- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
اُمید کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جب قیامت برپا ہوگی تواللہ عَزَّ وَجَلَّہرمسلمان کو ایک یہودی یا عیسائی دے کر ارشاد فرمائے گا یہ تیرے لیے جہنم سے بچنے کا فدیہ ہے ۔ ‘‘ اور ایک اور روایت میں حضرت سَیِّدُنَا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑ کے برابر گناہ لے کر آئیں گےاللہ عَزَّوَجَلَّاُن کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔ ‘‘
عَنْ اَبِيْ مُوسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللهُ اِلَى كُلِّ مُسْلِـمٍ يَهُودِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ : هٰذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ. ( ) وَفي رِوَايَةٍ عَنْهُ عَنِ النَّبیِّ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَجِيْءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ بِذُنُوبٍ اَمْثَالِ الْجبَالِ يَغْفِرُهَا الله لَهُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 432 ، اُمید کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نے حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’قیامت کے دن بندۂ مؤمن کواپنے ربّعَزَّوَجَلَّکے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہاللہ عَزَّوَجَلَّاس پر اپنا پردہ رکھے گا اور اس سے گناہوں کا اِقرار کرواتے ہوئے پوچھے گا : کیاتو اِس گناہ کو پہچانتا ہے ؟ کیاتو
اِس گناہ کو پہچانتا ہے ؟ تو بندہ عرض کرے گا : ہاں میرے ربّ ! میں پہچانتا ہوں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فر مائے گا : بیشک دنیا میں ، میں نے تیرے گناہوں کو چھپایا تھا اور آج تیرے گناہوں کو بخشتا ہوں ۔ پھر اس کی نیکیوں کارجسٹر اس کو دے دیا جائے گا ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ : اَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ اَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُولُ : رَبِّ اَعْرِفُ ، قَالَ : فَاِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَاِنِّي اَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 433 ، اُمید کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا ۔ پھر ( نادم ہوکر ) حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا عرض کیا تواللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ(پ۱۲ ،ھود:۱۱۴ )ترجمۂ کنزالایمان: اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔
اس شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے ؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ میری تمام اُمَّت کے لیے ہے ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍرَضِیَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنِ امْرَاَةٍ قُبْلَةً فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرَهُ فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ : ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ ) فَقَالَ الرَّجُلُ : اَلِیَ هٰذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لِجَمِيعِ اُمَّتِي كُلِّهِمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 434 ، اُمید کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے ، مجھ پر حد قائم فرمائیے ۔ “ ( راوی کہتے ہیں ) نماز کا وقت ہوگیا ، اُس شخص نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز ادا کی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو پھر عرض گزار ہوا : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے ، میرے بارے میںکتابُ اللہسے فیصلہ فرمائیے ۔ “ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟“ اُس نے عرض کی : ” جی ہاں ۔ “ فرمایا : ” جا تجھے بخش دیا گیا ۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْهُ عَلَيَّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اِنِّي اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ قَالَ : هَلْ حَضَرْتَ مَعَنَا الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : قَدْ غُفِرَ لَكَ . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 435 ، اُمید کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے وہ فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہے جو کھانا کھاکر اُس کی حمد کرے یا پانی پی کر اُس کی حمد کرے ۔ ‘‘
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا اَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 436 ، اُمید کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّرات بھر اپنا دستِ رحمت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن بھر اپنا دستِ رحمت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والاتوبہ کرے ، ( یہ کرم نوازی اُس وقت تک ہوتی رہے گی ) حتّٰی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيْءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيْءُ اللَّيْلِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 437 ، اُمید کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنااَبو نجیحعَمْرو بِن عَبَسَہسُلَمِيرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں یہ گمان کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں پڑے ہیں اور وہ کسی ( صحیح ) دین پر نہیں ہیں ، وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں پھر میں نے سنا کہ مکے میں کوئی شخص ہے جو کہ خبریں دیتاہے ۔ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کے پاس پہنچ گیاوہاںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی خفیہ مقام پر تھے اور اُن کی قوم اُن پر دلیر تھی ، میں حیلے بہانے سے مکے میں اُن تک پہنچ گیا ، میں نے اُن سے عرض کی : ’’آپ کون ہیں؟ ‘‘ انہوں نے فرمایا : ” میں نبی ہوں ۔ “ میں نے پوچھا : ’’ نبی کسے کہتے ہیں؟ ‘‘ فرمایا : ” مجھےاللہ عَزَّوَجَلَّنے بھیجا ہے ۔ “ میں نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو کیا چیز دے کر بھیجا ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے صلہ رحمی ، بت شکنی ، توحید اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کے پیغام کے ساتھ بھیجا ہے ۔ “ میں نے عرض کی : ’’اِس دین پر آپ کے ساتھ کون کون ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ” آزاد اور غلام ۔ “ ( حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ اُس وقت حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیق اور سَیِّدُنَا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاتھے ۔ ) میں نے عرض کی : ’’میں آپ کی پیروی کرتا ہوں ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” ابھی تم اِس کی استطاعت نہیں رکھتے ، کیا تم میرا اور میرے ساتھیوں کا حال نہیں دیکھ رہے ؟ بلکہ ابھی تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ جب تم سنو کہ مجھے غلبہ حاصل ہوگیا ہے تو میرے پاس آجانا ۔ “حضرت سَیِّدُنَاعَمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ میں اپنے گھر چلا گیا اور بعد ازاں رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گئے ۔ میں اپنے گھر پر تھا اور میں آپعَلَیْہِ السَّلَامکی مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد لوگوں سے آپ کے بارے میں معلومات کرتا رہتا ، حتی کہ میرے خاندان کے کچھ لوگ مدینے شریف سے میرے پاس آئے تو میں نے اُن سے پوچھا : ’’جو صاحب مدینے تشریف لائے ہیں ان کا کیا حال ہے ؟ ‘‘ انہوں نے بتایا : ’’ لوگ تیزی سے ان کی دعوت قبول کر رہے
ہیں ، اُن کی قوم نے انہیں قتل کرنا چاہا لیکن وہ ایسا نہ کرسکے ۔ ‘‘
حضرت عَمرو بن عبسہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ پس میں مدینے پہنچ گیا ، میں نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ ‘‘رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” ہاں تم مجھے مکے میں ملے تھے ۔ “ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اُن چیزوں کے بارے میں بتائیں جواللہ عَزَّوَجَلَّنے آپ کو بتائی ہیں اور جنہیں میں نہیں جانتا ، مجھے نمازکے بارے میں بتائیں ۔ ‘‘رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” صبح کی نماز پڑھو ، پھر اس وقت تک نماز سے رُکے رہو جب تک سورج ایک نیزے کے برابر بلند نہ ہوجائے کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اُس وقت کافر اُس کو سجدے کرتے ہیں ، پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت فرشتے نماز میں حاضر ہوتے اور گواہی دیتے ہیں یہاں تک کہ جب سایہ نیزے کی مقدار سے کم ہوجائے تو اُس کے بعد نماز سے رُک جاؤکیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے ، پھر جب سورج ڈھل جائے تو نماز پڑھو کیونکہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو ، پھر نماز سے رُکے رہو یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے کیونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اُس وقت کفار اُسے سجدہ کرتے ہیں ۔ “ حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن عبسہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے ۔ ‘‘ فرمایا : ” تم میں سے جو شخص بھی وضو کا پانی لے کر کلی کرتا ہے ، پھر ناک میں پانی ڈالتا ہے اور ناک صاف کرتا ہے تو اُس کے چہرے ، منہ اور ناک کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب وہ حکم الٰہی کے مطابق اپنا چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے اَطراف سے چہرے کے گناہ پانی کے ساتھ گِر جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے تو اُس کے ہاتھوں کے گناہ انگلیوں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں پھر اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ بہہ جاتے ہیں ، پھر وہ اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے پیروں کے گناہ انگلیوں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں ، پھر اگر وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی ایسی حمد و ثناء کرے جو اس کی شان کے لائق ہے اور اپنے دل کواللہ عَزَّوَجَلَّکے لیے تمام چیزوں سے فارغ کرے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے اُس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔ “
حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن عبسہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ حدیث صحابی رسول حضرت سَیِّدُنَا ابو امامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو سنائی تو ابو امامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ4ُنے کہا : ” اے عَمْرو ! دیکھو تم کیا کہہ رہے ہو ، کیا ایک ہی جگہ پر ( ایک ہی عمل سے ) کسی کو اتنا اجر مل سکتا ہے ؟“حضرت سَیِّدُنَاعَمرو بن عبسہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا : ” اے ابو امامہ ! میں بوڑھا ہوچکا ہوں ، میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں ، میری موت کا وقت قریب آچکا ہے ، اس حالت میں مجھے کیا ضرورت کہ میںاللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھوں ، اگر میں نے یہ حدیثرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایک بار ، دو بار ، تین بار حتّٰی کہ سات بار تک نہ سنی ہوتی تو میں اس حدیث کو کبھی بیان نہ کرتا بلکہ میں نے تو یہ حدیث سات بار سے بھی زیادہ سُنی ہے ۔ “
عَنْ اَبِی نَجِیْحٍ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنْتُ وَاَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ اَظُنُّ اَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَاَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْاَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ اَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي
فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَاِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَاءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لَهُ : مَا اَنْتَ؟ قَالَ : اَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ : وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ : اَرْسَلَنِي اللهُ فَقُلْتُ : وَبِاَيِّ شَيْءٍ اَرْسَلَكَ؟ قَالَ : اَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْاَرْحَامِ وَكَسْرِ الْاَوْثَانِ وَاَنْ يُوَحَّدَ اللهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ قُلْتُ : فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ : حُرٌّ وَعَبْدٌ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ اَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قُلْتُ : اِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ : اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ ذٰلِكَ يَوْمَكَ هَذَا اَلَا تَرَى حَالِيْ وَحَالَ النَّاسِ وَلَكِن اِرْجِعْ اِلَى اَهْلِكَ فَاِذَا سَمِعْتَ بِيْ قَدْ ظَهَرْتُ فَاْتِنِيْ قَالَ : فَذَهَبْتُ اِلٰی اَهْلِيْ وَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي اَهْلِيْ فَجَعَلْتُ اَتَخَبَّرُ الْاَخْبَارَ وَاَسْاَلُ النَّاسَ حِيْنَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتّٰى قَدِمَ نَفَرٌ مِّنْ اَهْلِیَ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ؟ فَقَالُوا النَّاسُ : اِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ اَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيْعُوْا ذٰلِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ : نَعَمْ ، اَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللهُ وَاَجْهَلُهُ اَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ : صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحٍ فَاِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِيْنَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُوْرَةٌ حَتّٰى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ فَاِنَّہُ حِيْنَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَاِذَا اَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُوْرَةٌ حَتّٰى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَاِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِيْنَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ! فَالْوُضُوءُ حَدِّثْنِي عَنْهُ فَقَالَ : مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوءَهُ فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيْهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ اِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا اَمَرَهُ اللهُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ اَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ اِلَى الْمِرْفَقَيْنِ اِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ اَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَاْسَهُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَاْسِهِ مِنْ اَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ اِلَى الْكَعْبَيْنِ اِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ اَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ فَاِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللهَ تَعَالی وَاَثْنٰى عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ اَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ اِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيْئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهٰذَا الْحَدِيثِ اَبَا اُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ اَبُو اُمَامَةَ : يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ! انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطٰى هٰذَا الرَّجُلُ فَقَالَ
عَمْرٌو : يَا اَبَا اُمَامَةَ ! لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ اَجَلِي وَمَا بِيْ حَاجَةٌ اَنْ اَكْذِبَ عَلَى اللهِ وَلَا عَلَى رَسُولِ اللهِ لَوْ لَمْ اَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَّا مَرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ اَوْ ثَلَاثًا حَتّٰى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ اَبَدًا بِہِ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 438 ، اُمید کا بیان
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی قوم کے ساتھ رحمت کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس قوم کے نبی کو اُن سے پہلے وفات دیتا ہے اور نبی کو اُس قوم کے لیے پیشرو بنادیتا ہے اور جب کسی قوم کی
ہلاکت کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُن کے نبی کی زندگی میں اس قوم کو عذاب دیتا ہے ، انہیں ہلاک فرماتا ہے ، نبی حیات ہوتے ہیں اور ان کی ہلاکت دیکھ رہے ہوتے ہیں تو اس طرحاللہ عَزَّوَجَلَّاُن کی ہلاکت سے نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے نبی کو جھٹلایا اور اُس کی حکم عدولی کی ۔ ‘‘
عَنْ اَبِيْ مُوسَى الْاَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَرَادَ اللهُ تَعَالٰی رَحْمَةَ اُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاِذَا اَرَادَ هَلَكَةَ اُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَاَهْلَكَهَا وَهُوَ حَيٌّ يَنْظُرُ فَاَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَاكِهَا حِيْنَ كَذَّبُوْهُ وَعَصَوْا اَمْرَهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 439 ، اُمید کا بیان
- 1
- 2