DONATE NOW donation

Home Al-Quran Surah Al Hajj Ayat 31 Translation Tafseer

رکوعاتہا 10
سورۃ ﰓ
اٰیاتہا 78

Tarteeb e Nuzool:(103) Tarteeb e Tilawat:(22) Mushtamil e Para:(17) Total Aayaat:(78)
Total Ruku:(10) Total Words:(1439) Total Letters:(5238)
31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ(۳۱)
ترجمہ: کنزالعرفان
ایک اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر (اور) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے (بتوں سے دور رہو) اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا تو اسے پرندے اچک لے جاتے ہیں یا ہوا اسے کسی دور کی جگہ پھینک دیتی ہے۔


تفسیر: ‎صراط الجنان

{حُنَفَآءَ لِلّٰهِ:ایک  اللہ کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر۔} یعنی اے لوگو! تم ایک  اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر باطل سے جدا ہوکر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ہوئے بتوں  کی گندگی سے دور رہو۔

{وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ:اور جو  اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ گویا آسمان سے گرپڑا۔} اس آیت میں  ایک انتہائی نفیس تشبیہ سے شرک کا برا انجام سمجھایا گیا ہے ، اس تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص انتہائی بلندی سے زمین پر گر پڑے تو اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ پرندے اس کی بوٹی بوٹی نوچ کر لے جاتے ہیں  یا پھر ہوا اس کے اَعضا کو دور کسی وادی میں  پھینک دیتی ہے اور یہ ہلاکت کی ایک بد ترین صورت ہے۔ اسی طرح جو شخص ایمان ترک کر کے  اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو وہ ایمان کی بلندی سے کفر کی وادی میں  گر پڑتا ہے، پھر بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کی طرح نفسانی خواہشات اس کی فکروں  کو مُنتَشر کر دیتی ہیں  یا ہوا کی طرح آنے والے شیطانی وسوسے اسے گمراہی کی وادی میں  پھینک دیتے ہیں  اور یوں  شرک کرنے والا اپنے آپ کو بد ترین ہلاکت میں  ڈال دیتا ہے۔( ابو سعود، الحج، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴ / ۱۸، ملخصاً)

ایمان کی اہمیت:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان ایسی عظیم چیز ہے جسے اختیار کرنے والا عزت و عظمت کی بلندیوں  کو چھو لیتا ہے اور ایمان کو ترک کرنے والا اور دین ِاسلام کو چھوڑ کر کسی دوسرے دین کو اختیار کر لینے والا خود کو بد ترین ہلاکت میں  ڈال دیتا ہے کیونکہ اگر یہ مُرتَد ہونے والا صحیح توبہ کئے بغیر اسی کفر کی حالت میں  مر گیا تو اسے ہمیشہ کے لئے جہنم میں  ڈال دیا جائے گا، چنانچہ ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ- وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(بقرہ: ۲۱۷)

ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں  جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہو جائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں  کے تمام اعمال دنیا و آخرتمیں  برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں  وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

            افسوس! فی زمانہ مسلمانوں  میں  ایمان کی قدر اور اہمیت کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور بعض مسلمان دنیا کا نفع، دنیا کی سہولت و آسائش اور دنیا کا مال ودولت حاصل کرنے کی خاطراپنا ایمان ضائع کر دینے کی پرواہ بھی نہیں  کرتے اور چند ٹکوں  کے لئے ایمان جیسی قیمتی ترین دولت لٹا دیتے ہیں ۔  اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں  کو عقلِ سلیم عطا فرمائے اور انہیں  اپنے ایمان کی قدر اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

 

 

Reading Option

Ayat

Translation

Tafseer

Fonts Setting

Download Surah

Related Links