Book Name:Qabar Ke Sathi
اے اللہ پاک کے نبی! یہ کیا ہے؟ فرمایا: اے جبرائیل! جسے موت آجانی ہو، اُس کے لیے تو یہ بھی بہت زیادہ ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السَّلام نے عرض کیا: اے اللہ پاک کے نبی علیہ السَّلام! عنقریب ایک قوم ہو گی، ان کی عمریں60 سے 70 سال کے درمیان ہوں گی مگر وہ اینٹوں اور پتھروں سے مَضْبُوط گھر بنائیں گے۔ یہ سُن کر حضرت نُوح علیہ السَّلام نے فرمایا: آہ! یہ لوگ راکھ اکٹھی کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ مر جائیں گے۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہمارا حال ہے، ہماری عمریں تھوڑی ہیں مگر خواب بہت بڑے بڑے ہیں، ہم عمارتیں بناتے ہیں تو صدیوں کی پلاننگ کرتے ہیں*انجینئرز سے حساب لگواتے ہیں* عمارت میں کتنا سریا ڈالیں* کتنا سیمنٹ ڈالیں تاکہ عمارت کم از کم 2 سو سال تک کھڑی رہ سکے، آہ!* کتنی عمارتیں ہیں، جو اب بھی جُوں کی تُوں کھڑی ہیں مگر ان کے بنوانے والے قبروں میں اُتر چکے ہیں* کتنے کھنڈرات دُنیا میں جگہ جگہ موجود ہیں مگر ان کے رہائشی فنا کے گھاٹ اُتر چکے ہیں مگر افسوس! ہم عبرت نہیں پکڑتے، افسوس! ہم سنبھلتے نہیں ہیں۔
اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا:
وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ(۴۵)
(پارہ:13، ابراہیم:45)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور تم ان کے گھروں میں رہے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھااور تمہارے لیے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان