DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Saba Ayat 16 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﳣ
اٰیاتہا 54

Tarteeb e Nuzool:(58) Tarteeb e Tilawat:(34) Mushtamil e Para:(22) Total Aayaat:(54)
Total Ruku:(6) Total Words:(995) Total Letters:(3542)
16

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ(۱۶)
ترجمہ: کنزالعرفان
تو انہوں نے منہ پھیرا تو ہم نے ان پر زور کاسیلاب بھیجا اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دئیے جو کڑوے پھل والے اور جھاؤ والے اور کچھ تھوڑی سی بیریوں والے تھے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{فَاَعْرَضُوْا: تو انہوں  نے منہ پھیرا۔} یعنی سبا والوں  نے اس نعمت کی شکر گزاری سے منہ پھیرا اور انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی۔حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف 13 نبی بھیجے جنہوں  نے اُن کو حق کی دعوتیں  دیں  اور اللہ تعالیٰ کی نعمتیں  یاد دلائیں  اور اس کے عذاب سے ڈرایا ،لیکن وہ ایمان نہ لائے اور اُنہوں  نے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلادیا اور کہا کہ ہم نہیں  جانتے کہ ہم پر خدا کی کوئی نعمت ہے۔ تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے کہہ دو کہ اس سے ہوسکے تو وہ ان نعمتوں  کو روک لے۔( مدارک، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۹۶۰، خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳ / ۵۲۰، ملتقطاً)

{فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ: تو ہم نے ان پر زور کاسیلاب بھیجا۔} یہاں  سے ان لوگوں  کا انجام بیان کیاگیا کہ ان کی نافرمانی کے سبب ہم نے ان پرعظیم سیلاب بھیجا جس سے ان کے باغ اوراَموال سب ڈوب گئے اور اُن کے مکانات ریت میں  دفن ہوگئے اور وہ اس طرح تباہ ہوئے کہ اُن کی تباہی عرب کے لئے مثال بن گئی۔اور ان کے خوبصورت باغوں  کو ایسے دو باغوں  میں  بدل دیا جو کڑوے اور انتہائی بد مزہ پھل والے تھے اور ان میں  جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں تھیں  جیسی ویرانوں  میں  اُگ آتی ہیں ۔ اس طرح کی جھاڑیوں  اور وحشت ناک جنگل کوجو اُن کے خوش نما باغوں  کی جگہ پیدا ہوگیا تھااس لئے اسے باغ فرمایا گیا ۔

قومِ سبا کے واقعہ میں  نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کے لئے نصیحت:

            علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس واقعہ کو بیان کرنے سے مقصود حضورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کو نصیحت کرنا ہے کہ وہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں  اوراللہ تعالیٰ نے انہیں  جو نعمتیں  عطا کی ہیں  ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں  اور اگر وہ ایسانہ کریں  گے تو انہیں  بھی اُن جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔(صاوی، سبأ، تحت الآیۃ: ۱۵، ۵ / ۱۶۶۹)

             ہم بھی آئے دن سمندری طوفان اور سیلاب سے ہونے والی عبرتناک تباہی کے نظارے اپنی آنکھوں  سے دیکھتے رہتے ہیں لیکن افسوس ! ا س کے باوجود بھی ہم اپنی عملی حالت سدھارنے کی بجائے اپنی سابقہ نافرمانی والی رَوِش ہی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں  عقلِ سلیم عطا فرمائے،اٰمین۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links