Qabar Ke Sathi

Book Name:Qabar Ke Sathi

مجھ گنہگار کی اِلتجاء ہے                       یاخدا! تجھ سے میری دُعا ہے([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے آقا کی ملک الموت سے ملاقات

حجۃ الْاِسْلام امام محمد بن محمد غزالی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: مِعْراج کے دُولہا، مکی مدنی مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  مِعْراج کی رات جب آسمانوں کی سَیْر فرما رہے تھے، اس دوران چوتھے آسمان پر آپ نے ایک فرشتے کو بیٹھے دیکھا، ایک بڑی تختی اُن کے سامنے رکھی تھی، قریب ہی ایک بڑا درخت تھا، جس کی ٹہنیاں مشرق سے مغرب (East to West)تک پھیلی ہوئی تھیں، وہ فرشتہ اُس درخت کی طرف غور سے دیکھتا جا رہا تھا۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے حضرت جبرائیلِ امین علیہ السَّلام سے فرمایا: یہ فرشتہ کون ہے؟

حضرت جبرائیلِ امین علیہ السَّلام نے عرض کیا؛یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! یہ*لذّتوں کو مٹانے والے*دوستوں کو جُدا کرنے والے*عورتوں کو بیوہ*اور بچوں کو یتیم بنانے والے*اُونچے اُونچے محلّات (Palaces)کو وِیران*اور قبرستان کو آباد کرنے والے یعنی ملکُ الموت حضرت عزرائیل علیہ السَّلام ہیں۔

پِھر حضرت جبرائیلِ امین علیہ السَّلام نے حضرت ملک الموت علیہ السَّلام سے کہا: اے عزرائیل (علیہ السَّلام)! یہ اگلوں پچھلوں کے سردار، محبوبِ رَبِّ غفّار حضرت مُحَمَّد مصطفےٰ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ہیں۔ یہ سُن کر حضرت ملک الموت علیہ السَّلام اُٹھے، رسولِ اکرم، نورِ


 

 



[1]...وسائلِ بخشش، صفحہ:136۔