Qabar Ke Sathi

Book Name:Qabar Ke Sathi

ہو چکا ہے۔ ہائے! ہائے! غور تو کرو! یہی مُردہ جب زِندہ تھا تو خوبصورت تھا، خُوشبو بھی اچھی استعمال کیا کرتا تھا، لباس بھی عمدہ پہنا کرتا تھا...!! راوی کہتے ہیں: اتنا کہنے کے بعد حضرت عُمر بن عبد العزیز رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ پر رِقَّت طاری ہو گئی، آپ نے چیخ ماری اور بےہوش ہو گئے۔([1])

اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر       کروں گا کیا جو تو ناراض ہو گیا یا ربّ([2])

پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے قبروں کے اندر والوں کی حالت، آہ! عنقریب ہمارا بھی یہی حال ہونے والا ہے۔

میں پہلے بادشاہ تھا

روایت ہے: ایک مرتبہ اللہ پاک کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کہیں سے گزر رہے تھے، آپ نے ایک انسانی کھوپڑی دیکھی۔ آپ چونکہ اللہ پاک کے نبی ہیں اور مردَے زندہ کر دینا آپ کے خاص معجزات میں سے ہے، چنانچہ آپ نے اس کھوپڑی کو ٹھوکر ماری اور فرمایا: تَكَلَّمِیْ بِاِذْنِ اللہ اللہ پاک کے حکم سے میرے ساتھ بات کرو!

اتنا فرمانا تھا کہ اس کھوپڑی نے بات کرنا شروع کی، عرض کیا: اے رُوح اللہ علیہ السَّلام! میں پہلے بادشاہ تھا، میری سلطنت اتنی اتنی وسیع تھی، ایک روز میں اپنے دربار میں بیٹھا تھا، عظیم الشان تاج میرے سر پر تھا، میرا لشکر اور وزیر مشیر ارد گرد موجود تھے، اچانک، بالکل اچانک ملک الموت علیہ السَّلام کہیں سے نمودار ہوئے، ہاں! لمحہ بھر میں انہوں نے میری رُوح قبض کر لی، آہ...!! وہ بھرا دربار لمحہ بھر میں تنہائی میں بدل گیا، ہائے! ہائے! وہ جاہ و حشمت، جان چھڑکنے والا میرا لشکر، وہ انس و محبت یکدَم وَحشت و غربت میں


 

 



[1]... احیاء العلوم،کتاب ذکر الموت و ما بعدہ،بیان حال القبر و اقاویلہم عند القبور،جلد:4،صفحہ:588۔

[2]...وسائلِ بخشش، صفحہ:78۔