Qabar Ke Sathi

Book Name:Qabar Ke Sathi

خوش ہوتے ہیں، عنقریب قبر میں اتر کر یہ گوشت جھڑ جائے گا* ہماری پیاری پیاری آنکھیں پگھل کر بہہ جائیں گی*طاقت ور بازوؤں کا سارا زور ٹوٹ جائے گا* پنڈلیاں ٹوٹ پھوٹ کر مٹی میں مل جائیں گی* چوڑا سینہ جسے تان کر چلتے ہوئے پھولے نہیں سماتے عنقریب قبر میں چکنا چُور ہو جائے گا۔ آہ! افسوس! جو حال آج اَہلِ قبرستان کا ہے، جلد بہت جلد وہی حال ہمارا بھی ہونے والا ہے۔

گھُپ اندھیر ے کا بھی وَحشت کا بسیرا ہو گا قبر میں کیسے اکیلا میں رہوں گا یاربّ!

گر کفن پھا ڑ کے سانپوں نے جمایا قبضہ     ہائے بربادی! کہاں جا کے چُھپوں گا یاربّ!

ڈنک مچھر کا سہا جاتا نہیں، کیسے میں پھر     قبر میں بچھّو کے ڈنک آہ سہوں گا یاربّ!

گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہو گی         ہائے! میں نا رِ جَہنَّم میں جلوں گا یاربّ!

عَفو کر اور سدا کے لیے راضی ہو جا         گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یاربّ! ([1])

مردے کو 3دِن بعد دیکھو تو...!

پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے مرنا ہی مرنا ہے، قبر میں اُترنا ہی اُترنا ہے مگر آہ...!! قبر کا معاملہ آسان نہیں ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ایک بار اپنے کسی ساتھی سے فرمایا: بھائی! موت کی یاد نے میری نیند اُڑا دی، میں رات بھر جاگتا رہا اور قبر والے کے بارے میں سوچتا رہا۔ اے بھائی! اگر تم 3 دِن بعد مُردے کو اس کی قبر میں دیکھو تو دُنیا میں لمبے عرصے تک اس کے ساتھ رہے ہونے کے باوُجُودتمہیں اس سے وَحشت ہونے لگے، اگر تم اس کا گھر یعنی اس کی قبر کا اندرونی حِصَّہ دیکھو*جس میں کیڑے رینگ رہے ہیں اور بدن کو کھا رہے ہیں*اس کے بدن سے پیپ جاری ہے*سخت بدبو آرہی ہے*اس کا کفن بوسیدہ


 

 



[1]...وسائلِ بخشش، صفحہ:84-85 ملتقطاً۔