Book Name:Qabar Ke Sathi
سَر پر کھڑی ہے۔
کتنی بے اعتبار ہے دُنیا موت کا انتظار ہے دُنیا
گرچہ ظاہِر میں صُورتِ گل پر حقیقت میں خار ہے دُنیا
ایک جھونکے میں ادھر سے ہے اُدھر چار دِن کی بہار ہے دُنیا
زندگی نام رکھ دیا کس نے موت کا انتظار ہے دنیا
پیارے اسلامی بھائیو! تشویش اور انتہائی تشویش کی بات ہے، قبر میں ہم سب نے جانا ہے مگر آہ! وہاں ہمارا کوئی ساتھی نہ ہوگا، آج دُنیا میں تو اگر سَفَر پر جانا ہو، مثلاً رات زیادہ ہو گئی، سُنسان راہوں سے گزرنا ہے تو ہم اہتمام کر لیتے ہیں، دو چار دوستوں کو ساتھ لے جاتے ہیں مگر قبر...!! افسوس! قبر انتہائی سنسان ہے، وہاں وحشت ہی وحشت ہے، ہزارہا خطرات سے بھری ہوئی ہے،اِس کے باوُجُود وہاں ہم کسی کو بھی ساتھ نہیں لے جا سکتے، عزیز سے عزیز تَر، ہم پر جان چھڑکنے والے بھی وہاں ہمارے ساتھ نہ جائیں گے، منوں مٹی تلے دبا کر واپس پلٹ آئیں گے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْۚ- (پارہ:7، سورۂ انعام:94)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور بیشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اورتم اپنے پیچھے وہ سب مال و متاع چھوڑ آئے جو ہم نے تمہیں دیا تھا۔
دِلا غافِل نہ ہو یک دَم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے
بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے