اُمید کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 4

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عُبادَہ بن صامترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” جس نے اس بات کی گواہی دی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور رسول ہیں ، حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے حضرت مریمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی طرف ڈالا اور اس کی طرف سے روح ہیں ۔ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے ، تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا اس کے عمل جیسے بھی ہوں ۔ “مسلم شریف کی ایک روایت میں یوں ہے : ’’جو اس بات کی گواہی دے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اللہعَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں ، تواللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر آگ ( یعنی جہنم ) کو حرام فرما دے گا ۔ ‘‘

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ مَنْ شَهِدَ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَاَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ اَلْقَاهَا اِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ اَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ. ( ) وَ فِی رِوَایَۃٍ لِمُسْلِم : مَنْ شَهِدَ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 412 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ذَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّفرماتا ہے : جس نے ایک نیکی کی ، اس کے لیے اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ہے اور میں مزید اضافہ کرتا ہوں اور جس نے گناہ کیا تو اس کے لیے اسی گناہ کا عذاب ہے یا میں معاف کردوں اور جو مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے ، میری رحمت اُس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے ، میری رحمت اس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے ، جو میری طرف چل کر آتا ہے ، میری رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے اور جو میرے پاس روئے زمین کے برابر گناہ لے کر آئے اور اس نے میرے ساتھ کسی کوشریک نہ کیا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر مغفرت کے ساتھ اس سے ملوں گا ۔ “عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث کا معنیٰ یہ ہے کہ جو عبادت کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے میں رحمت کے ساتھ اس کے قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ زیادہ قریب ہو تو میری رحمت بھی زیادہ قریب ہوتی ہے ۔ چل کر آنے کا مطلب یہ ہے کہ میری عبادت میں جلدی کرتا ہے تو میں اس پر اپنی رحمت انڈیل دیتا ہوں اور میری رحمت اس سے پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور بندے کے حصولِ مقصد کے لیے میں اسے زیادہ چلنے کی تکلیف نہیں دیتا ۔قُرَابُ الْاَرْضِکا معنی ہے وہ چیزیں جو زمین کو بھر دیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّزیادہ جانتا ہے ۔

عَنْ اَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا وَاَزِيْدُ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاؤُهُ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا اَوْ اَغْفِرُ وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ

ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا وَمَنْ اَتَانِي يَمْشِيْ اَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً وَمَنْ لَقِيَنِي بِقُرَابِ الْاَرْضِ خَطِيئَةً لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً. ( ) مَعْنَى الْحَدِيْث : ” مَنْ تَقَرَّبَ“ اِلَيَّ بِطَاعَتِيْ ” تَقَرَّبْتُ“ اِلَيْهِ بِرَحْمَتِيْ وَاِنْ زَادَ زِدْتُ ” فَاِنْ اَتَانِي يَمْشِيْ“ وَاَسْرَعُ فِیْ طَاعَتِيْ ” اَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً“ : اَيْ صَبَبْتُ عَلَيْهِ الرَّحْمَةَ وَسَبَقْتُهُ بِهَا وَلَمْ اُحْوِجْهُ اِلَی الْمَشْيِ الْكَثِيْرِ فِی الْوُصُوْلِ اِلَى الْمَقْصُوْدِ وَ ” قُرَابُ الْاَرْضِ“بِضَمِّ الْقَافِ وَيُقَالُ بِكَسْرِهَا وَالضَّمُّ اَصَحُّ وَاَشْهَرُ وَمَعْنَاهُ : مَا يُقَارِبُ مِلْاَهَا. وَاللهُ اَعْلَمُ

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 413 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! لازم کرنے والی دو چیزیں کیا ہیں؟ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع امتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” جو اس حال میں مرا کہ اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں مَرا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا ۔ “

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! مَا

الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 414 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسواری پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت سَیِّدُنَامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے ۔رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اے مُعاذ ! ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضرہوں ۔ “آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھرفرمایا : ’’اے معاذ ! ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضرہوں ۔ “آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر فرمایا : ’’اے معاذ ! ‘‘ عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں حاضرہوں ۔ “ یوں تین مرتبہ فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکا جو بھی بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندے اور رسول ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّاُس پر جہنم کو حرام کردیتا ہے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَامعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا میں لوگوں کو اس بات کی خبر نہ دے دوں تاکہ وہ خوش ہوں؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ” پھر وہ

اِسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ “ پھر حضرت معاذ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے وصال کے وقت علم چھپانے کے گناہ کے خوف سے اس حدیث کو بیان کیا ۔

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رَدِيْفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ! قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ! قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. ثَلاَثًا.قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ اِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ قَالَ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ ! اَفَلاَ اُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوْا قَالَ : اِذًا يَتَّكِلُوا فَاَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْ تِهِ تَاَ ثُّمًا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 415 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ یا پھر حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے ( راوی کو شک ہے لیکن تعیین صحابہ میں شک مُضِر نہیں کیونکہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں ) غزوۂ تبوک کے سفر میں لوگوں کوسخت بھوک لگی تو انہوں نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹوں کو نحر کر کے کھالیں اور ان کی چربی کا تیل نکال لیں ۔ ‘‘ تورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اجازت عطا فرمادی ۔ پھر حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحاضرِ خدمت ہوئے اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ نے اِس طرح کیا ( یعنی اونٹ ذبح کرنے کی اجازت دے دی ) تو ہماری سواریاں کم پڑ جائیں گی ، آپ لوگوں سے بچا ہوا توشہ منگوالیجئے پھراللہ عَزَّوَجَلَّسے اس میں برکت کی دعا فرمائیے ، یقیناًاللہ عَزَّ وَجَلَّاس میں برکت عطا فرمائے گا ۔ ‘‘ رسول اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” ٹھیک ہے ۔ “پھر آپعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے دستر خوان منگواکر بچھایا اور لوگوں سے بچا ہوا کھانا منگوایا تو کوئی مٹھی بھر مکئی لایا ، کوئی مٹھی بھر کھجور تو کوئی روٹی کا ٹکڑا لے آیا حتّٰی کہ دستر خوان پر تھوڑا سا مان جمع ہوگیا ۔ پھر نبیوں کے سالار احمد مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور ارشادفرمایا : ” اپنے اپنے برتن بھر لو ۔ “ سب نے اپنے اپنے برتن کھانے سے بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کا کوئی بھی برتن ایسا نہ تھا جو بھرا ہوا نہ ہو ۔ پھر سب نے خوب سیر ہوکر کھایا ، پھر بھی کچھ کھانا بچ گیا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میں گواہی دیتا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاللہ عَزَّوَجَلَّکا رسول ہوں ، جو بھی شخص بغیر شک و شبہ کے اس کلمے کا اقرار کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملے گا وہ جنتی ہوگا ۔ “

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَوْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا شَكَّ الرَّاوِی ( وَلَا یَضُرُّ الشَّکُّ فِی عَیْنِ الصَّحَابِی لِاَنَّہُمْ کُلُّھُمْ عَدُوْلٌ ) قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوْكَ اَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ قَالُوْا : يَارَسُولَ اللهِ ! لَوْ اَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَاَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلُوا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ اَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللهَ اَنْ يَجْعَلَ فِي ذٰلِكَ الْبَرَکَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ اَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيْءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ وَيَجِيْءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ ، وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيْرٌ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ : خُذُوا فِي اَوْعِيَتِكُمْ قَالَ : فَاَخَذُوا فِيْ اَوْعِيَتِهِمْ حَتّٰى مَا تَرَكُوْا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً اِلَّا مَلَئُوْهُ وَاَكَلُوْا حَتّٰى شَبِعُوْا وَفَضَلَ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُولُ اللهِ لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 416 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : بدری صحابی حضرتِ سَیِّدُنا عتبان بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھاتا تھا میرے اور اُن کے درمیان ایک نالہ تھا جب بارش ہوتی تھی تو میرے لیے مسجد تک پہنچنا بہت مشکل ہوجاتا تھا پس میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور میرے اور میری قوم کے درمیان ایک بہتا نالہ ہے ، جب بارش ہوتی ہے تو میرا مسجد پہنچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے غریب خانے پر تشریف لائیں اور وہاں نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنا مُصَلّی ( جائے نماز ) بنالوں ۔ “ ورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” عنقریب میں ایسا کردوں گا ۔ “دوسرے دن سورج بلند ہونے کے بعد رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتشریف لائے ، انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائی ، میں نے انہیں اندر بلالیا ۔ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” تمہیں کون سی جگہ پسند ہے جہاں میں نماز پڑھوں؟“ جس جگہ میں چاہتا تھا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں نماز پڑھائیں میں نے اس طرف اشارہ کیا ، پسرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوگئے اور تکبیر پڑھی اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا اور ہم نے بھی سلام پھیر دیا ۔ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خَزِیرہ ( گوشت سے بنے ایک کھانے ) کے لیے روک لیا جو آپ کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ اہل محلہ کو جب معلوم ہوا کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے گھر میں تشریف فرما ہیں تو وہاں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے حتی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے تو کسی شخص نے کہا کہ : ’’مالک کہاں ہیں ، نظر نہیں آرہے ؟ ‘‘ تو ان میں سے ایک شخص بولا : ’’وہ منافق ہے ، وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتا ہے نہ ہیرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ۔ ‘‘ یہ سن کررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” ایسا نہ کہو ، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے رِضائے اِلٰہی کے لیےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکہا ۔ “یہ فرمان سن کر اُس شخص نے کہا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ، ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اُس کی محبت اور باتیں منافقین کے ساتھ

ہی ہوتی ہیں ۔ “
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس شخص کو دوزخ پر حرام کردیا ہے جو رِضائے الٰہی کے لیےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکہے ۔ “

عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ : كُنْتُ اُصَلِّى لِقَوْمِى بَنِى سَالِمٍ ، وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ وَادٍ اِذَا جَاءَتِ الاَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَىَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : اِنِّى اَنْكَرْتُ بَصَرِى وَ اِنَّ الْوَادِىَ الَّذِى بَيْنِىْ وَبَيْنَ قَوْمِى يَسِيْلُ اِذَا جَاءَتِ الاَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَىَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ اَنَّكَ تَأْتِى فَتُصَلِّى مِنْ بَيْتِىْ مَكَانًا اَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَاَفْعَلُ فَغَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ وَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ : اَيْنَ تُحِبُّ اَنْ اُصَلِّىَ مِنْ بَيْتِكَ فَاَشَرْتُ لَهُ اِلَى الْمَكَانِ الَّذِى اُحِبُّ اَنْ يُصَلِّىَ فِيهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيْرَةٍ تُصْنَعُ لَهُ فَسَمِعَ اَهْلُ الدَّارِ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى بَيْتِىْ فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتّٰى كَثُرَ الرِّجَالُ فِى الْبَيْتِ فَقَالَ رَجُلٌ : مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا اَرَاهُ فَقَالَ رَجُلٌ : ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُلْ ذٰلِكَ اَ لَا تَرَاهُ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِى بِذٰلِكَ وَجْهَ اللَّهِ فَقَالَ : اَللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ اَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ مَا نَرَى وُدَّهُ وَ لَا حَدِيثَهُ اِلَّا اِلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ

اِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِى بِذٰلِكَ وَجْهَ اللَّهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 417 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس کچھ قیدی لائے گئے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت دوڑتی پھر رہی تھی جیسے ہی اسے ایک بچہ نظر آیا اس نے بچے کو پکڑ کے اپنے سینے سے لگالیا اور دودھ پلانے لگی ،رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ، کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ؟“ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ” خدا کی قسم ! نہیں ۔ “ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’خدا کی قسم ! یہ عورت جتنی اپنے بچے پر مہربان ہےاللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ‘‘

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ِسَبْيٌ فَاِذَا امْرَاَةٌ مِّنَ السَّبْيِ تَسْعَی اِذْ وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ اَخَذَتْهُ فَاَلْزَقَتْهُ بِبَطْنِهَا فَاَرْضَعَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْاَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ قُلْنَا : لَا وَاللهِ فَقَالَ : لَلّٰهُ اَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 418 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اُس نے ایک کتاب میں جو اُس کے پاس عرش پر ہے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ “ایک روایت میںتَغْلِبُکے بجائےغَلَبَتْکے الفاظ ہیں ( ) جبکہ دوسری روایت میںسَبَقَتْکے الفاظ ہیں ۔ ( ) ( دونوں صورتوں میں معنیٰ وہی ہے ۔ )

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِى كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : اِنَّ رَحْمَتِىْ تَغْلِبُ غَضَبِىْ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ : غَلَبَتْ غَضَبِیْ. وَفِی رِوَایَۃٍ : سَبَقَتْ غَضَبِیْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 419 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے رحمت کے سو ( 100 ) حصے کیے ، اُن میں سے ننانوے ( 99 ) حصے اپنے پاس رکھ لیے اور صرف ایک حصہ زمین پر اُتارا ، پس اُس ایک حصے سے لوگ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنے بچے سے اپنا کُھر ہٹا لیتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے ۔ ‘‘

٭ایک روایت میں یوں ہے کہ’’
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی سو ( 100 ) رحمتیں ہیں ،اللہ عَزَّوَجَلَّنے اُن میں سے ایک رحمت جنوں ، انسانوں ، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اُتاردی ہے ، اسی رحمت کے سبب وہ ایک دوسرے سے محبت اور رحم کرتے ہیں اور اسی رحمت کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں ۔ ننانوے ( 99 ) رحمتوں کواللہ عَزَّوَجَلَّنے روک رکھا ہے قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر اس کے ذریعے رحم فرمائے گا ۔ ‘‘ ٭اسی طرح امام مسلم نے حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّکی سو ( 100 ) رحمتیں ہیں ، ایک رحمت کے ساتھ مخلوق ایک دوسرے سے شفقت سے پیش آتی ہے اور ننانوے ( 99 ) رحمتیں قیامت کے لیے ہیں ۔ “٭ایک روایت میں ہے کہ جس دناللہ عَزَّوَجَلَّنے آسمان اورزمین کو پیدافرمایا اُس دن سو ( 100 ) رحمتیں پیدا فرمائیں ، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کے درمیان کی وُسعت کے برابر ہے ، پساللہ عَزَّوَجَلَّنے ایک رحمت کو زمین میں رکھ دیا ، اُسی سے ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے ، وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّاُس رحمت کو ملا کر رحمت کو مکمل کردے گا ۔ ‘‘

عَنۡ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَاَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ وَاَنْزَلَ فِى الْاَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذٰلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتّٰى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ اَنْ تُصِيْبَهُ. ( ) وَ فِیْ رَوَایَۃٍ : اِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ اَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَّاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالْبَهَائِـمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُوْنَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَاَخَّرَ اللهُ تِسْعًا وَّتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ( ) وَرَوَاہُ مُسۡلِمٌ اَیۡضًا مِنۡ رِوَایَۃِ سَلۡمَانَ الۡفَارسِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَال رَسُولُ اللہِ : اِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. ( ) وَ فِیْ رَوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْاَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ فَاِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ اَكْمَلَهَا بِهٰذِهِ الرَّحْمَةِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 420 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے حکایت کرتے ہیں کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا : ایک بندے نے گناہ کیا ، پھر کہا : اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میرے گناہ کو بخش دے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اورگناہوں پر پکڑ بھی فرماتا ہے ، پھر وہ بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا

بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ پس میں نے اپنے بندے کو بخش دیااب وہ جو چاہے کرے ۔ ‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمان ” اب وہ جو چاہے کرے “ کا مطلب یہ ہے کہ یعنی اگر وہ ساری زندگی اسی طرح کرتا رہے یعنی پہلے گناہ کرے پھرتوبہ کرے تو میں اس کی توبہ کو قبول کروں گا کیونکہ توبہ ما قبل کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی قَالَ : أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَاَذْنَبَ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَاَذْنَبَ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْیَفْعَلْ مَا شَاءَ. ( )
وَقَوْلُہُ تَعَالٰی : فَلْیَفْعَلْ مَا شَاءَ اَیْ : مَا دَامَ یَفْعَلُ ھٰکَذَا یُذْنِبُ وَ یَتُوْبُ اَغْفِرُ لَہُ فَاِنَّ التَّوْبَۃَ تَھْدِمُ مَا قَبْلَھَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 421 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تواللہ عَزَّوَجَلَّتمہیں لے جاتا اور ایک ایسی قوم کو لاتا جو گناہ کرتے پھراللہ عَزَّوَجَلَّسے توبہ کرتے پساللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں بخش دیتا ۔ “

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذَهَبَ اللهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُوْنَ اللهَ تَعَالٰى فَيَغْفِرُ لَهُمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 422 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ایوب انصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : ” اگر تم لوگ گناہ نہیں کروگے تواللہ عَزَّوَجَلَّایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھراللہ عَزَّوَجَلَّسے توبہ کریں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُنہیں معاف فرمادے گا ۔ “

عَنْ اَبِي اَيُّوبَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلَا اَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُوْنَ فَيَسْتَغْفِرُوْنَ فيَغْفِرُ لَهُمْ . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 423 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے ساتھ چند دیگر لوگوں کے ہمراہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ، پھر رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واپس تشریف لانے میں دیر کردی تو ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں حضور کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ، پس ہم گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے ، سب سے پہلے گھبرانے والا میں تھا ، پھر میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ڈھونڈنے کے لیے نکلا ، میں ایک انصاری کے باغ کی دیوار کے پاس پہنچا ۔ ‘‘ پھر سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس طویل حدیث کو یہاں تک ذکر کیا کہ
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اے ابو ہریرہ ! جاؤ اِس دیوار کے پیچھے جو بھی تمہیں اس بات کی گواہی دیتا ہوئے ملے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور اُس کا دل اُس گواہی پر مطمئن ہو تو اُسے جنت کی خوشخبری دے دینا ۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنَّا قُعُوْدًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ اَظْهُرِنَا فَاَبْطَاَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا اَنْ يُقْتَطَعَ دُوْنَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِيْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى اَتَيْتُ حَائِطًا لِلْاَنْصَارِ وَذَكَرَ الْحَدِيْثَ بِطُوْلِهِ اِلَي قَوْلِهِ : فَقَالَ رَسُوْلُ الله اِذْهَبْ فَمَنْ لَقِيتَ وَرَاءَ هَذَا الْحَائِـطِ يَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 424 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکے بارے میں نازل ہونے والےاللہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمان عالیشان کی تلاوت کی :رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-(پ۱۳ ،ابراھیم:۳۶ )ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے ربّ ! بے شک بتوں نے بہت لوگ بہکا دئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے ۔
پھر قرآن میں موجودحضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ السَّلَامکے اِس قول کی تلاوت فرمائی :اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)(پ۷ ،المائدۃ: ۱۱۸ )ترجمۂ کنزالایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا ۔
پھر آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا دئیے اور بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں یوں عرض گزار ہوئے : ”اَللّٰهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِيیعنی اے میرے ربّ ! میری اُمَّت ( کو بخش دے ) میری اُمَّت ( کو بخش دے ) ۔ “اور ساتھ ہی رونے لگے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ” اے جبریل ! محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس جاؤ ! حالانکہ تمہارا ربعَزَّوَجَلَّجانتا ہے اور ان سے پوچھو کہ انہیں کس چیز نے رُلایا؟“ پھر حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے ،رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں وہ دعا بتائی جو مانگی تھی حالانکہ ربّعَزَّوَجَلَّجانتا ہے ، پھراللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ” اے جبریل ! محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس جاؤ ! اور کہو کہ ہم آپ کی اُمَّت کے

بارے میں آپ کو خوش کردیں گے اور آپ کو غم میں مبتلا نہیں کریں گے ۔ “
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ” ریاض الصالحین“ میں مذکورہ حدیث پاک میں جو پہلی آیت ذکر فرمائی ہے اُس کا آخری جزء ذکر نہیں فرمایا جبکہ اس آخری جزء کی مذکورہ باب سے مناسبت بھی ہے ۔ نیز مسلم شریف کے بعض نسخوں میں اور احادیث کی دیگر کئی کتب میں بھی آیت کا آخری جزء مذکور ہے ۔ پوری آیت مبارکہ یوں ہے :رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)(پ۱۳ ،ابراھیم:۳۶ )ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے ربّ ! بے شک بتوں نے بہت لوگ بہکا دئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے ۔ اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي اِبْرَاهِيْمَ : ( رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-) وَقَوْلَ عِيْسٰى : ( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ

عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸) ) فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ وَبَكٰى فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيْلُ ! اذْهَبْ اِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْكِيْہِ؟ فَاَتَاهُ جِبْرِيْلُ فَاَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ وَهُوَ اَعْلَمُ فَقَالَ اللهُ تَعَالَی : يَا جِبْرِيْلُ ! اذْهَبْ اِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ : اِنَّا سَنُرْضِيْكَ فِي اُمَّتِكَ وَلَا نَسُوءُكَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 425 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے سوار تھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کااللہ عَزَّوَجَلَّپر کیا حق ہے ؟“ میں نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اُس کی عبادت کریں اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کااللہ عَزَّوَجَلَّپر حق یہ ہے کہ جواُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ

کرے
اللہ عَزَّوَجَلَّاس کو عذاب نہ دے ۔ “ پھر میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” اُنہیں یہ بشارت مت دینا ورنہ وہ اِسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ “

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِىِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلَى حِمَارٍ فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ! هَلْ تَدْرِى مَاحَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ قُلْتُ : اَللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ قَالَ : فَاِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ اَنْ يَّعْبُدُوْهُ وَلاَ يُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئًا وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ اَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ ! اَفَلاَ اُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ : لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوْا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 426 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا براء بن عازِبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’مسلمان سے جب قبر میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں ۔اللہعَزَّوَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان سے یہی مراد ہے :یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-(پ۱۳ ،ابراھیم:۲۷ )ترجمۂ کنزالایمان:اللہثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اَلْمُسْلِمُ اِذَا سُئِلَ فِى الْقَبْرِ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ فَذٰلِكَ قَوْلُهُ تَعَالٰى : ( یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-). ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 427 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَنسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” جب کافر کوئی نیک عمل کرتاہے تواُس کے بدلے میں دنیا میں ہی اس کو کھاناکھلا دیا جاتاہے اورمؤمن کی نیکیوں کواللہ عَزَّ وَجَلَّآخرت کے لیے جمع فرماتا ہے اور دنیا میں اُس کو رِزق اُس کی اِطاعت اور فرمانبرداری کرنے پر عطا فرماتا ہے ۔ “ ایک روایت میں یوں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّبندۂ مؤمن پر نیکیوں میں زیادتی و ظلم نہیں فرماتا ، بعض نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی عطا فرمادیتا ہے اور کچھ کی جزا آخرت میں عطا فرما ئے گا اور کافر کی وہ نیکیاں جو اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے کی ہوتی ہیں ان کے بدلے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کو دنیا میں ہی کھانا کھلا دیتا ہے یہاں تک کہ جباللہ عَزَّ وَجَلَّکافر کوآخرت میں لائے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اُس کو بدلہ دیا جائے ۔ ‘‘

عَنْ اَنَسِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الْكَافِرَ اِذَا عَمِلَ حَسَنَةً اُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَاِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى

طَاعَتِهِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطٰى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَاَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ لِلَّهِ تَعَالٰی فِي الدُّنْيَا حَتّٰى اِذَا اَفْضٰى اِلَى الْآخِرَةِ لَمْ یَکُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزٰى بِهَا. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 428 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” پانچوں نمازوں کی مثال اس بھری ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہواور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ ‘‘

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 429 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان کے جنازے میں ایسے چالیس40 آدمی شرکت کریں جواللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوں تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُس میت کے حق میں اُن کی سفارش قبول فرماتا ہے ۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : اِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِم يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ اَرْبَعُوْنَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُوْنَ بِاللهِ شَيْئًااِلَّا شَفَّعَهُمُ اللهُ فِيْهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 430 ، اُمید کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم چالیس ( 40 ) کے قریب اَفراد حضورسرورِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک خیمہ میں حاضر تھے ، سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات پر راضی ہوکہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟ ‘‘ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے ! مجھے اُمید ہے کہ تم اہل

جنت کا نصف حصہ بنو گے کیونکہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری تعداد ایسے ہوگی جیسا کہ سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یاسرخ بیل کے چمڑے میں سیاہ بال ۔ ‘‘

عَن ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِّنْ اَرْبَعِينَ فَقَالَ : اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا رُبُعَ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ! قَالَ : اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ! فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، اِنِّي لَاَرْجُو اَنْ تَكُونُوا نِصْفَ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَذٰلكَ اَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا اِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا اَنْتُمْ فِي اَهْلِ الشِّرْكِ اِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ ، اَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَحْمَرِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 431 ، اُمید کا بیان