Book Name:Qabar Ke Sathi
السَّلام ! میرے گُنَاہ بڑھ گئے، میرا اَعْمال نامہ گُنَاہوں سے سیاہ ہو گیا، آہ! اب وقتِ رخصت آچکا ہے، مجھے کچھ مہلت دیجیے! تاکہ میں اللہ پاک کے حُضُور کچھ آنسو بہا لُوں، تھوڑا وقت دیجیے کہ میں گُنَاہوں سے توبہ کر لُوں۔ میں کہتا ہوں: ناممکن...!! یہ تو بالکل ناممکن بات ہے۔ پِھر میں اس کی رُوح قبض کر لیتا ہوں۔([1])
دِلا غافِل نہ ہو یکدم یہ دُنیا چھوڑ جانا ہے بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے
تُو اپنی موت کو مت بُھول کر سامان چلنے کا زمیں کی خاک پر سونا ہے اینٹوں کا سرہانا ہے
نہ بیلی ہو سکے بھائی، نہ بیٹا، باپ تَے مائی تُو کیوں پِھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے
عزیزا! یاد کر جس دِن کہ عزرائیل آئیں گے نہ جاوے کوئی تیرے سنگ اکیلا تُو نے جانا ہے
غُلامؔ اک دَم نہ کر غفلت، حیاتی پر نہ ہو غَرَّہ خُدا کی یاد کر ہر دَم کہ جس نے کام آنا ہے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
کون موت کو زیادہ یاد رکھتا ہے...؟
اے عاشقانِ رسول!اس عبرتناک روایت سے معلوم ہوا: ہم میں سے ہر ایک کی موت کا وقت مُقَرَّر ہے، حضرت ملک الموت علیہ السَّلام ہر دَم ہماری جانِب تَوَجُّہ لگائے بیٹھے ہیں، جب جس کا وقت آجائے، پِھر اُسے ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دیتے، فورًا اس کی رُوح قبض کر لیتے ہیں۔ آہ! افسوس! ہم اس حقیقت کو جانتے بھی ہیں، مانتے بھی ہیں مگر جانتے بوجھتے انجان بنتے ہیں، غفلت میں پڑے رہتے ہیں، یاد رکھیے! ہم موت کو یاد کریں یا نہ کریں، ہم نیک اَعْمال کر کے آخرت کی تیاری کریں یا نہ کریں، موت بہر حال آئے گی