Book Name:Qabar Ke Sathi
تِرا نازُک بدن بھائی جو لیٹے سَیج پھولوں پر
یہ ہوگا ایک دن بے جاں اِسے کیڑوں نے کھانا ہے
تُو اپنی موت کو مت بھول کر سامان چلنے کا
زمیں کی خاک پر سونا ہے اِینٹوں کا سِرہانا ہے
نہ بَیلی ہو سکے بھائی نہ بیٹا باپ تے مائی
تُو کیوں پھرتا ہے سَودائی عمل نے کام آنا ہے
حضرت یزید بن شُرَیح رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ایک روز میں قبرستان گیا، میں نے ایک قبر سے آواز سُنی، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: آج تم ہمیں اِس حال میں (منوں مٹی تلے دَفن) دیکھ رہے ہو، کبھی ہم بھی تمہاری ہی طرح تھے، تمہاری ہی طرح زندگی گزارتے تھے، تمہارے ہی جیسی شکل و صورت پر تھے مگر افسوس...!! اب یہ ویرانہ ہے، جہاں ہوائیں گرد اُڑا رہی ہیں اور ہم اِس ویران گڑھے میں قید ہیں، ہم میں سے کوئی بھی تمہاری جانِب پلٹ کر نہیں آئے گا مگر ہاں! تم عنقریب ہمارے پاس آجاؤ گے۔([1])
اللہ! اللہ ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ بات سچ ہے، واقعی سچ ہے، آپ اِس حقیقت کو اپنے دِل و دِماغ پر طاری کیجیے! یا نہ کیجیے! وحشتِ قبر کے خیال کو بھلے ہی جھٹک دیجیے مگر کبھی نہ بدلنے والا سچ یہی ہے کہ جو حالت آج قبرستان والوں کی ہے، عنقریب وہی حالت ہماری بھی ہونی ہے۔ آہ!* ہمارے یہ گوشت سے بھرے ہوئے، سرخی مائِل رخسار جنہیں دیکھ کر ہم