Qabar Ke Sathi

Book Name:Qabar Ke Sathi

وہ بارگاہِ الٰہی میں مقبولیت کے درجے پر فائز ہوئے، لہٰذا یہاں تمہارا کوئی کام نہیں ہے۔ پھر اس میّت کو کہا جاتا ہے کہ تیری زندگی اور موت دونوں بہترین ہیں اور رحمت کے فرشتے اس کی قَبْر میں جنّت کا فرش بچھاتے ہیں، اُس کے لیے جنتی لباس لاتے ہیں، حدِ نگاہ تک اُس کی قَبْر کو کشادہ کردیا جاتا ہے اور جنّت کی ایک قندیل (Lamp)اس کی قَبْر میں روشن کردی جاتی ہے جس سے وہ قیامت کے دن تک روشنی حاصل کرتا رہے گا۔([1])

2 اندھیرے دور ہوں گے

منقول ہے :اللہ پاک نے حضرت مُوسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام سے فرمایا کہ میں نے اُمّتِ مُحَمّدِیہکو2نور عطا کیے ہیں تاکہ وہ دو اندھیروں کے نُقصان سے مَحفُوظ رہیں۔ مُوسیٰ کَلیمُ اللہ علیہ السَّلام نے عَرض کی :یا اللہ پاک! وہ 2نور کون کون سے ہیں؟ اِرشاد ہوا: نورِ رَمَضان اور نُورِ قُرآن۔ عَرض کی : 2 اندھیرے کون کون سے ہیں؟ فرمایا:ایک قَبْرکا اور دُوسرا قِیامت کا۔ ([2])

خوشبودار قبر

حضرت عبد اللہ بن غالِب رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کو جب دفن کیا گیا تو ان کی قَبْر سے مشک کی مَہک آنے لگی۔ ایک مرتبہ کسی نے اُن کو خواب میں دیکھا تو پوچھا:آپ کی قَبْر سے خوشبو کیسی آتی ہے؟ فرمایا: تِلْکَ رَائِحَۃُ التِّلَاوَۃِ وَالظَّمَاءِ یعنی یہ تلاوت اور روزے کی برکت ہے۔([3])

نَماز و روزہ و حَجّ و زکوٰۃ کی توفیق             عطا ہو اُمّتِ مَحْبُوب کو سدا یاربّ!([4])


 

 



[1]...مکاشفۃ القلوب، باب فی بیان القبر و سوالہ، صفحہ:247 بتغیرقلیل۔

[2]... دُرَّۃ الناصحین، صفحہ:9۔

[3]...حلیۃ الاولیاء، جلد:6، صفحہ:266-267 ، رقم:8553 ملتقطاً۔

[4]...وسائلِ بخشش، صفحہ:88۔