DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Fussilat Ayat 44 Translation Tafseer

رکوعاتہا 6
سورۃ ﳪ
اٰیاتہا 54

Tarteeb e Nuzool:(61) Tarteeb e Tilawat:(41) Mushtamil e Para:(24-25) Total Aayaat:(54)
Total Ruku:(6) Total Words:(898) Total Letters:(3325)
44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗؕ-ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّؕ-قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌؕ-وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًىؕ-اُولٰٓىٕكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠(۴۴)
ترجمہ: کنزالعرفان
اور اگر ہم اسے عربی کے علاوہ کسی اورزبان کا قرآن کردیتے تو کفارضرور کہتے: اس کی آیتیں کیوں نہ واضح کی گئیں ؟ کیا کتاب عجمی ہے اور نبی عربی ہے؟ تم فرماؤ: وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے اور وہ جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور وہ ان پر اندھا پن ہے ۔گویا انہیں دور کی جگہ سے پکارا جارہا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان
{وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا: اور اگر ہم اسے عربی کے علاوہ کسی اورزبان کا قرآن کردیتے۔} کافروں  نے قرآنِ مجید پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ یہ قرآن عجمی زبان میں  کیوں  نہ اترا ؟اس کے جواب میں  ارشاد فرمایا گیا کہ ’’اگر ہم قرآنِ کریم کو عربی کی بجائے عجمی زبان میں  نازل کر دیتے تو کفارضرور کہتے: اس کتاب کی آیتیں  عربی زبان میں  کیوں  بیان نہیں  کی گئیں  تا کہ ہم انہیں  سمجھ سکتے اورکتاب نبی کی زبان کے خلاف کیوں  اتری؟ حاصل یہ ہے کہ قرآنِ پاک عجمی زبان میں  ہوتا تو یہ کافر اعتراض کرتے اور عربی میں  آیا ہے تو بھی اعتراض کر رہے ہیں  جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ اعتراض نہ ماننے کا ایک بہانہ ہے کیونکہ جو شخص حق کا طلبگار ہے ا س کی شان کے لائق نہیں  کہ وہ ایسے اعتراض کرے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ارشاد فرما دیں  کہ یہ قرآن ایمان والوں  کے لیے ہدایت اور شفا ہے کہ یہ انہیں  حق کی راہ بتاتا ہے ،گمراہی سے بچاتا ہے ، جہالت اور شک وغیرہ قلبی اَمراض سے شفا دیتا ہے اور جسمانی اَمراض کے لئے بھی اس کا پڑھ کر دم کرنا مرض دور کرنے کے لئے مُؤثّر ہے اور وہ لوگ جو ایمان نہیں  لاتے ان کے کانوں  میں  بوجھ ہے کہ وہ قرآنِ پاک کو ا س کے حق کے مطابق سننے کی نعمت سے محروم ہیں  اور وہ ان پر اندھا پن ہے کہ وہ شکوک و شُبہات کی ظلمتوں  میں  گرفتار ہیں  اور وہ اپنی قبول نہ کرنے والی رَوِش سے اس حالت کو پہنچ گئے ہیں  جیسے کسی کو دور سے پکارا جائے تو وہ پکارنے والے کی بات نہ سنے ، نہ سمجھے ۔( خازن، فصلت، تحت الآیۃ: ۴۴، ۴ / ۸۸، مدارک، فصلت، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۱۰۷۷، ملتقطاً)

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links