Book Name:Maut kay Qasid

    (۳)ناپائیداردُنیااور(اس پر) افسوس کرناچھوڑ دے ، کہ ایک دن تُوبھی مرنے والا ہے ،اور ایسے پختہ اِرادہ کے ساتھ آگے بڑھ جس میں کسی بیہودہ پن کی آمیز ش نہ ہو۔

آخِرت کے مُقابلے میں دُنیا کی حیثیت

 حضرتِ سَیِّدُنَامُسْتَورِدبِن شَدَّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَروِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:''اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم!آخرت کے مُقابلے میں دُنیا اتنی سی ہے جیسے کوئی اپنی اس اُنگلی کو سمندر میں ڈالے تو وہ دیکھے کہ اس اُنگلی پر کتنا پانی آیا۔''  ( صَحِیح مُسلِم،ص۱۵۲۹،حدیث۲۸۵۸ دار ابن حزم بیروت)

    مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مُفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فر ما تے ہیں :یہ (مثال)بھی فقط سمجھانے کے لئے ہے، ورنہ فانی اورمُتَـناہی(ختم ہونے والی اور اِنتہا کو پہنچنے والی دُنیا ) کوباقی غیر فانی غیر مُتَـناہی(ہمیشہ باقی رہنے والی آخرت )سے(اتنی) سی بھی نسبت بھی نہیں جوبھیگی اُ نگلی کی تَری کو سمند رسے ہے۔ خیال رہے کہ دنیا وہ ہے جو اللہ  سے غافل کر دے ، عاقِل(عقلمند) عارف کی دُنیا تو آخِرت کی کھیتی ہے ، اُس کی دُنیا بہت ہی عظیم ہے ، غافل کی نَماز بھی دُنیا ہے، جو وہ نام و نُمود کے لئے اَدا کرتا ہے، عاقِل کا کھانا ،پینا ،سونا، جاگنا بلکہ جینا مرنا بھی دِین ہے کہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی سُنَّت ہے ، مُسلمان اِس لیے کھائے پئے سوئے جاگے کہ یہ حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی سُنَّتیں ہیں ۔ حَیاۃُ الدُّنْیا اور چیز ہے، حیٰوۃٌ فِی الدُّنْیا اور، حَیاۃٌ لِّلدُّنیا کچھ اور ، یعنی دُنیا کی زِندَگی ، دُنیا میں زِندگی ، دُنیا کے لئے زِندگی ۔ جو زِندَگی دُنیا میں ہو مگر آخرت کے لئے ہودُنیا کے لئے نہ ہو ،وہ مُبارَک ہے۔ (مراٰۃ، ج ۷،ص ۳ )

دل سے میرے دُنیا کی مَحَبَّت نہیں جاتی

سرکار گُناہوں کی بھی عادت نہیں جاتی