Share this link via
Personality Websites!
والے اسلامی بھائیوں کے مدرسۃ المدینہ میں شرکت کی دعوت پیش کی ، میں نے ان کی نیکی کی دعوت کو قبول کر لیا اور اسلامی بھائیوں کے مدرسۃ المدینہ میں شرکت کرنے لگا ، الحمد للہ! اس کی برکت سے میں نے تجوید کے ساتھ قرآن کریم سیکھ لیا اور فیشن پرستی چھوڑ کر سنّتوں کا عامل بن گیا۔
یہی ہے آرزُو تعلیمِ قرآں عام ہو جائے تلاوت کرنا صُبح وشام میرا کام ہو جائے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اور چند آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّمنےفرمایا : مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِي فَقَدْ اَحَبَّنِي وَمَنْ اَحَبَّنِي كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ ([1])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْکَلَامِ ؛ سلام بات چیت سے پہلے ہے۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان سے مُلاقات کرتے وقت سلام کرنا سنت ہے۔ * سلام کرتے وقت دل میں یہ نیت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کا مال اور عزت و آبرو سب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami