ننھے ڈرائیور

بدلتے دور نے جہاں ہمیں بے شمار ایجادات کے حیرت انگیز نظارے دکھائے وہیں ہمیں سفر طے کرنے کے لئے جدید سواریوں (جہاز، ٹرین، بس، کار اور بائیک (موٹر سائیکل) وغیرہ) کا بھی تحفہ دیا جو کہ یقیناً ہمارے لئے بہت مُفید ہے کہ ان جدید سواریوں کے ذریعے سے ہم دِنوں کے سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کے سفر منٹوں میں طے کرلیتے ہیں، مگر افسوس! ڈرائیونگ کرنے والوں کے سبب آئے دن لوگ حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں، چند خوش قسمت لوگوں کو چھوڑ کر ان حادثات کا شکار ہونے والے افرادزخمی ہوکر عمر بھر کی معذوری حتی کہ بعض تو موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ اکتوبر2017ء کی رپورٹ کے مطابق صرف لاہور میں (سال 2017ءمیں)39000سے زائد افراد مختلف حادثات کا شکار ہوئے جن میں سب سے زیادہ تعداد موٹرسائیکل سواروں کی ہے۔ ایسے میں مہارت اور تَجرِبہ سے عاری7سال کی عمر سے لےکر 13،14 سال تک کے کم عمر بچّوں کا سڑکوں اور گلی کُوچوں میں گاڑی/موٹر سائیکل چلانا بلکہ یوں کہہ لیں کہ چلانے کے بجائے اُڑانے کی کوشش کرنا، ون وِیلنگ کرنا، لوگوں کو خوفناک کرتب دِکھانا حتی کہ حادثات میں اپنے ساتھ دیگر افراد کو لے ڈُوبنا (جن میں عورتیں، بوڑھے اور چھوٹے چھوٹے بچّے بھی شامل ہوتے ہیں) ”لمحۂ فکریہ“ ہے ان والدین کے لئے جو اپنے بچّوں کو اس سے روکنے کے بجائے بھرپور لاڈپیار کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم عمری ہی میں ان کےہاتھ میں گاڑی تھماتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کے گاڑی چلانے کو باعثِ فخر سمجھتے اور ملکی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ یاد رہے! پاکستان میں18سال سے کم عمر افراد کا بائیک (موٹر سائیکل) اور کار وغیرہ چلانا قانوناً جُرم ہے۔(کیونکہ 18سال سے کم عمر افراد کا ڈرائیونگ لائسنس بنتا ہی نہیں) (آفیشل ویب سائٹ ڈرائیونگ لائسنس)

محترم والدین! بچّوں کے سبب پیش آنے والے یہ حادثات آپ کی لاپرواہی اور آپ کی جانب سے برتی جانے والی غفلت کا ثمرہ (نتیجہ) ٹھہریں گے، لہٰذا اپنے بچّوں اور دیگر افراد کی جان کے تحفّظ کو یقینی بناتے ہوئے کم عمری ہی میں انہیں”جان لیوا سڑکوں“کی نذر کردینے کے بجائے ان کے بڑے ہونے کا انتظار فرمائیں اور پھر ٭پہلے انہیں اپنی نگرانی میں تربیت دیں یا کسی معیاری ڈرائیونگ اسکول میں داخل کروائیں تاکہ وہ اچّھی طرح ڈرائیونگ سیکھ سکیں ٭تربیت دینے کے بعد یہ نہ سمجھیں کہ اب آپ کا بیٹاروڈ پر بائیک یا کار چلانے کا اہل ہوگیاہے بلکہ ٹریفک کے ملکی قوانین کا احترام کرتے ہوئے پہلے ان کا ڈرائیونگ لائسنس بنوائیں ٭اجازت نامہ (Driving License) مل جانے کے بعد ہی انہیں گاڑی چلانے کی اجازت دیں ٭ابتدا میں ان کا دائرہ کم ٹریفک والی سڑکوں تک محدود رکھیں کیونکہ تیز رفتار سڑکوں پر گاڑی چلانے کا ہُنَر ایک مدّت کے تَجرِبہ سے ہی حاصل ہوتا ہے ٭نیز اس بات کا یقین کرلیں کہ جو بائیک آپ اپنی اولاد کے سِپُرد کر رہے ہیں وہ ہر اعتبار سے چلانے کے لائق ہو مثلاً ٭بریک نئے ہوں کہ خستہ حال بریک نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں ٭ہارن اور٭تمام لائٹس فعَّال (Functional) ہوں ٭ہیلمٹ کی پابندی کروائیں ٭دائیں بائیں کے شیشوں (یعنی سائیڈ گلاسز) کی حیثیت کو بھی لازمی سمجھیں کیونکہ ان کے ذریعے ہم پیچھے سے آنے والی ٹریفک کو ملاحظہ کرسکتے ہیں جو کہ نہایت ضروری ہے۔والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کو ملکی قوانین کی پاسداری کرنے کی نصیحت کریں اور تیز رفتاری، وَن وِیلنگ، گاڑیوں کی ریس وغیرہ جیسے خطرناک شوق سے انہیں دور رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں نیز ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ ودیگر احتیاطی تدابیر کو بھی اپنی اولاد پر لازم کریں کیونکہ احتیاطی تدابیر کو اپنائے بغیر گاڑی چلانا اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنا ہے جوکہ سراسر بے وقوفی اور قانوناً جرم ہے۔

اللہ پاک ہمیں ہماری اولاد کی شریعت کے مطابق تربیت کرنے کی توفیق عطافرما ئے اور ہماری اولاد کو حادثات سے محفوظ فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ماہنامہ فیضان مدینہ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code