حضرت سیدنا اُسید بن حُضَیر انصاری رضیَ اللہُ عنہ

ایک صحابیِ رسول رضیَ اللہُ عنہ ایک رات سورۂ بقرہ کی تلاوت کررہے تھے۔قریب ہی گھوڑا بندھا ہوا تھا اورگھوڑے کے قریب ہی ان کا بیٹا یحییٰ سورہا تھا۔ قراءت جاری تھی کہ اچانک گھوڑا بِدکنے لگا صحابیِ رسول نے پڑھنابند کیا تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا ، انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر کُودنے لگا ، دوبارہ چپ ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا تیسری مرتبہ پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اُچھلنےلگا، کہیں گھوڑا بچے کو کُچَل نہ دے اس لئے بچے کے قریب آکر اسے اٹھایاتو نظر آسمان کی جانب اٹھ گئی دیکھا کہ سائبان کی مانند کوئی چیز ہےجس میں بہت سے چراغ روشن ہیں۔ پھر صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تمہاری قراءت (سننے) کی وجہ سے قریب آگئی تھی اگر تم تلاوت کرتے رہتے تو صبح ہوجاتی اور لوگ انہیں دیکھ لیتے اور فرشتے بھی ان سے نہ چھپتے۔ (بخاری،ج 3،ص408، حدیث: 5018، مسلم، ص311، حدیث: 1859، معجم کبیر،ج 1،ص207، حدیث:562 ملخصاً) پیارے اسلامی بھائیو! یہ صحابیِ رسول بنو عبدُالْاَشْہل کے چشم و چراغ حضرت سیدنا اُسَیْد بن حُضَیْر اَنصاری رضیَ اللہُ عنہ تھے۔ (معجم کبیر،ج1،ص203، حدیث:547) قبولِ اسلام آپ رضیَ اللہُ عنہ کی 6 کنیتیں ہیں مشہور کنیت ”ابو یحییٰ“ ہے آپ حضرت سیدنا مُصْعَب بن عُمیر رضیَ اللہُ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے، اسلام کی حقانیت آپ پر ظاہر ہونے سے پہلے اور بعد میں آپ کے خیالات اسلام کے بارے میں کس طرح کے تھے اس کا اندازہ اس مختصر واقعہ سے لگائیے چنانچہ حضرت مُصْعب بن عُمیر رضیَ اللہُ عنہ سے ملاقات پر ان سے ابتداءً سخت قسم کی باتیں کیں کہ تم یہاں کس لئے آئے ہو ؟ ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنانے کے لئے ؟ اگر تمہیں زندگی پیاری ہے تو یہاں سے چلے جاؤ۔ حضرت مُصْعب بن عمیر رضیَ اللہُ عنہ نے نرمی سے کہا: ذرا بیٹھ کر میری بات تو سُن لو، اگر میری بات سمجھ میں آجائے تو اسے مان لینا اور اگر پسند نہ آئے تو ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے ۔ یہ سُن کر آپ نے کہا: یہ بات تو میرے فائدے کی کہی ہے !اور اپنا نیزہ زمین پر گاڑ کر حضرت مُصْعب رضیَ اللہُ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت سیدنا مُصْعب بن عمیر رضیَ اللہُ عنہ نے آپ کو اسلام کے بارے میں بتانا شروع کیا اور قراٰن پڑھ کر سنایا تو آپ کے چہرے پر قبولِ اسلام پر آمادگی کے آثار نمودار ہوئے اور کہنے لگے: کیا ہی اچھا اور پسندیدہ دِین ہے،پھر اسلام قبول کرلیا۔(البدایۃ والنھایہ،ج3،ص186) رسولُ اللہ سے بیعت اعلانِ نبوت کے بارھویں سال حج کے موقع پر عقبہ کی گھاٹی میں نبیِّ کریم صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم کے دستِ اقدس پر بیعت ہوگئے۔(استیعاب،ج 1،ص185) فضائل و مناقب ٭فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہُ علیہِ واٰلہٖ وسَلَّم ہے:اُسَیْد بن حُضیر کیا خوب آدمی ہیں۔ (ترمذی،ج 5،ص437، حدیث:3820) ٭حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ آپ کی بہت عزت کیا کرتے اور فرماتے کہ ان کے ساتھ کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ (اسد الغابہ،ج 1،ص143)٭ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا بی بی عائشہ رضیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں: حضرت اُسید بن حُضیر کا شمار فضل والوں میں ہوتا ہے۔ (مسند احمد،ج 7،ص44، حدیث: 19115) کلماتِ تحسین حضرت بی بی عائشہ رضیَ اللہُ عنہا کا ہار گم ہوا اور آیتِ تیمم نازل ہوئی تو حضرت اُسید بن حُضیر کی زبان پر یہ کلمات تھے: اے آلِ ابوبکر! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ہے یعنی مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہنچی ہیں۔ اخلاق و عادات آپ رضیَ اللہُ عنہ نہایت ذہین، فطین اور دُرُست رائے پیش کرنے کی صلاحیت سے مالامال تھے۔ (سیراعلام النبلاء،ج3،ص212) آپ کا شمار ان صحابۂ کرام علیہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جو اچھی آواز کے ساتھ قراٰن پاک پڑھا کرتے تھے۔ (معجم کبیر،ج 1،ص207،حدیث: 562) آپ اپنی قوم میں امامت بھی کرتے تھے (ابو داود،ج1،ص248، حدیث: 607) کثیرخوبیوں کے مالک آپ رضیَ اللہُ عنہ بہترین تَیراک ، نیزہ باز اور کاتب (یعنی لکھنا جانتے) تھے اسی وجہ سے لوگ آپ کو ”کامِل“کہتے تھے۔ (طبقات ابن سعد،ج 3،ص453) آپ رضیَ اللہُ عنہ عمدہ اخلاق والے اور خوش مزاج تھے۔ (سیراعلام النبلاء،ج 3،ص213) مقدس پہلو کا بوسہ لیا ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ نے کسی موقع پر خوش طبعی کی تو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کے پہلو میں ایک چھڑی چبھوئی، آپ نے اس کا بدلہ لینا چاہا تو جانِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس پر راضی ہوگئے ، لیکن آپ نے عرض کی: آپ کےبدن پر کُرتا ہے،حالانکہ میرے بدن پرکُرتا نہیں تھا،سرورِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کُرتا بھی اٹھادیا، کُرتے کا اُٹھانا تھا کہ آپ رضیَ اللہُ عنہ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے لِپَٹ گئے، کروٹ کو بوسہ دیا، اور عرض کیا: یَا رسولَ اللہ! میرا مقصد یہی تھا۔ (ابوداود،ج 4،ص456، حدیث: 5224 مفہوماً) لاٹھی روشن ہوگئی ایک مرتبہ حضرت سیدنا اُسید بن حُضیر اور حضرت سیدنا عَبَّاد بن بِشْرانصاریرضیَ اللہُ عنہما دونوں دربارِرسالت سے کافی رات گزرنے کے بعد اپنے گھروں کوروانہ ہوئے۔اندھیری رات میں جب راستہ نظر نہیں آیا تو اچانک ایک صحابی رضیَ اللہُ عنہ کی لاٹھی روشن ہوگئی اور دونوں مقدس حضرات اس کی روشنی میں چلتے رہے۔ جب دونوں کا راستہ الگ الگ ہوگیا تودوسرےصحابی رضیَ اللہُ عنہ کی لاٹھی بھی روشن ہوگئی اور دونوں روشنی میں اپنے اپنے گھر پہنچ گئے۔ (صحیح ابن حبان،ج3،ص239، حدیث: 2028مفہوماً) مجاہدانہ زندگی آپ رضیَ اللہُ عنہ نے تمام غزوات میں بھرپور حصہ لیا جبکہ ایک قول کے مطابق غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ 3 ہجری غزوۂ اُحد میں جب مسلمانوں میں افراتفری پھیلی تو آپ رضیَ اللہُ عنہ اس وقت بھی رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ ساتھ تھے اس معرکہ میں آپ کو سات زخم آئے تھے۔ (استیعاب،ج 1،ص185) 5 ہجری غزوۂ خندق کے موقع پر آپ رضیَ اللہُ عنہ دو سو مسلمانوں پر تعینات تھے۔ سن 8 ہجری غزوۂ حُنین میں دشمن کے مقابلہ کے وقت قبیلہ اَوس کا جھنڈا آپ رضی اللہ عنہ تھامے ہوئے تھے۔(طبقات ابن سعد،ج 2،ص52،114) زمانۂ خلافت کے جہادوں میں بھی شرکت فرماتے رہے یہاں تک کہ فتحِ بیت المقدس میں امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضیَ اللہُ عنہ کے ساتھ رہے۔ (تاریخ ابن عساکر ،ج 9،ص73) وصال مبارک و تدفین حضرت سیدنا اُسَید بن حُضَیر نے سن 20 ہجری ماہِ شعبان المعظم میں اس دنیا سے آخرت کا سفراختیار فرمایا، (معجم کبیر،ج 1،ص203، حدیث: 549) امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضیَ اللہُ عنہ آپ کا جنازہ اٹھانے والوں میں شامل تھے یہاں تک کہ جنازہ جنت البقیع میں رکھ دیا گیا پھر فاروقِ اعظمرضیَ اللہُ عنہ نے آپ کی نماز ِجنازہ ادا کی۔ (طبقات ابن سعد،ج3،ص455) بَوقتِ وفات آپ رضیَ اللہُ عنہ پر 4 ہزار درہم کا قرضہ تھا ، آپ کی ایک زمین تھی جس کی سالانہ آمدنی ایک ہزار درہم تھی قرض خواہوں نے اس زمین کو بیچنا چاہا تو حضرت سیدنا عمر رضیَ اللہُ عنہ نے قرض خواہوں سے پوچھا: کیا تم اس بات پر راضی ہوسکتے ہو کہ ہر سال ایک ہزار درہم لے لو، انہوں نے کہا : ہم راضی ہیں، ہر سال انہوں نے ایک ہزاردرہم لینا شروع کردئیے۔ (طبقات ابن سعد،ج3،ص455،سیر اعلام النبلاء،ج 3،ص213) ایک قول کے مطابق آپ سے 4 احادیث مروی ہیں۔ (تاریخ ابن عساکر،ج 9،ص78)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مدرس مرکزی جامعۃ المدینہ ،عالمی مدنی مرکز فیضان باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code