Qabar Ke Sathi

Book Name:Qabar Ke Sathi

پریشان حال کہ میں اس کی پریشانی دُور فرماؤں، ہے کوئی ایسا، ہے کوئی ایسا، طُلُوعِ فجر تک یُوں ہی اِعْلان ہوتا رہتا ہے۔([1])

امید کی فصلکِشْتِ اُمِّیْد پہ ہے فَضْلِ خُدا آج کی رات    ہر طرف چھائی ہے رحمت کی گھٹا آج کی رات

کس قدر جوش پہ ہے حق کی عطا آج کی رات  پائیں گے سارے طلب سے بھی سِوا آج کی رات

مغفرت ڈھونڈتی پھرتی ہے گنہ گاروں کو  مہرباں کتنا ہے بندوں پہ خُدا آج کی رات

کوئی محروم نہ رہ جائے زمیں پر سائِل       آسمانوں سے یہ آتی ہے صدا آج کی رات

ایک شاعِر نے لکھا:

آئی شَبِ براءَت، یہ ہے برکتوں کی رات لطف وکرم کی رات ہے، یہ رحمتوں کی رات

بارانِ فضل ہوتا ہے اس شب کو ہر گھڑی    خوش بخت ہے جسے ملی یہ عظمتوں کی رات

جو چاہتے ہو، تم کو کرے گا خدا عطا       اس کی عنایتوں کی ہے یہ نعمتوں کی رات

غم کا علاج آج کی شب دستیاب ہے    یہ جاں فزا ہیں ساعتیں، یہ فرحتوں کی رات

کر لو مرض کے واسطے رب سے دُعا ابھی یہ ہے شفا کی رات، یہ ہے راحتوں کی رات

دامن بڑھاؤ مانگ لو خیراتِ مغفرت     اے عاصیو! ہے جلوہ نما رافتوں کی رات

راضی کرو تمام جو ناراض تم سے ہیں     صلح وصفا کی رات ہے، یہ قُربتوں کی رات

اللہ پاک ہمیں آج کی مقدَّس رات کی برکتیں نصیب فرمائے، کاش! آج رات کا صدقہ ہم گنہگاروں کو بخشش و مغفرت کا پروانہ نصیب ہو جائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔

مغفرت کا ہوں تجھ سے سُوالی             پھیرنا اپنے دَر سے نہ خالی


 

 



[1]...ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب ما جاء فی لیلۃ...الخ، صفحہ:225، حدیث:1388۔