مقدمہ - اربَعیْنِ حَنفِیَّہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کچھ مصنف علیہ الرحمۃ کے بارے میںفقیہِ اعظم مولانا ابو یوسف محمد شریف قدس سرہ (کوٹلی لوہاراں ، سیالکوٹ)
حنفیت و سنیت کے بطلِ جلیل مولانا محمد شریف ابن مولانا عبد الرحمن سیالکوٹی کوٹلی لوہاراں ضِلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ، علومِ دینیہ کی تکمیل والدِ ماجد سے کی ، ان کے وصال کے بعد برِصغیر پاک و ہند کے ممتاز علماء سے کسبِ فیض کیا۔ حضرت خواجہ حافظ عبد الکریم نقشبندی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی۔ فقیہِ اعظم کا لقب آپ ہی نے عطا فرمایا تھا۔ حضرت فقیہِ اعظم نے فقہ حنفی کی بے بہا خدمات انجام دی ہیں ۔ ہفت روزہ ’’ اہلِ حدیث‘‘امر تسر میں آئے دن اہلِ سنت احناف کے خلاف مضامین شائع ہوتے رہتے تھے۔ حضرت فقیہ ِ اعظم کی کوششوں سے امرتسر ہی سے ’’ الفقیہ ‘‘ کے نام سے ہفت روزہ جاری ہوا جس میں ان اعتراضات کے جوابات نہایت تحقیق و متانت سے دئے جاتے تھے۔ اس جریدے کے علاوہ دیگر مؤقر جرائد میں بھی آپ کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں ۔ آپ عالمِ شریعت اورشیخِ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول ترین مقرر بھی تھے ۔ وعظ و ارشاد میں اپنا ایک مخصوص اسلوب رکھتے تھے ۔
حضرت فقیہ اعظم نے پنجاب کے اطراف و اکناف کے علاوہ کلکتہ اور بمبئی وغیرہ مقامات تک سنیت و حنفیت کا پیغام پہنچایا۔ آل انڈیا سنی کانفرنس ‘ بنارس کے تاریخی اجلاس میں شرکت فرمائی اور تحریکِ پاکستان کی حمایت میں جگہ جگہ تقریریں کیں اور مسلمانوں کو مسلم لیگ کی حمایت و معاونت پر تیار کیا۔
آپ کے مریدین کا حلقہ نہایت وسیع ہے جو ملک کے طول و عرض میں موجود ہے ۔
آپ نے تصنیف و تالیف کی طرف بھی توجہ فرمائی ، چند تصانیف یہ ہیں : -
۱۔ تائید الامام : (حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ کی تالیف الرد علیٰ ابی حنیفہ کا محققانہ رد )‘ ۲۔ نماز حنفی مدلل ‘ ۳۔ صداقت الاحناف ‘ ۴۔ کتاب التراویح ‘
۵۔ ضرورتِ فقہ ‘ ۶۔ کشف الغطائ‘ ۷۔ اربعین نبویّہ ‘
۸۔ اربعین حنفیہ ۔

آپ نے ۹۰ سال کی عمر میں ۱۵جنوری ۱۹۵۱ء میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
دورے والی مسجد کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ میں آپ کا مزار پُر انوار ہے ۔
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
نحمدہونصلّی علی رسولہ الکریمامّا بعد فقیر ابو یوسف محمد شریف کوٹلوی برادران اسلام کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ لوگ دین میں نہایت سست ہوگئے ہیں ۔ نہ اسلام کی خبر نہ مذہب کا کچھ پتا۔ مخالفین اسلام دن بدن ترقّی پر ہیں اور اسلام میں طرح طرح کے فساد برپا ہیں ۔ شیعہ جو کہ اپنے مذہب کو چھپانا ثواب سمجھتے تھے آج اعلانیہ اپنے مذہب کی اشاعت میں سرگرم ہیں ۔ اخباروں میں رسالوں میں اہل سنت کی تردید کررہے ہیں ۔ اسی طرح مرزائی ( ) کہ ان کا بچہ بچہ مناظر ہے کئی اخبار میں ، ٹریکٹ ( ) مذہب کی اشاعت میں نکال رہے ہیں ۔ اور وہابیوں کی تبلیغ تو یہاں تک اثر کرچکی ہے کہ لوگوں کو ان کے خروج کا احساس ہی نہیں ہورہا۔ گاؤں گاؤں میں ان کی انجمنیں ہیں ۔ وہ سب ایک کانفر نس کے ماتحت کام کررہی ہیں ۔ ان کے تنخواہی مبلغ شہر بہ شہر ، دیہہ بدیہہ ( ) پھرتے ہیں ۔ اور مذہب کی تبلیغ میں سرتوڑ کوشش کررہے ہیں ۔لِسَانُھُمْ اَحْلٰی مِنَ السُّکْرِ( )کا مصداق بن کر میٹھی میٹھی باتوں سے بھولے بھالے احناف کو دام تزویر ( ) میں پھاند لیتے ہیں ۔ امام اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بظاہر تعریف کرتے ہیں مگر حقیقت میں عوام کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں مگر حنفی ( ) ہیں کہ ان کی ظاہری حالت دیکھ کر ان پر فریفتہ ( ) ہوجاتے ہیں ۔ کوئی تو رشتہ داری کے لحاظ سے ، کوئی مالداری کے پاس سے ، کوئی روزگار کی ضرورت کے لیے ، کوئی تنخواہ کی ترقی کے لئے ، کوئی محض جہالت سے وہابیت اختیار کرلیتا ہے۔ اسی طرح نیچری ( ) خیالات بھی بڑھ رہے ہیں ۔ حدیث کے منکر ( ) بھی زوروں پر ہیں ۔ رسائل نکالتے ہیں ، مناظروں کا چیلنج دیتے ہیں ۔ الغرض سب مذاہب اپنی اپنی اصلاح و ترقی میں کوشاں ہیں ۔ اگر سست ہیں تو حضرات احناف چناں خفتہ اندکہ گوئی مردہ اند ۔ ( )
گروہ حنفیہ
کَثَّرَھُمُ اﷲ ُ( ) کے ہر طبقہ میں مذہب کی طرف سے لاپروائی ہوگئی ہے ۔ حضرات علماء جن کا وجود ہمارے لئے باعث فخر ہے بڑے بڑے اکابر بفضلہٖ تعالیٰ زندہ موجود ہیں جن کے مقابلہ کی کسی غیر مذہب کو جرأت نہیں ہوسکتی۔ مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ( ) ۔ وہ دیکھتے ہیں کہ مذہب پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں ۔ کوئی امام اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکوکافرزندیق( ) تک لکھ دیتا ہے ۔ کوئی ہدایہ شریف ( ) پر سینکڑوں اعتراض کرتا ہے۔ کوئی دُرِّمختار کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ کوئی تقلید کو حرام ، شرک ، بدعت قرار دیتا ہے۔ مگر وہ توجہ نہیں کرتے ۔ نہ اخباروں میں مضمون دیتے ہیں ، نہ کوئی ٹریکٹ شائع کرتے ہیں ، نہ کوئی رسالہ ان کے جواب میں لکھتے ہیں ۔
ادھر اُمراء کا یہ حال ہے کہ رات دن دنیا کے نشہ میں مست نہ نماز سے کام ، نہ روزہ کا پتا ، نہ حج نہ زکوٰۃ۔ صبح و شام نواہی ( ) میں مصروف۔ خبر ہی نہیں کہ اسلام کیا چیز ہے ؟ بیٹے کی شادی رچائیں گے تو آتش بازی ، ناچ ، باجا وغیرہ واہیات اور فضول رسموں میں گھر بار لٹادیں گے ۔ مگر اشاعت اسلام و اشاعت مذہب میں ایک پیسہ تک خرچ کرنا فضول سمجھیں گے ۔ اگرکوئی اہل علم اشاعت مذہب کیلئے کوئی رسالہ لکھے تو یہ متَموَّل( ) ایک نسخہ بھی خریدنے سے دریغ( ) کریں گے۔ بخلاف اس کے دوسرے مذاہب کے امراء اپنے خرچ سے چھپوا کر مفت تقسیم کراتے ہیں ۔ رہے حضرات صوفیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیجن کے اشارہ سے سینکڑوں مرحلے طے ہو جاتے ہیں ۔ مگر یہ حضرات بھی ذکر و مراقبہ میں ایسے مستغرق ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ علماء کی سخت ضرورت ہے ، ان کا جمود( ) کیا ر نگ لائے گا؟ اگر یہ حضرات اس طرف توجہ فرماتے تو ہر سال علماء کی ایک جماعت تیار کراسکتے تھے ۔ مگرافسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی۔ ایک حضرت اقدس قبلہ علی پوری مُدَّ ظِلہ ہیں جنہوں نے مدرسہ نقشبندیہ جاری کیا ہوا ہے مگر افسوس کہ وہ مدرسہ بھی ہماری امیدوں کے مطابق ترقی نہیں کرسکا ۔
کتب حدیث ( ) کا ترجمہ آج تک کسی حنفی نے نہیں کیا۔ صحاح ستہ کا ترجمہ اردو میں وہابیوں نے کیا ہے جس میں جابجا انہوں نے حنفی مذہب کی تردید کی ہے ۔ مؤطا امام محمد و آثار امام محمد کا ترجمہ بھی وہابیوں نے کیا ہے۔ اگر کوئی اہل علم شاذ و نادر اس طرف توجہ بھی کرے تو پھر مصارف طبع ( ) کہاں سے لائے؟ غرباء کے پاس پیسہ نہیں امراء کو مذہب کی ضرورت نہیں ۔ اگرکوئی صاحب اپنی ضروریات سے بچاکر کوئی کتاب یا رسالہ طبع کرائے تو کوئی اس کا خریدار نہیں بنتا۔ پھر یا تو وہ کتابیں جمع پڑی رہیں یا مفت تقسیم کی جائیں ۔ اگرمفت تقسیم ہوں تو دوسری کتاب کے طبع کیلئے مصارف کہاں سے لائیں ؟ غرض بڑی مشکل ہے۔ بہرحال میں نے ایک حدیث میں دیکھا کہ سرور عالم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا جو شخص میری امت میں سے چالیس حدیثیں جو کہ دین کے بارے میں ہوں یا د کرے تواﷲتعالیٰ اُس کو فقہاء و علماء کے زمرہ میں اٹھائے گا۔ ایک روایت میں ہے کہاﷲتعالیٰ اس کو فقیہ عالم مبعوث کرے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ میں اس کے لئے شافع و شہید بنوں گا ( ) ۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کو حکم ہوگا کہ جنت کے جس دروازے کے راستہ تو چاہے داخل ہو (اربعین نوویہ ) تو میں نے بھی اسی امید پر چالیس حدیثیں لکھنی شروع کیں اور ارادہ کیا کہ اخبار الفقیہ (امرتسر) میں شائع کی جائیں ۔ پھر اگر کسی عالی ہمت نے توجّہ کی تو علیٰحدہ بصورت رسالہ بھی طبع کی جائیں گی ۔ ا مید ہے کہ حضرات احناف ان احادیث کو حفظ کرکے ثواب حاصل کریں گے اور اپنے مذہب کو بھی غیر کی دستبرد ( )سے بچائیں گے ۔وھا أنا أشرع في المقصود بتوفیق اﷲ الودود( )۔ فقیر ابو یوسف محمد شریف عفیاﷲعنہ