Book Name:Qabar Ke Sathi
اور آکر ہی رہے گی، حضرت ملک الموت علیہ السَّلام نے نہ پہلے کسی کو مہلت دی ہے، نہ ہمیں دیں گے۔ لہٰذا عقل مند وہی ہے جو زِندگی ہی میں موت کو یاد رکھے اور اس کے لیے تیاری کرتا رہے۔ پارہ:29، سورۂ ملک، آیت:2 میں اللہ پاک فرماتا ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے۔
عُلَمائے کرام نے اس آیت کا ایک معنیٰ یہ بتایا کہ اللہ پاک نے زِندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تمہاری جانچ ہو کہ تم میں سے کون موت کو یاد رکھتا اور اس کے لیے خوب تیاری کرتا ہے؟([1])
حضرت مَلَکُ الموت سب کو دیکھتے ہیں
امام جلال الدین سیوطی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: حضرت مَلَکُ الموت علیہ السَّلام روزانہ (Daily)ہر گھر میں 5 مرتبہ اور ایک روایت کے مُطَابِق 7 مرتبہ تشریف لاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسا تو نہیں جس کی روح قبض کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔([2])
اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! کیسی عبرت کی بات ہے، ہم غفلت میں پڑتے ہیں، فضولیات میں پڑے رہتے ہیں، گُنَاہوں میں مَشْغُول رہتے ہیں، دُوسری طرف لذّتوں کو مٹا دینے والے حضرت مَلَکُ الموت علیہ السَّلام ہر وقت ہماری تاک میں ہیں، یعنی ہم موت سے غافِل، اس دُنیا کی عارِضی و فانی زندگی پر مُطْمَئِن ہیں جبکہ موت ہر وقت ہمارے