Book Name:Qabar Ke Sathi
تبدیل ہو گیا۔ ([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! یہی حال ہے، ہاں یہی حال ہے، جو عنقریب ہم پر بھی طاری ہونے والا ہے، ہاں! ہاں! ہم سب بھی اسی وحشت و تنہائی، غربت و افلاس کا شکار ہونے والے ہیں، اگر بادشاہوں کا لشکر انہیں نہ بچا پایا تو ہمارے دو، چار دوست بھی ہمیں نہ بچا سکیں گے، اگر بادشاہوں کے تاج و تخت اور اُونچے اُونچے محلّات انہیں موت سے بچا نہ سکے تو ہمارے چھوٹے چھوٹے گھر، معمولی عزّت و شہرت بھی ہمیں بچا نہیں سکے گی، آہ! ملک الموت علیہ السَّلام تشریف لائیں گے، رُوح کھنچے گے، آخری ہچکی آئے گی، نگاہ چھت پر لگ جائے گی اور یہ ساری دُنیا، اپنے تمام تَر خوبصُورتیوں سمیت ہمارے لیے یکدَم اجنبی ہو جائے گی۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے مکیں ہو گئے لا مکاں کیسے کیسے
ہوئے ناموَر بے نشاں کیسے کیسے زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
یہی تجھ کو دھُن ہے رہُوں سب سے بالا ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا؟ تجھے حسنِ ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے
روایت ہے: ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین علیہ السَّلام زمین پر آئے، اللہ پاک کے نبی حضرت نُوح علیہ السَّلام کو دیکھا کہ آپ سمندر کنارے ایک چھونپڑی بنا رہے ہیں، پوچھا: