Book Name:Maut kay Qasid

تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُؕ-فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠(۳۷)

میں سمجھ لیتا جسے سمجھنا ہوتا اور ڈر سُنانے والا تمہارے پاس تشریف لایا تھا تو اب چکھو کہ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔

اس آیتِ مبارکہ  کے تحت تفسیر کی کتابوں میں ایک قول کےمُطابق(النَّذِیْرُؕ-) سے مُراد بڑھاپا ہے۔عَلامہ بَغَوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے  ہیں کہ جب ایک بال سفید ہوجاتا ہے تو وہ دوسروں سے کہتا ہے کہ تم بھی تیار ہو جاؤ کہ موت کا وَقْت قریب آگیا ہے۔(تفسیر بغوی، ج ۳ ص ۴۹۵،تفسیر در منثور،ج۷،ص۳۲)

معلوم ہواکہ بڑھاپا بھی  موت کے قاصدوں میں سے  ہے یہ ایسی عمر ہے کہ اس میں انسان کو خواہِشاتِ نَفْس  ترک کرکے دُنیا کی مَحَبَّت سے پیچھا چُھڑاکر اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کی طرف لو لگالینی چاہیے اورزندگی کے  باقی دن موت کی یاداور آخرت کی تیاری   میں بسر کرنے چاہییں۔ہمارے بُزرگانِ دِین یوں تو اپنی ساری زندگی فکرِآخرت اور اَحکامِ خُداوَندی   کی بجاآوری میں ہی  بسر کرتے تھے مگر جب  انہیں اپنی داڑھی یا سرکے بالوں  میں ایک سفید بال  نظرآجاتا تو خَلْوَت نشینی اِخْتیار کرلیتے اور ہر وَقْتاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عِبادَت ورِیاضَت میں مَشغُول ہوجاتے ۔جیساکہ

خلوت نشین بزرگ:

     حضرتِ سیِّدُنا ایاس بن قتا دہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی قوم کے سردار تھے ۔ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو دُعا کی :'' یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میں اچانک ہونے والے حادِثات سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں ، مجھے معلوم ہے کہ موت میری تاک میں ہے اور میں اس سے بچ نہیں سکتا۔'' پھر وہ اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے اورفرمانے لگے:'' اے بنو سعد ! میں نے اپنی جوانی تم پر وَقْف کر دی تھی اب تم میرا بُڑھاپا مجھے بخش دو ۔''پھرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے گھر تشریف لائے اور عبادت میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا وِصال ہوگیا۔(بحر الدموع،ص۱۱۲ )