باتوں سے خوشبو آئے

گناہوں بھری گفتگو کا وبال

ارشادِ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ:قیامت کے دن لوگوں میں سے زیادہ گناہ اس شخص کے ہوں گے جو اللہ کی نافرمانی والی (مثلاً جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ پر مشتمل) گفتگو زیادہ کرتا ہوگا۔(حلیۃ الاولیاء،ج 1،ص260، رقم:641)

فائدہ مند علم وہ ہے جس پر عمل کیا جائے

ارشادِ حضرت سیّدُنا علّامہ نجم ُالدین غَزِّی شافعی رحمۃ اللہ علیہ: جس شخص کا علم زیادہ ہو اس کا عمل بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس کی (عملی) حالت اچھی ہوتی ہے، اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کا علم شمار کے قابل اور توجہ کے لائق نہیں ہے۔(حسن التنبہ،ج1،ص19)

عمل کے ذریعے نیکی کی دعوت

ارشادِ حضرت سیّدُنا علّامہ نجم ُالدین غَزِّی شافعی رحمۃ اللہ علیہ: عمل کے ذریعے دی جانے والی نیکی کی دعوت زبانی نیکی کی دعوت سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔(حسن التنبہ،ج1،ص19)

قبولیت کی نشانی

ارشادِحضرت علّامہ ضیاء الدّین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ:کسی نیک عمل کی توفیق ملنا ہی قبولیت کی نشانی ہے۔

(سیدی قطبِ مدینہ، ص 18)

احمد رضا کا تازہ گلستاں ہے آج بھی

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کا معمول

صحابۂ کرام (علیہمُ الرِّضوان) کی عادتِ کریمہ تھی جب کسی مجلس میں جمع ہوتے کسی سے کچھ آیات ِکلا مِ مجید پڑھوا کر سنتے۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص118)

رات کو آئینہ دیکھنا

رات کو آئینہ دیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں، بعض عوام کا خیال ہےکہ اُس سے منہ پر جھائیاں(Freckles)پڑتی ہیں، اور اس کا بھی کوئی ثبوت نہ شَرْعا ً ہے نہ طِبّاًنہ تَجْرِبَۃً(یعنی یہ بات نہ تو تجربے سے ثابت ہے اور نہ ہی شریعت یا میڈیکل سائنس میں اس بات کا کوئی ثبوت ہے)۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص490)

بُری سفارش کا وبال

بُری بات کے لئے سفارش کرنامثلاً سفارش کرکے کوئی گناہ کرادینا شفاعتِ سیئہ(یعنی بُری سفارش)ہے، اسکے فاعل (یعنی سفارش کرنے والے) پر اس کا وبال ہے اگرچہ (اس کی سفارش) نہ مانی جائے۔(فتاویٰ رضویہ،ج23،ص407)

دل کی حفاظت کی اہمیت

آدمی کو اگر پلاؤ کی رکابی(پلیٹ) دی جائے اور کہہ دیں کہ اس کے خاص وسط (درمیان) میں روپیہ بھر جگہ کے قریب سنکھیا (زہر کی ایک قسم) پسی ہوئی ملی ہے، ڈرتے ڈرتے کناروں سے کھائے گا اور بجائے ایک روپیہ کے چار روپیہ کی جگہ چھوڑے گا۔ کاش! ایسی احتیاط جو اپنے بدن کی محافظت میں کرتا ہے قلب (دل) کی نگاہ داشت میں بجالاتا۔(فتاویٰ رضویہ،ج 23،ص518)

عطار کا چمن

عاشقانِ رسول کا حصّہ

یہ عاشقانِ رسول کا حصّہ ہے کہ جب مدینے جاتے ہیں تو روتے ہیں کہ ہم حاضری کے قابل نہیں اور جب مدینے سے واپس ہوتے ہیں تو بھی روتے ہیں کہ مدینہ چھوٹ رہا ہے۔(مَدَنی مذاکرہ، 3شعبان المعظم1438ھ)

دنیا کی بے ثباتی

یاد رکھئے! دنیا نہ کسی کے کام آئی ہے، نہ آئے گی اور نہ ہی قبر میں ساتھ جائے گی۔(مَدَنی مذاکرہ،یکم محرم الحرام1436ھ)

تحفے میں کیا دیا جائے؟

خوشی کے موقع جیسے شادی یا سالگرہ وغیرہ پر تحفے میں شو پیس یا کوئی اور چیز دینے کے بجائے نقد پیسے دینا زیادہ مفید ہے کہ اس سے وہ اپنی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔(مَدَنی مذاکرہ، 6ربیع الاوّل1439ھ)

Share

Articles

Comments


Security Code