اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
حضرت سیدنا عمر بن الخطابرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہا انہوں نے ،فرمایا رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے ،سوائے اس کے نہیں اعمال ( کا اعتبار اور خدا کی درگاہ میں قبولیت) نیتوں(1)کے ساتھ ہے ۔یعنی کوئی عمل بدونِ نیت معتبر اور مقبول نہیں ۔اور کسی آدمی کو اس کے کام میں حصہ یا ثواب نہیں مگر وہی جو اس نے نیت کی پس جس شخص کی ہجرت محض خداعزوجلاور اس کے رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکیلئے ہو (یعنی اس کی نیت میں طلب رِضا و امتثال امر شارع (اﷲ تعالیٰورسول صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی پیروی )ہو) تو اس کی ہجرت خداعزوجلاور اس کے رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے لئے ہے ۔(یعنی مقبول ہے اور اس پر ثواب عظیم مترتب ہوتا ہے ) اور جس کی ہجرت محض حصولِ دنیا کے لئے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہجرت کرتا ہو (خداعزوجلاور رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی رِضامندی کیلئے نہ ہو )تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی یعنی حصول دنیا یا نکاح ۔ اس کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
(1) امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں :بیشک جو علم نیت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کر سکتا ہے مثلاً ، جب نماز کیلئے مسجد کو چلا اور صرف یہی قصد ہے کہ نماز پڑھو نگا تو بے شک اس کا یہ چلنا محمود ،ہر قدم پر ایک نیکی لکھیں گے اور دوسرے پر گناہ محو کریں گے مگر عالم نیت اس ایک فعل میں اتنی نیتیں کرسکتا ہے اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں(۲)خانۂ خدا کی زیارت کرونگا(۳) شعار اسلام ظاہر کرونگا (۴)داعیالی اﷲکی اجابت کرتا ہوں(۵) تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں(۶) مسجد سے خس و خاشاک وغیرہ دور کرونگا(۷) اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتیٰ بہ پر(نفلی) اعتکاف کیلئے روزہ شرط نہیں ۔ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے ، جب سے داخل ہو باہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرے ۔ انتظار نماز و ادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا۔ (۸) امر الٰہی’’ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ‘‘(اپنی زینت لو جب مسجد جاؤ) کے امتثال کو جاتا ہوں ۔ (۹) جو وہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھوںگا، دین کی باتیں سیکھوں گا (۱۰) جاہلوں کو مسئلہ بتاؤںگا، دین سکھاؤں گا (۱۱)جو علم میں میرے برابر ہوگا اس سے علم کی تکرار کروں گا (۱۲) علماء کی زیارت (۱۳) نیک مسلمان کا دیدار (۱۴)دوستوں سے ملاقات(۱۵) مسلمانوں سے میل (۱۶) جو رشتہ دار ملیں گے ان سے بکشادہ پیشانی مل کر صلۂ رحمی (۱۷) اہل اسلام کو سلام (۱۸) مسلمانوں سے مصافحہ کروںگا (۱۹) ان کے سلام کا جواب دوں گا (۲۰) نماز باجماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کروں گا (۲۱) و (۲۲) مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم پر سلام عرض کروں گا(۲۳) و (۲۴) دخول و خروج میں حضور و آل حضور و ازواج حضورپر درود بھیجوں گااللھم صلی علی سیدنا محمد وعلی ال سیدنا محمد وعلی أزواجسیدنا محمدصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم(۲۵) بیمار کی مزاج پرسی کروں گا (۶ ۲) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کروں گا (۲۷) جس مسلمان کو چھینک آئی اور اس نے ’الحمد ﷲ‘ کہا اسے ’یرحمک اﷲ‘ کہوں گا(۲۸)امر بالمعروف (۲۹)و نہی عن المنکر کروں گا (۳۰)نمازیوں کو وضو کا پانی دوں گا (۳۱)و (۳۲)خود مؤذن ہے ، یا مسجد میں کوئی مؤذن مقرر نہیں تو نیت کرے کہ اذان و اقامت کہوں گا۔اب یہ کہنے نہ پایا یا دوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت کا ثواب پاچکا ،فَقَدْ وَقَعَ أجَرُہ‘ عَلٰی اﷲِ(۳۳)جو راہ بھولا ہوگا اُسے راستہ بتاؤں گا(۳۴)اندھے کی دستگیری کروں گا (۳۵) جنازہ ملا تو نماز پڑھوں گا (۳۶)موقع پایاتوساتھ دفن تک جاؤں گا۔ (۳۷)دومسلمانوں میں نزاع ہوئی
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اﷲِ ُ تَعَالیٰ عَنْہُ قَالَ:قَالَ: رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وإِنَّمَا لِکُلِّ إمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اِلَی اﷲ ِ وَرَسُولِہ ِ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اﷲ ِ وَرَسُولِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہٗ اَلٰی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِ إمْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُھَا ھِجْرَتُہٗ إِلٰی مَا ھَاجَرَ إِلَیْہِ‘‘۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ .(صحیح البخاری ۱/۳ ، الصحیح لمسلم ۱/ ۱۴۰ ، سنن ابی داؤد ۱/۳۰۰ ،النسائی ۱/۲۴)
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 1
حضرت سیدنا معاذ بن جبلرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ جب ان کورسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہنے عرض کیا کہ میںاﷲ عزوجلکی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا اگراﷲ عزوجلکی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا اگر تو رسولعلیہِ السّلامکی سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا ؟ انہوں نے عرض کی کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔ حضرت سیّدنا معاذرضی اﷲ عنہکہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایاالحمد ﷲ عزوجلکہاﷲ تعالیٰنے اپنے رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے ساتھاﷲ تعالیٰ عزوجلکا رسولصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمراضی ہے۔
عَنْ مَعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أنَّ رَسُوْلَ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَہٗ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآءٌ ؟ قَالَ أَقْضِيْ بِکِتَابِ اﷲ ِ قَالَ فَإنْ لَّمْ تَجِدْ فِيْ کِتَابِ اﷲ ِ ؟قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإنْ لَّم تَجِدْ فِيْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَھِدُ رَأیِيْ وَلا اٰلُوْا قَالَ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ صَدْرِہٖ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲ ِ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اﷲ ِ ۔رَوَاہُ الْتِّرْمِذِیُ وَ أَبُوْ دَاؤُدَ وَالْدَّارَمِيُّ ..(جَامِعُ الْتِرْمِذِیْ ۳/۶۱۶‘ سُنَنِ اَبِیْ دَاؤد ۳/۳۰۳‘ الدارمی ۱/۷۲‘ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 2
حضرت سیدنا رافع بن خدیجرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ سنا میں نے رسول کریم رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمفرماتے تھے کہ نماز فجر میں اسفار کرو یعنی روشنی میں ادا کرو۔کیونکہ اس کا روشنی میں ادا کرنااجر میں بہت بڑا ہے ۔
عَنْ رَافِعِ بْنِ خُدَیْج قَالَ :سَمِعْتُ رسول اﷲ صَلَّی اﷲ تعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ أَسْفِرُوْا بِالْفَجْرِ فَإِنَّہ‘ أَعْظَمُ لِلْأجْرِ ۔ رَوَاہٗ التِّرْمِذِیُّ وَ قَالَ حَسَنٌ صَحِیْحٌ وَ اَبُوْ دَاؤُدَ وَ الدَّارِمِیُّ. (جَامِعُ الْتِرْمِذِیِّ بَابُ مَا جَاءَ بِالْاِسْفَارِ بِالْفَجْرِ۱/۴۰ ‘ اَلْسُنَنْ لِاَبِیْ داؤدَ ۱/۶۱، اَلْدَّارَمِیُّ ۱/۳۰۰۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 3
حضرت سیدنا ابو ذر غفاریرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ہمراہ سفر میں تھے ۔مؤذن نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا ٹھنڈا کرو یعنی وقت ٹھنڈا ہونے د و ۔اس نے پھر تھوڑی دیر کے بعد اذان دینے کاارادہ کیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا ٹھنڈا ہونے د و۔ اس نے پھر تھوڑی دیر کے بعد اذان کا ارادہ کیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا اور ٹھنڈا ہونے دو ۔یہاں تک کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا۔پھر آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ گرمی کی شدت دوزخ کے جوش سے ہوتی ہے۔
عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ رَضِیَ ﷲُ عَنْہُ قَالَ کُنَّا مَعَ الْنَّبِي صَلَّی اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ یُؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ ‘ اَبْرِدْ ثُمَّ اَرَادَ اَنْ یُّؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ ‘ اَبْرِدْ ثُمَّ اَرَادَ أنْ یُّؤَذِّنَ فَقَالَ لَہ ‘ اَبْرِدْ حَتّٰی سَاوَی الْظِّلُّ التَّلُوْلَ فَقَال الْنَّبِيُّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ ۔رَوَاہٗ الْبُخَارِيُّ. (صحیح البخاری ۱/۸۷ باب الاذان‘الصحیح لمسلم باب استحباب الابراد بالظہر ۱/۴۳۰۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 4
حضرت سیدنا ابوہریرہرضی اﷲ عنہسے روایت ہے کہ فرمایارسولا کرمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہوتی ہے ۔
عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَاَبْرِدُوْا بِالصَّلٰوۃِ فَإِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ. (صحیح البخاری ۱/ ۱۹۸، الصحیح لمسلم ۱/۴۳۰۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 5
ترجمہ :-حضرت علی بن شیبانرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ ہم مدینہ شریف میں رسول کریم ، رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپعَلَیْہِ السَّلامعصر کی نماز میں تاخیر فرماتے تھے جب تک سورج صاف اور روشن رہتا ۔ (1 )--------------------------
(1 ) ..سنن ابی داؤد ۱/۱۱۱
عَنْ عَلِیِّ بْنِ شَیْبَانَ قَالَ قَدِمْنَا عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَلْمَدِیْنَۃَ فَکَانَ یُؤَخِّرُ الْعَصْرَ مَا دَامَتِ الشَّمْسُ بَیْضَاءَ نَقِیَّۃً ۔رَوَاہُ أَبُوْدَاؤُدُ وَسَکَتَ عَنْہُ۔
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 6
ترجمہ :-حضرتِ جابر بن عبداﷲرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ ایک شخص نےرسول اﷲصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔تو جب آفتاب ڈھل گیا تو بلالرضی اﷲ عنہنے ظہر کی آذان دی اس کے بعد آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حکم دیا تو اس نے تکبیر کہی تو آپ نے نماز پڑھی اس نے عصر کی آذان اس وقت کہی جب کہ ہم نے سمجھا کہ آدمی کاسایہ اس سے بڑھ گیا ہے ۔ اس کے بعد آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز پڑھی پھر نماز مغرب کی آذان اس وقت دی جبکہ آفتاب غروب ہوگیا۔ اس کے بعد آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے اسے حکم دیا تو اس نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز مغرب پڑھی ۔پھر عشاء کی آذان اس وقت دی جبکہ دن کی سفیدی یعنی شفق جاتی رہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حکم دیا۔ اس نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز عشاء پڑھی پھر فجر کی آذان دی اس کے بعد آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز پڑھی پھر اگلے دن بلالرضی اﷲ عنہنے ظہر کی آذان اس وقت دی جبکہ آفتاب ڈھل گیا۔ تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے برابر ہوگیا ۔اس کے بعد آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے حکم دیاتو اس نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے عصر کی آذان دی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے دو مثل یعنی دو گنا ہوگیا۔ تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے امر کیا (حکم دیا)تو اس نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے مغرب کی آذان اس وقت دی جبکہ سورج غروب ہوگیا تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے یہاں تک تاخیر فرمائی کہ دن کی سفیدی غائب ہونے کے قریب ہوگئی اور وہ شفق ہے۔ پھر آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے ان کو حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز پڑھی پھر عشاء کی آذان اس وقت دی جب شفق یعنی دن کی سفیدی غائب ہوگئی پھر ہم سوگئے پھر جاگے ۔ کئی بار ایسا ہوا۔ پھررسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے سوا کوئی آدمی اس نماز کا انتظار نہیں کررہا۔ پس تم نماز میں ہی ہو جب تک نماز کے انتظار میں رہو۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں تاخیر کا حکم کرکے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دونگا تو اس نماز کو نصف شب یا قریب نصف شب تک تاخیر کا حکم دیتا ۔پھر انہوں نے فجر کی آذان دی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے یہاں تک تاخیر کی کہ آفتاب قریبِ طلوع تھا۔ تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے امر فرمایا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے نماز فجر پڑھی ۔پھر فرمایا کہ وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ۔ ( 1)-----------------------------
( 1)..مجمع الزوائد ۱/۳۰۴ ،معجم الاوسط ۷/۴۰
عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اﷲ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَنْ وَقْتِ الصَّلوٰۃِ فَلَمَّا دَلَکَتِ الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلاَلٌ الظُّھْرَ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ حِیْنَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْہُ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْعِشَآءِ حِیْنَ ذَھَبَ بَیَاضُ النَّھَارِ وَ ھُوَ الشَّفَقُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ بِلاَلُ الْغَدَ لِلظُّھْرِ حِیْنَ دَلَکَتِ الشَّمْسُ فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حَتّٰی صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیئٍ مِّثْلَیْہِ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَقَامَ وَ صَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حَتّٰی کَادَ یَغِیْبُ بِیَاضُ النَّھَارِ وَھُوَ الشَّفَقُ فِیْمَا یُرٰی ثُمَّ اَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعِشَاءِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ فَنُمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَیْنَارَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَنْتَظِرُ ھٰذِہِ الصَّلوٰۃَ غَیْرُکُمْ فَاِنَّکُمْ فِيْ صَلوٰۃٍ مَاانْتَظَرْتُمُوْھَا وَلَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمَّتِي لَاَمَرْتُ بِتَأخِیْرِ ھٰذِہِ الصَّلوٰۃِ إِلَی نِصْفِ الَّیْلِ اَوْ اَقْرَبَ مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ فَأَخَّرَھَا حَتّٰی کَادَتِ الشَّمْسُ اَنْ تَطْلُعَ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ، اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ھٰذَیْنِ۔ رَوَاہٗ الطَّبرَانِيُّ فِی الْاَوْسَطِ وَ إسْنَادُہٗ حَسَنٌ مَجْمَعُ الزَّوَائِدِ۔
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 7
حضرت سیدنا ابو سعید خدریرضی اﷲ عنہسے روایت ہے ۔ کہا انہوں نے کہ ہم نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے ساتھ نماز پڑھی عشاء کی یعنی کئی راتوں میں اور ایک رات آپ نہ نکلے یہاں تک کہ قریب آدھی رات کے گزر گئی۔ یا یہ کہ ہم نے عشاء پڑھنے کا ارادہ کیا یا یہ کہ ہم نے عشاء پڑھی جس کی تفصیل یہ کہ آپ نہ نکلے یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی۔ پھر آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمتشر یف لائے اور فرمایا کہ اپنی جگہ بیٹھے رہو۔ ہم اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہے تو آپ نے فرمایا کہ اور لوگ نماز پڑھ چکے اور اپنی خوابگاہوں میں لیٹ چکے اور تم جب سے نماز کے انتظار میں ہو نماز میں ہی ہو۔اگرمجھے ضعفِ ضعیف (بوڑھوں کی ناتوانی)اور مرضِ مریض کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو نصف شب تک مؤخر کر دیتا۔اس حدیث کو ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ۔
عَنْ اَبِيْ سَعِیْدٍ قَالَ صَلَّیْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ صَلوٰۃَ الْعَتَمَۃِ فَلَمْ یَخْرُجْ حَتّیٰ مَضٰی نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّیْلِ فَقَالَ خُذُوْا مَقَاعِدَکُمْ فَأَخَذْنَا مَقَاعِدَنَا فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوْا وَاَخَذُوْا مَضَاجِعَھُمْ وَإِنَّکُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلوٰۃٍ مَا انْتَظَرْتُمْ لِصَّلوٰۃِ وَلَوْ لَا ضُعْفُ الضَّعِیْفِ وَسُقْمُ السَّقِیْمِ لَأَخَّرْنَا ھِذِہٖ الصَّلوٰۃَ إِلیٰ شَطْرِ اللَّیْلِ ۔ رَوَاہٗ اَبُو دَاؤُدَ وَ النِّسَائِيُّ وَ ابْنُ مَاجَہْ ۔(السنن ابو داؤد ۱؍۱۱۶ ، النسائی ۱؍۲۲۸،سنن ابن ماجہ ۱؍۳۸۱۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 8
سرور دوعالمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ سوجانے میں تفریط نہیں (1 )۔تفریط (یعنی جرم ) اس پر ہے جو نہ نماز پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ۔--------------------------------
(1 ).. حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعلیہ الرحمۃفرماتے ہیں ’’ اگر نماز کے وقت اتفاقا آنکھ نہ کھلے اور نماز قضا ہو جائے تو گناہ نہیں، گناہ تو اس میں ہے کہ انسان جاگتا رہے اور دانستہ نماز قضا کر دے خیال رہے کہ وقت پر آنکھ نہ کھلنا اگر اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہو، گناہ ہے، جیسے رات کو بلا وجہ دیر سے سونا جس سے دن چڑھے آنکھ کھلے یقینا جرم ہے۔ (مراۃ المناجیح، ۱/۳۶۳)
عَنْ اَبِيْ قَتَادَۃَ قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَمَا اَنَّہ ‘لَیْسَ فِيْ النَّوْمِ تَفْرِیْطٌ اِنّمَا التَّفْرِیْطُ عَلَی مَنْ لَّمْ یُصَلِّ حَتَّی یَجِیْئَ وَقْتُ صَلوٰۃِ الْاُخْرٰی۔ رَوَاہٗ مُسْلِمٌ. (الصحیح لِمُسلم ۱/۴۷۳،اَلْسُّنَنْ لِبَیْھَقِیْ اَلْکُبْریٰ ۱/۳۷۶، السنن لابی داؤد ۱/۶۴ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 9
حضرت ابووائل شقیق بن سلمہرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا علی اور حضرت سیدنا عثمانرضی اﷲ عنہماکے پاس حاضر ہوا ان دونوں نے تین تین بار وضو کے اعضاء کو دھویا اور کلی کو ناک میں پانی ڈالنے سے علیٰحدہ کیا۔ پھر فرمایا کہ ہم نے رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ۔
اس حدیث کو ابن السکن نے اپنی صحاح میں روایت کیا ۔
عَنْ اَبِیْ وَائِلٍ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ شَھِدْتُّ عَلِیَّ ابْنِ أَبِيْ طَالِبٍ وَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ تَوَضَّاَ ثَلاثًا ثَلاثًا وَ اَفْرَدَ الْمَضْمَضَۃَ مِنَ الْاِسْتِنْشَاقِ ثُمَّ قَالَا ھٰکَذَا رَاَیْنَا رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تَوَضَّأَ ۔ رَوَاہٗ عَلِیُّ بْن السَّکَنِ فِي صِحَاحِہِ ، آثَارُالسُّنَنِ. (تَلْخِیْصُ الْحَبِیْرِ۱/۷۹، اَلْاَحَادِیْثُ الْمُخْتَارَہْ۱ /۵۷۲۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 10
حضرت ابن عمررضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ رسول کریم ،رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا جو شخص وضو کرے اور اپنے دونوں ہاتھوں سے گردن کا مسح کرے وہ قیامت کے دن طوق سے محفوظ رکھا جائے گا ۔
عَنْ اِبْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ مَنْ تَوَضَّأَوَمَسَحَ بِیَدَیْہِ عَلیٰ عُنُقِہٖ وَقَی الْغُلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔رَوَاہٗ اَبُو الْحَسَنِ بْنِ فَارِسٍ بِاَسْنَادِہٖ وَ قَالَ ھٰذَا اِنْ شَاءَ اﷲ تَعَالیٰ حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ۔ (تَلْخِیْصُ الْحَبِیْرِ ۱؍۹۳۔)
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 11
حضرت سَیِّدَتُنَاعائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرمایارسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے جس شخص کوقے یانکسیریاقلس(منہ بھرقے) آجاوے یا مذی نکلے تو وہ نماز سے ہٹ جائے پھر وضو کرے پھر اپنی نماز پر بناکرے اور اس کے درمیان کلام نہ کرے ۔ (1 )اس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ۔--------------------------
(1 )..سنن ابن ماجہ ۔ باب ماجاء فی البناء علی الصّلوۃص۶۹۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اﷲ ُ تَعَالیٰ عَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مَنْ اَصَابَہٗ قَیْئٌ أَوْ رُعَافٌ أَوْ قَلْسٌ أَوْمَذْيٌ فَلْیَنْصَرِفْ فَلْیَتَوَضَّاْ ثُمَّ لِیَبْنِ عَلیٰ صَلَوٰتِہٖ وَھُوَ فِيْ ذٰلِکَ لَایَتَکَلَّمْ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَهْ۔
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 12
طلق بن علی کہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمسے پوچھا گیا کہ کوئی شخص وضو کرکے اپنے ذَکر کو مس کرے(آگے کی شرم گاہ کو چھوئے) (تو کیا حکم ہے ؟ ) تو آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ نہیں وہ مگر ایک ٹکڑا اس سے ۔
عَنْ طَلَقِ بْنِ عَلِيٍ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَکَرَہٗ بَعْدَ مَا یَتَوَضَّاُ قَالَ وَھَلْ ھُوْ إِلَّا بِضْعَۃٌ مِّنْہُ ۔ رَوَاہٗ اَبُو دَاؤُد وَ التِّرْمِذِیْ وَالنِّسَائِیْ. (السنن لِابو داؤد ۔ باب الوضؤ من مس الذکر ۱؍۹۴ جامع الترمذی ۱؍۱۴۲، النسائی ۱؍۱۰۱۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 13
حضرت سیدنا جابررضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے فرمایا کہ تیمّم دو ضربیں ہیں ۔ ایک ضرب منہ کے لئے ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لئے کہنیوں تک۔
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ اَلتَّیَمُّمُ ضَرْبَۃٌ لِلْوَجْہِ وَضَرْبَۃٌ لِلذِّرَاعَیْنِ إِلیٰ الْمِرْفَقَیْنِ۔ رَوَاہٗ الْحَاکِمُ وَ صَحَّحَہٗ وَ قَالَ الدَّارَ قُطْنِیْ رِجَالُہٗ کُلُّھُمْ ثِقَاتٌ (الدار قطنی۱؍۱۸۱۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 14
حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے اصحاب نے ہمیں حدیث بیان کی کہ عبداﷲبن زید انصاریرضی اﷲ عنہحضورعَلَیْہِ السَّلامکے پاس آئے اور عرض کی کہ یارسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّممیں نے خواب میں دیکھا ہے گویا ایک شخص کھڑا ہے اور اس پر دو سبز کپڑے ہیں ۔وہ دیوار پر کھڑا ہوا۔اس نے دو دو مرتبہ اذان دی اور دو دو مرتبہ اقامت کہی۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور بیہقی نے سنن میں روایت کیا۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِيْ لَیْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَنَّ عَبْدَ اﷲِ بْنَ زَیْدِنِ الْاَنْصَارِيْ جَاءَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِرَاَیْتُ فِي الْمَنَامِ کَانَ رَجُلاً قَامَ وَعَلَیْہِ بُرْدَانِ اَخْضَرَانِ فَقَامَ عَلٰی حَائِطٍ فَأَذَّنَ مَثْنیٰ مَثْنیٰ وَ اَقَامَ مَثْنیٰ مَثْنیٰ ۔ رَوَاہُ ابْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ فِی الْمُصَنَّفِ وَ الْبَیْھَقِیُّ فِی سُنَنِہٖ. ( ابن ابی شیبہ ۱/۱۸۵، السنن البیھقی ۱/۴۲۰۔)
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 15
حضرت سیدنا انسرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمجب نماز کوشروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے یہاں تک کہ آپصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکے انگھوٹھے دونوں کانوں کے برابر ہوجاتے پھرسُبْحَانَک اللّٰھُمَّآخر تک پڑھتے ۔اس کو دارقطنی نے روایت کیا۔اس کے سب رواۃثقہ ہیں۔
عَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلوٰۃَ کَبَّرَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّیٰ یُحَاذِيَ إِبْھَامَیْہِ اُذُنَیْہِ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالیٰ جَدُّکَ وَ لاَ إِلٰہَ غَیْرُکَ ۔ رَوَاہٗ الدَّارَقُطْنِیْ وَ قَالَ اِسْنَادُہٗ کُلُّھُمْ ثِقَاتٌ کَذَا فِی الزّیْلَعِیْ. (الدار قطنی ۱؍۳۰۰۔ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 16
حضرت وائل بن حجر کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمکو کہ آپ نے نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر ناف کے نیچے رکھا ۔ اس کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔
عَنْ وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَضَعَ یَمِیْنَہٗ عَلیٰ شِمَالِہٖ فِيْ الصَّلوٰۃِ تَحْتَ السُّرَّۃِ۔
(اَخْرَجَہٗ ابْنُ اَبِیْ شِیْبَۃَ فِی الْمُصَنَّفِ۱ / ۳۹۰ ، تَدْرِیْبُ الرَّاوِیْ ۱ / ۱۸۸ آثَارُ السُّنَنِ ۱۷
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 17
حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمجب نماز شروع کرتے توسُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ اِلٰی آخِرِہٖپڑھتے ۔ اس کو طبرانی نے روایت کیا۔
عَنْ حُمَیْدِ الطَّوِیْلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِذَ اسْتَفْتَحَ الصَّلوٰۃَ قَالَ سُبْحَانَکَ اللَّھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ رَوَاہُ الطَّبْرَانِیْ فِیْ کِتَابِہِ الْمُفْرَدِ فِیْ الدُّعَاءِ وَ اِسْنَادُہٗ جَیِّدَۃٌ . ( آثَارَ السُّنَنْ ،نصب الرایۃ۱/۳۲۱ )
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 18
حضرت سیدنا اَنَسرضی اﷲ عنہفرماتے ہیں کہ رسول کریمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّماور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمربن خطابرضی اﷲ عنہمانمازاَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَکے ساتھ شروع کرتے تھے۔
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وَأَبَابَکْرٍ وَ عُمَرَ کَانُوْا یَفْتَتِحُوْنَ الصَّلوٰۃَ بِالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ رَوَاہٗ الشَّیْخَانِ ( صحیح البخاری،کتاب الاذان ۱/۱۰۳،الصحیح لمسلم۱/۱۷۲)
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 19
حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعریرضی اﷲ عنہکہتے ہیں کہ رسول کریم و رؤف رحیمصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّمنے ہمیں سکھایا کہ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہیئے کہ تم میں سے ایک تمہارا امام بنے اور جب امام پڑھے تو تم چپ رہو ۔
اس کو امام احمدومسلم نے روایت کیا۔
عَنْ اَبِیْ مُوْسیٰ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلوٰۃِ فَلْیَؤُمُّکُمْ أحَدُکُمْ وَاِذَا قَرَأَ الْاِمَامُ فَاَنْصِتُوْا۔رَوَاہُ أَحْمَدُ وَ مُسْلِمٌ ( الصحیح لمسلم،۱/۱۷۴ اَلدِّرَایَۃُ فِیْ تَخْرِیْجِ اَحَادِیْثِ الھِدَایَۃِ ۱/۱۶۴، مُسْنَدُ اَبِیْ عَوَانَہ۲/۱۳۳۔)
اربَعیْنِ حَنفِیَّہ ، حدیث نمبر: 20
- 1
- 2