DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Az Zariyat Ayat 55 Translation Tafseer

رکوعاتہا 3
سورۃ ﳷ
اٰیاتہا 60

Tarteeb e Nuzool:(67) Tarteeb e Tilawat:(51) Mushtamil e Para:(26-27) Total Aayaat:(60)
Total Ruku:(3) Total Words:(393) Total Letters:(1521)
54-55

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ(۵۴) ﱭوَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵)
ترجمہ: کنزالعرفان
تو اے حبیب!تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کوئی ملامت نہیں ۔ اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ: تو اے محبوب!تم ان سے منہ پھیرلو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے منہ پھیر لیں  کیونکہ آپ رسالت کی تبلیغ فرماچکے اور اسلام کی دعوت اورہدایت دینے میں  انتہائی محنت کرچکے اور آپ نے اپنی کوشش میں  معمولی سی بات بھی نہ چھوڑی توان کے ایمان نہ لانے سے آپ پر کوئی ملامت نہیں ۔

نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے دو فوائد:

             آیت نمبر55 سے معلوم ہوا کہ نیک کاموں  کی ترغیب دیتے اور برے کاموں  سے منع کرتے رہنا چاہئے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے سمجھایا جائے اس کے بارے میں  امید ہوتی ہے کہ وہ برے کام چھوڑ کر نیک کام کرنے لگے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ سمجھانے اور نصیحت کرنے کے ان فوائد کو قرآنِ پاک میں  ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ

’’ وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ‘‘(اعراف:۱۶۴)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان میں  سے ایک گروہ نے کہا: تم ان لوگوں  کو کیوں  نصیحت کرتے ہو جنہیں  اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں  سخت عذاب دینے والاہے؟انہوں  نے کہا: تمہارے رب کے حضورعذر پیش کرنے کے لئے اور شایدیہ ڈریں ۔

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links