Book Name:Maut kay Qasid

ہیں۔ہم میں سے بَہُت سے لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس مَلکُ الْموت عَلَيْهِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے یہ قاصِد  پیغام ِ اَجَل (یعنی موت کا پیغام)لاچکے ہوں گے مگرہماری غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے  کہ اگر کسی کےسیاہ بالوں کے بعد سفید بال آنے لگیں تو وہ اپنے دل کو ڈھارس دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ تو نَزلے سے بال سفید ہوگئے ہیں یا فکروں اور پریشانیوں نے مجھے  بُوڑھا کردیا  ورنہ  ابھی میری عمر ہی کیا ہے  !اِسی طرح بیماری بھی موت کانُمایاں قاصِدہےمگر اس میں بھی سراسر غفلت برتی جاتی ہے حالانکہ  ہم دیکھتےہیں کہ ’’بیماری‘‘کے سبب بھی روزانہ بے شُمار اَفراد موت کا شکار ہوجاتے ہیں! بلکہ مریض کو تو بَہُت زیادہ موت کو یادرکھنا چاہیے کہ کیا معلوم جو بیماری ہمیں معمولی محسوس ہو رہی ہے وُہی مُہْلِک(یعنی ہلاک کرنے والی) صُورت اِختیا ر کرجائے اورآن کی آن میں فَنا کے گھاٹ اُتار دے پھر اپنے روئیں دھوئیں ، دُشمَن خُوشیاں مَنائیں اورمَرنے والا مَوت سے غافِل مَرِیض مَنوں مٹّی تَلے اندھیری قبر میں جا پڑے!آہ!اس وقت مرنے والا ہوگا اور اُس کے اچھّےیا بُرے اعمال ،یقیناً ہمیں نہیں  معلوم کہ آج کا دن ہماری زِنْدگی کا آخری دن یا آنے والی رات ہماری زِنْدگی کی آخری رات  ہو، بلکہ ہمارے پاس تواس کی بھی ضَمانت نہیں کہ ایک کے بعد دوسرا سانس بھی  لے سکیں گے یا نہیں ؟عین ممکن ہے کہ جو سانس ہم لے رہے ہیں وہی آخری ہو دوسرا سانس لینے کی نوبت ہی نہ آئے! آئے دن یہ خبریں ہمیں سُننے کو ملتی ہیں کہ فُلاں شخص بالکل ٹھیک ٹھاک  تھا ، بظاہر اسے کوئی مَرض بھی نہ تھا ،لیکن اچانک ہارٹ فیل ہوجانے کی وجہ سے چندہی لمحوں میں موت کے گھاٹ اُترگیا، لہٰذا بےجا خواہشات اور لمبی اُمیدوں کے بجائے ہر وَقْت اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے۔

موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ

جان جا کر ہی رہے  گی یاد رکھ

موت آئی پہلواں بھی چل دئیے

خُوبصورت نوجواں بھی چل دئیے