Book Name:Maut kay Qasid

کہ موت ہر ایک کو آنی ہے اس سے کوئی نہیں بچ سکتا اس کے  باوُجُودبھی  ہم اس کی تیاری نہ کریں توکس قدر افسوس کی بات ہے ۔اگر کوئی شخص کسی پُر لُطف اور رَنگ وسُرور کی بڑی محفل میں شریک ہو اوراسےیہ خبر دے دی جائے کہ ابھی کوئی سپاہی آئے گااورتمہیں سب کے سامنے پانچ (5)کوڑے مارےگاتویقیناًاُسےوہ محفل بدمزہ اور زندگی بےرونق معلوم ہونے لگے گی مگر موت جوہر لمحہ ہمارے  پیچھے چلی آرہی ہےاور کسی بھی وَقْت تمام تَر سختیوں کے ساتھ آکر پکڑ سکتی ہے پھر بھی ہم  غفلت کی نیند سورہے ہیں ۔

گو پیشِ نظر قبر کا پُرھول گڑھا ہے

افسوس! مگر پھر بھی یہ غفلت نہیں جاتی

(وسائلِ بخشش مُرمّم،ص382)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب!                                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

موت کی سختیاں 

حُجَّۃُ  الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  موت كی سختیوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:نَزع اُس تکلیف کا نام ہے جو براہِ راسْتْ رُوْح پر نازِل ہوتی ہے اور تمام اَجْزا ء کو گھیرلیتی ہے یہاں  تک کہ رُوْح کا وہ حِصّہ بھی تکلیف محسوس کرتاہے جو بدن کی گہرائیوں میں ہے۔ نَزع کی تکالیف براہِ راسْتْ رُوْح پر حملہ آور ہوتی ہیں اور پھر یہ تکالیف تمام بدن میں یوں  پھیل جاتی ہیں کہ ہر ہر رَگ ،پٹھے ،حصّے اورجوڑ سے رُوْح کھینچی جاتی ہےنیز ہر بال کی جڑ اور سَر سے پاؤں تک کی کھال کے ہر حصّے سے رُوْح نکالی جاتی ہے،لہٰذا اُس وَقْت کی تکلیف اور دَرْد کا کون اَندازہ کر سکتا ہے۔ بُزرگوں نے تویہاں تک فرمادیاہے کہ موت  کی تکلیف تلوار کے وار ،آرے کے  چِیرنےاورقینچی کے کاٹنے سے بھی  زِیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ جب تلوار کا وار بدن پر پڑتاہےتو بدن کو تکلیف اسی وَجہ سے