Book Name:Qabar Ke Sathi
للہ! ماہِ رمضان کریم بھی تشریف لانے ہی والا ہے۔
عَجِّلْ عَجِّلْ یَارمضان جان مِری تجھ پر قربان
آ بھی جا ماہِ سُبْحٰن جلدی جلدی آ رمضان
جب بھی آتا ہے رمضان جان میں آجاتی ہے جان
خوب ہے رمضاں کی بھی شان اِس میں اُترا ہے قرآن
مجھ کو مدینے میں رمضان کاش! میسر ہو رحمٰن
آجا آ بھی جا رمضان تجھ پہ فِدا عطّارؔ کی جان
اللہ پاک ہمیں ماہِ رمضان دیکھنا، اس میں خوب روزے رکھنا، خوب عبادت کرنا نصیب فرمائے۔ ماہِ رمضان کی ایک اَہَم ترین عِبَادت اعتکاف بھی ہے۔ نفل اعتکاف تو کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے لیکن جو اعتکاف سنّتِ مؤکدہ ہے، وہ رمضان کریم میں ہی ہوتا ہے۔ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم سے پورے ماہِ رمضان کا اعتکاف کرنا بھی ثابت ہےجبکہ آخری عشرے کا اعتکاف تو ہمارے آقا و مولیٰ، تاجدارِ انبیا صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو بہت محبوب تھا، آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم آخری عشرے کے اعتکاف کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ کسی سبب سے رمضان کریم میں اعتکاف نہ ہو سکا تو آپ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے شوال میں اعتکاف فرمایا۔([1])
* مسلمانوں کی اَمِّی جان حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ عنہا سے روایت ہے، پیارے آقا،