اربَعیْنِ حَنفِیَّہ

حضرت سیدنا جابررضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا جس شخص کے لئے امام ہو تو امام کا پڑھنا اسی کا پڑھنا ہے ۔

عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَنْ کَانَ لَہٗ اِمَامٌ فَقِرَاءَۃُ الْاِمَامِ لَہٗ قِرَاءَۃٌ۔ رَوَاہٗ الْحَافِظُ اَحْمَدُ بْنُ مُنِیْعٍ فِیْ مُسْندِہِ وَ مُحَمَّدٌ فِی الْمُؤَطَّا وَ الطَّحَاوِیْ وَ الدَّارَقُطْنِیْ ( المؤطا لامام محمد ۸۹ ، المسند لامام اعظم ۶۱۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 21

حضرت سیدنا ابوہریرہرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ رسول کریم ، رؤف رّحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا جب امامغَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْنَکہے تو تم آمین کہو ۔ کیونکہ جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ موافق ہوگئی اس کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے۔اس کو بخاری نے روایت کیا۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ اِذَا قَالَ الْاِمَامُ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِیْنَ فَقُوْلُوْا آمِیْن فَاِنَّہٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ رَوَاہٗ الْبُخَارِیْ (صحیح البخاری کتاب التفسیر ۴/۱۶۲۳۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 22

حضرت وائل بن حجر سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ساتھ نماز پڑھی۔حضورصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمجب’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لاَ الضَّالِّیْن‘‘کو پہنچے تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے پوشیدہ آواز سے آمین کہی ۔
اس حدیث کو حاکم ،طبرانی ،دارقطنی ، ابو یعلی اور امام احمد نے روایت کیا۔ یہ حدیث آمین کے اخفا میں نص ہے ۔اس کی سند صحیح ہے ۔

عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ أَنَّہٗ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَلَمَّا بَلَغَ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلاَ الضَّآلِیْنَ قَالَ اٰمِیْن اَخْفٰی بِھَا صَوْتَہٗ۔ رَوَاہٗ الْحَاکِمُ وَ الطَّبْرَانِیْ وَ الدَّارَقُطْنِیْ وَ اَبُوْ یَعْلٰی وَ اَحْمَدُ (جامع الترمذی۶۳، نصب الرایۃ ۱/۳۶۹۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 23

حضرت جابر بن سمرہرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہا انہوں نے نکلے ہم پر رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّماور فرمایا کیا ہے مجھے کہ میں تمہیں رفع یدین کرتا ہوا دیکھتا ہوں گویا کہ سرکش گھوڑوں کی دم ہیں ۔ نماز میں آرام کیا کرو ۔اس کو مسلم نے روایت کیا۔

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَالِیْ اَرَاکُمْ رَافِعِیْ اَیْدِیَکُمْ کَأَنَّھَا اَذْنَابُ خَیْلٍ شَمْسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلوٰۃِ ۔رَوَاہٗ مُسْلِمٌ (الصحیح لمسلم۱ /۱۸۱ ،ابو داود۱ /۱۴۳۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 24

حضرت علقمہرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ عبداﷲبن مسعودرضی اﷲ عنہنے فرمایا کہ میں تمہیںرسول اﷲصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی نماز پڑھ کرنہ دکھاؤں ؟ پھر نماز پڑھی اور ایک بار (تحریمہ ) کے سوا ہاتھ نہ اٹھائے۔اس حدیث کو ابوداؤد، ترمذی و نسائی نے روایت کیا۔

عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ مَسْعُودٍرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ اَلا أُصَلِّيْ بِکُمْ صَلوٰۃَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَصَلَّی وَلَمْ یَرْفَعْ یَدَیْہِ إِلَّا مَرَّۃً ۔ اَبُوْ دَاوٗدَ (١٠٤ابوداؤد ۱؍۱۰۹، جامع ا لترمذی ۲؍۴۰، النسائی ۱؍۱۹۵۔ )

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 25

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرمایا رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب امامسَمِعَ اﷲ لِمَنْ حَمِدَہٗکہے تو تماَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُکہو ۔بے شک جس شخص کا قول فِرشتوں کے قول کے موافق ہو اس کے اگلے سب گناہ بخشے جاتے ہیں ۔
اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔

عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ ، قَالَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِذَا قَالَ الْاِمَامُ سَمِعَ اﷲ ُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ فَإِنَّہٗ مَنْ وَافَقَ قَوْلُه‘ قَوْلَ الْمَلٰئِکَۃِ غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ( صحیح البخاری ۳؍۱۱۷۹، الصحیح لمسلم ۱؍۳۰۶۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 26

حضرت وائل بن حجررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا جب سجدہ کرتے اپنے گھٹنوں کو ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو ہاتھوں کو پہلے اٹھاتے ۔

عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجَرٍ قَالَ رَأیْتُ رسول َ ﷲِ صَلَّي اللهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُکْبَتَیْہِ قَبْلَ یَدَیْہِ وَ إِذَا نَھَضَ رَفَعَ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ۔ رَوَاہٗ الْاَرْبَعَۃُ وَ ابْنُ خُزَیْمَۃَ وَ ابْنُ حَبَان (جامع الترمذی ۲؍۵۶، ابوداؤد ۱؍۲۲۲، السنن لنسائی ۲؍۲۰۶۔ ، ابن حبان ۳؍۱۹۱۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 27

حضرت سیدنا عباس بن عبدالمطلبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے انہوں نےرسول اﷲ عَزَّوَجَلَّوصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سنا فرماتے تھے جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں ۔ایک منہ اور اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں زانواور دونوں قدم ۔اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔

عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ أنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یَقُوْلُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَہ‘ سَبْعَۃُ اَرَابٍ وَجْھُہ‘ وَکَفَّاہُ وَ رُکْبَتَاہُ وَقَدَمَاہُ۔ رَوَاہٗ التِّرْمِذِیْ (جامع الترمذی ۲/۶۱ ، البیھقی ۲/۱۰۱۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 28

کہ رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدو عورتوں پر گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاإِذَا سَجَدْتُّمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِکہ جب تم سجدہ کرو تو اپنے بعض اعضاء کو زمین کے ساتھ چسپاں کرو۔ یعنی پیٹ رانوں کے ساتھ اور ہاتھ زمین کے ساتھ چمٹ جائیں ۔

اَنَّ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَرَّ عَلَی امْرَأتَیْنِ تُصَلِّیَانِ فَقَالَ إذَا سَجَدْتُّمَا فَضُمَّا بَعْضَ اللَّحْمِ اِلَی الْاَرْضِ فَأِنَّ الْمَرْأَةَ لَیْسَتْ فِیْ ذٰلِکَ کَرَجُلٍ۔ (المراسیل لابی داؤد ۱؍۱۱۸، تلخیص الحبیر ۱؍۲۴۲، السنن لبیھقی الکبری۲ /۲۲۳)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 29

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ رسول کریم ،رؤف رّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنمازمیں اپنے قدموں کے کنارہ پر کھڑے ہوتے تھے۔
اس کو ترمذی نے روایت کیا۔

عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ کَانَ النَّبیُّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یَنْھَضُ فِي الصَّلوٰۃ عَلٰی صُدُوْرِ قَدَمَیْہِ۔رَوَاہٗ التِّرْمِذِیْ ( جامع الترمذی ۲؍۸۰ ۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 30

حضرت سیدنا وائلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں میں نے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے نماز پڑھی جب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیٹھے اور تشہد پڑھا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بایاں قدم زمین پر بچھایا اور اس پر بیٹھے۔
اس کو طحاوی نے روایت کیا ۔

عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَلَمَّا قَعَدَ وَتَشَھَّدَ فَرَشَ قَدَمَہُ الْیُسْریٰ عَلَی الاَرْضِ وَ جَلَسَ عَلَیْھَا ۔ رَوَاہُ الطَّحَاوِِیْ ( شرح معانی الاثار للطحاوی ۱۸۴ ۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 31

حضرت سیدنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم جب رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو کہتے تھے سلام ہواﷲ عَزَّوَجَلَّپر سلام ہو جبرائیلعَلَیْہِ السَّلامپر سلام ہو میکائیلعَلَیْہِ السَّلامپر سلام ہو فلاں پر ۔ تو جب رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز سے پھرے تو ہماری طرف منہ کرکے فرمایا یہ نہ کہا کرو کہاﷲپر سلام ہو کیونکہاﷲہی سلام ہے ۔جب تمہارا کوئی نماز میں بیٹھے تو یہ پڑھےاَلتَّحِیَّاتُ ِﷲِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ(1)۔اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا۔(1) ∞ترجمہ: تمام قولی و بدنی اورمالی عبادتیں αاﷲ تعالیٰکیلئے ہیں ۔اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی)صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ پر سلام ہو اوراﷲ تعالیٰکی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، ہم پر سلام ہو اوراﷲ تعالیٰکے نیک بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہاﷲ تعالیٰکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میں گواہی دیتا ہوں کے بیشک محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ تعالیٰکے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

عَنْ عَبْدِ اﷲ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا مَعَ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قُلْنَا اَلسَّلاَمُ عَلَی اﷲ ِ قِبَلَ عِبَادِہِ اَلسَّلامُ عَلیٰ جِبْرَائِیْلَ اَلسَّلامُ عَلیٰ مِیْکَائِیْلَ اَلسَّلاَمُ عَلٰی فُلانٍ فَلَمَّا اِنْصَرَفَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ قَالَ لاَ تَقُوْلُوْا اَلسَّلاَمُ عَلَی اللّٰہِ فَإِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّلاَمُ فَإِذَا جَلَسَ أحَدُکُمْ فِی الصَّلوٰۃِ فَلْیَقُلْ اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاۃُ وَالطَّیِّبَاتُ اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲ وَبَرَکَاتُه‘ اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَا وَعَلیٰ عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِیْنَ فَإِنَّہٗ إِذَا قَالَ ذٰلِکَ اَصَابَ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَآءِ وَالْأَرْضِ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ‘ وَرُسُوْلُہٰ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (صحیح البخاری ۱؍۱۱۵،الصحیح لمسلم کتاب الصلوۃ ۱؍۱۷۳ )

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 32

حضرت سیدنا عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرمایا رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے : جب کسی کو نماز میں شک ہو تو صواب کا قصدکرے اور اس پر پورا کرے پھر سلام کہے اور دو سجدے (سہو کے) کرے۔

إِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاتِہٖ فَلْیَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ثُمَّ یُسَلِّمُ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ (الصحیح لمسلم،کتاب المساجد ۱؍۲۱۲۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 33

حضرت سیدنا ابو امامہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہا گیا یارسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکونسی دعا زیادہ سنی جاتی ہے ۔ فرمایا پچھلی رات کے درمیان اور فرض نمازوں کے بعد ۔اس کو ترمذی نے روایت کیا۔

عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ قِیْلَ یَا رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَیُّ الدُّعَاءِ اَسْمَعُ؟قَالَ جَوْفَ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ وَ دُبُرَالصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ (جامع الترمذی ۵۱۳ ،عمل الیوم واللیلہ ۱؍۱۸۶۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 34

رسول کریمصَلَّی اﷲتَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا یعنی جو شخص ہرنمازکے پیچھے (بعد) ہاتھ پسار (پھیلا )کر یہ دعا پڑھے تواﷲتبار ک وتعا لیٰ پرحق ہے کہ وہ اس کے ہاتھ خالی نہ پھیرے ۔اس حدیث کو حافظ ابوبکر بن السنی نےعمل الیوم واللیلۃمیں روایت کیا۔------------
∞(1).. ترجمہ :اے
اﷲ! اے میرے معبود اور اے ابراہیم و اسحٰق اور یعقوب علیہم الصلٰوۃوالسلام کے خدا اور اے جبرائیل و میکائیل اور اسر افیلعلیہم السلامکے رب د! مجھ لاچار کی دعا قبول فرما،اور میں مبتلائے مشکلات ہوں ، میرے دین میں میری حفاظت فرما ، اورمجھ گناہگار پراپنی رحمت نازل فرما اور مجھ سے مفلسی دور کرکہ میں محتاج و مسکین ہوں۔

مَا مِنْ عَبْدٍ بَسَطَ کَفَّیْہِ فِیْ دُبُرِِکُلِّ صَلوٰۃٍ ثُمَّ یَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ إِلٰھِیْ وَإِلٰہَ إِبْرَاھِیْمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ وَإِلٰہَ جِبْرِِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَ إِسْرَافِیْلَ اَسْئَلُکَ اَنْ تَسْتَجِیْبَ دَعْوَتِیْ فَإِنِّیْ مُضْطَرٌّ وَ تَعْصِمَنِيْ فِیْ دِیْنِیْ فَإِنِّیْ مُبْتَلًی وَتَنَالَنِیْ بِرَحْمَتِکَ فَإِنِّیْ مُذْنِبٌ وَتَنْفِی عَنِّی الْفَقْرَ فَإِنِّیْ مُتَمَسْکِنٌ إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَی اﷲ ِ عَزَّوَجَلَّ اَنْ لاَّ یَرُدَّ یَدَیْہِ خَائِبَیْنِ ۔ ( تُحْفَۃُ الْاَحْوَذِیْ ۲؍۱۷۱۔)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 35

فرمایا حضور نبی کریم رؤ ف الرحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کہ اپنے امام برگزیدہ لوگوں کو بناؤ کہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان تمہارے ایلچی(سفیر) ہیں۔ اس کو دارقطنی نے روایت کیا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ، قَالَ رسول صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِجْعَلُوْا أَئِمَّتَکُمْ خِیَارَکُمْ فَإِنَّھُمْ وَفْدُکُمْ فِیْمَا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ رَبِّکُمْ۔ رَوَاہٗ الدَّارقُطْنِیْ ( الدار قطنی ۱؍۱۹۷۔ )

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 36

حضرت سیدنا سائب بن خلادرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ایک شخص نے ایک قوم کی اِمامت کی اور قبلہ کی طرف منہ کرکے تھوکا رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدیکھ رہے تھےحضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کی قوم کو فرمایا جب وہ فارغ ہوا کہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے پھر جب وہ نماز پڑھانے لگا تو لوگوں نے اسے منع کیا اور رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کی اسے خبر دی تو اس نے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس ذکر کیا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا ہاں ( میں نے منع کیا ہے ) راوی کہتے ہیں میں گمان کرتا ہوں کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ بھی فرمایا کہ تو نےاﷲ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ایذا دی۔

عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ قَالَ إِنَّ رَجُلاً أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِیْ الْقِبْلَۃِ وَ رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یَنْظُرُ فَقَالَ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لِقَوْمِہٖ حِیْنَ فََرَغ لَا یُصَلِّیْ لَکُمْ فَأَرَادَ بَعْدَ ذٰلِکَ أَنْ یُصَلِّیَ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ فَأَخْبَرُوْہُ بِقُوْلِ رسول اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ ﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ نَعَمْ وَحَسِبْتُ أَنَّہ‘ قَالَ إِنَّکَ قَدْ اٰذَیتَ اﷲَ وَرَسُوْلَہ۔(المشکوٰۃ،۶۳)

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 37

حضرت سیدنا ابن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ میں رسول کریم ، رؤف رّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا نماز سے فارغ ہونا تکبیر (کی آواز) سے پہچان لیا کرتا تھا۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْھُمَا قَالَ کُنْتُ اَعْرِفُ اِنْقِضَاءَ صَلوٰۃِ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بِالتَّکْبِیْرِ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ( صحیح البخاری ۱/۱۱۶، الصحیح لمسلم ۱/۲۱۷۔ )

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 38

حضور سراپا نورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو شخص فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ کراﷲ عزوجلکا ذکر کرتا ہوا بیٹھا رہے یہاں تک کہ سورج نکل آئے پھردورکعت نماز پڑھے اسے حج اور عمرہ کا ثواب ملتا ہے۔ حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین بار فرمایا کہ پورے حج و عمرہ کا۔ اس کو ترمذی نے روایت کیا۔

عَنْ أنَسٍ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ ، قَالَ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِیْ جَمَاعَۃٍ ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اللّٰہَ حَتّیٰ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلّی رَکْعَتَیْنِ کَانَتْ لَہ کَأَجْرِ حَجَّۃٍ وَّعُمْرَۃٍ قَالَ قَالَ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ ۔ رَوَاہٗ التِّرْمِذِیُّ ( جَامِعُ الْتِرْمِذِیْ ،کِتَابُ الْجُمُعَۃِ ص ۶۰ ۔ )

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 39

حضرت سیدنا معاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے رسول کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جس شخص کے حق میںاﷲ تعالیٰبہتری کا ارادہ رکھتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے ۔یعنی اسے عالم فقیہ بنادیتا ہے۔ سوائے اس کے نہیں میں تقسیم کرنے والا ہوں(1)اورخدا تعالیٰ دیتا ہے۔ یعنی ہر وہ چیز کہ خدا دیتا ہے اس کو میں تقسیم کرنے والا ہوں ۔

عَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ ، قَالَ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَنْ یُرِدِ اﷲُ بِہٖ خَیْرًا یُفَقِّھْہُ فِیْ الدِّیْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَ اﷲ یُعْطِيْ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ( صحیح البخاری ۱؍۳۹ ، ۲؍۹۳۹، ۶؍۲۶۶۷ ، الصحیح لِمسلم ۲؍۷۱۹۔ )

اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 40