، نفس کو لمبی زندگی کی امید نہ دلاؤ اور دنیا کی طرف متوجہ نہ ہو ، اس سے صرف اتنا تعلق رکھو جتنا گھر کی طرف لوٹنے والا مسافر دوسرے وطن سے رکھتا ہے ۔ “
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : اَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبَيَّ ، فَقَالَ : کُنْ فِي الدُّنْيَا کَاَنَّكَ غَرِيبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِيْلٍ ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا یَقُوْلُ : اِذَا اَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ ، وَاِذَا
اَصْبَحْتَ فَلاَ تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ ، وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ. ( )
قَالُوْا فِيْ شَرْحِ هٰذَا الْحَدِيْثِ مَعَنَاهُ : لَا تَرْكَنْ اِلَى الدُّنْيَا وَلَا تَتَّخِذْهَا وَطَنًا ، وَلَا تُحَدِّثْ نَفْسَكَ بِطُوْلِ الْبَقَاءِ فِيْهَا ، وَلَا بِالْاِعْتِنَاءِ بِهَا ، وَلَا تَتَعَلَّقْ مِنْهَا اِلَّا بِمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ الْغَرِيْبُ فِيْ غَيْرِ وَطَنِهِ ، وَلَا تَشْتَغِلْ فِيْهَا بِمَا لَا يَشْتَغِلُ بِهِ الْغَرِيْبُ الَّذِيْ يُرِيْدُ الذَّهَابَ اِلَى اَهْلِهِ ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 471 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابوالعباس سہل بن سعد ساعدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جب میں وہ کروں تواللہتعالیٰ بھی مجھ سے محبت فرمائے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کرنے لگیں“ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا : ” دنیا سے بے رغبت رہواللہ عَزَّ وَجَلَّتم سے محبت فرمائے گا اور جوکچھ لوگوں کے پاس ہے اسں سے بے رغبت ہو جاؤ ، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے ۔ “
عَنْ اَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ دُلَّنِيْ عَلَى عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ اَحَبَّنِيَ اللهُ وَاَحَبَّنِيَ النَّاسُ ، فَقَالَ : ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا یُحِبَّكَ اللهُ ، وَازْهَدْ فِيْمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّكَ النَّاسُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 472 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس چیز کا ذکر کیا جولوگوں نے دنیا سے حاصل کی پھر فرمایا : ” میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دن بھر ( بھوک کی وجہ سے ) بے قرارہوتے دیکھتا اور آپ کو ردی کھجوریں بھی پیٹ بھر میسر نہ ہوتیں ۔ “
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَااَصَابَ النَّاسُ مِنَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ : لَقَدْ رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِيْ مَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَاُ بِهِ بَطْنَهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 473 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ”رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصال ہوا تو میرے گھر میں کوئی ایسی چیز موجود نہ تھی جوکسی جاندار کی غذا بن سکے ، البتہ تھوڑے سے جَو میری طاق میں رکھے ہوئے تھے ، میں ایک عرصے تک انہیں کھاتی رہی پھرمیں نے ( ایک دن ) ان کا وزن کیاتو وہ ختم ہوگئے ۔ “
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيْ بَيْتِيْ مِنْ شَيْءٍ يَاْكُلُهُ
ذُوْ كَبِدٍ اِلَّا شَطْرُ شَعِيْرٍ فِيْ رَفٍّ لِيْ ، فَاَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 474 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا جویریہ بنت حارث کے بھائی حضرت عَمرو بن حارثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی وفات کے وقت دینار چھوڑے نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی نہ کوئی اور چیز سوائے ایک سفید خچر کے جس پر آپعَلَیْہِ السَّلَامسواری فرمایاکرتے تھے اور سوائے ہتھیار اور زمین کے جسے آپ نے مسافروں کے لیے وقف کردیا تھا ۔
عَنْ عَمْرِو بْنِِ الْحَارِثِ اَخِىْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ اُمِّ المُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : مَا تَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا ، وَلَا اَمَةً ، وَلَا شَيْئًا اِلَّابَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِيْ كَانَ يَرْكَبُهَا ، وَسِلَاحَهُ ، وَاَرْضًا جَعَلَهَا لِاِبْنِِ السَّبِيْلِ صَدَقَةً. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 475 ، زھد و فقر کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا خباب بن اَرَترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ہم نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ رضائے الٰہی کی طلب میں ہجرت کی ، پس ہمارا ثواباللہ عَزَّ وَجَلَّ( کے ذمۂ کرم ) پر ہے ۔ ہم میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے اجر میں سے کچھ حاصل کئے بغیر فوت ہوگئے ، انہیں میں سے حضرتِ سَیِّدُنَا مُصْعَبْ بن عُمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی ہیں جو غزوۂ اُحُد میں شہید ہوئے ، انہوں نے ایک دھاری دار چادر چھوڑی جب ہم اس چادر سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا ، پسرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور پاؤں پر کچھ گھاس وغیرہ ڈال دیں ، اور ہم سے بعض وہ ہیں جن کے لیے اُن کے ( نیک اعمال کے ) پھل پک گئے اور وہ اسے چن رہے ہیں ۔ “
عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْاَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : هَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَلْتَمِسُ وَجْهَ اللهِ تَعَالَى ، فَوَقَعَ اَجْرُنَا عَلَى اللهِ ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَاْكُلْ منْ اَجْرِهِ شَيْئًا ، مِنْهُمْ : مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُتِلَ يَوْمَ اُحُدٍ ، وَتَرَكَ نَمِرَةً ، فَكُنَّااِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَاْسَهُ ، بَدَتْ رِجْلَاهُ ، وَاِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ ،
بَدَا رَاْسُهُ ، فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ نُغَطِّيَ رَاْسَهُ ، وَنَجْعَلَ عَلٰی رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الْاِذْخِرِ ، وَمِنَّا مَنْ اَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ ، فَهُوَ يَهْدِبُهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 476 ، زھد و فقر کی فضیلت
- 1
- 2