حلال و حرام روزی

)یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱)(

ترجمہ:اے رسولو!پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔

(پ18، المومنون:51)

رزقِ حلال کھانے اور نیک اعمال کرنے کا حکم تمام رسولوں کو دیا گیا۔ ہر رسول کو اُن کے زمانے میں یہ ندا فرمائی گئی۔ پاک رسولوں کو دیا گیا حکم ذکر کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ رزقِ حلال اور اعمالِ صالحہ (نیکیوں) کی عظمت و اہمیت اُجاگر ہو۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ ہر نبی علیہ السَّلام کا عمل اس کی اُمت کے لئے نمونہ ہوتا ہے، یوں جب امت اپنے نبی علیہ السَّلام کے عمل یعنی رزقِ حلال کو نہایت اہمیت دینے اور نیکیوں کی طرف رغبت کا مشاہدہ کرے گی تو ان اعمال میں پیروی کرے گی جیسے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اخلاقِ حسنہ اور عبادت و ریاضت کے واقعات بیان کئے جائیں تو لوگوں کو بہت ترغیب ملتی ہے۔ رزقِ حلال کھانے کا یہی حکم اہل ِ ایمان کو بھی دیا گیا چنانچہ اسی آیت کے متعلق نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:”اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک چیز کے سوا اور کسی چیز کو قبول نہیں فرماتا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا تھا۔(چنانچہ رسولوں کو) فرمایا:”اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو، بیشک میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔“(پ18، المومنون:51)اور (اہلِ ایمان سے) فرمایا:”اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ۔“(پ2، البقرۃ:172)(مسلم، ص393، حدیث: 2346) طیبات“ یعنی پاکیزہ چیزوں سے مراد حلال چیزیں اور صَالِحاً“یعنی اچھے کام سے مراد شریعت کے اَحکام پر اِستقامت کے ساتھ عمل کرنا ہے۔

خدا کی بندگی و اطاعت میں رزقِ حلال کی بڑی بنیادی حیثیت ہے کہ تقویٰ و خوفِ خدا کا سب سے اہم پہلو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا ہے اور نافرمانی کے کاموں میں رزقِ حرام نہایت شدید اور گھناؤنا ہے۔افسوس کہ لوگ حلال و حرام کمائی کا خیال کرنے میں بہت بے پروا ہوچکے ہیں اور حدیث میں بیان کردہ زمانے کے آثار نظر آتے ہیں کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب آدمی یہ پروا نہیں کرے گا کہ وہ جو کچھ حاصل کررہا ہے وہ حلال سے ہے یا حرام سے؟(بخاری،ج 2،ص7، حدیث:2059)

حلال کمانے کی بہت فضیلت ہے، رزقِ حلال کھانے والا جنّتی ہے چنانچہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”جو شخص پاکیزہ یعنی حلال چیز کھائے اور سنت کے مطابق عمل کرے اور لوگ ا س کے شر سے محفوظ رہیں تو وہ جنّت میں داخل ہو گا۔“ (ترمذی،ج4،ص233،حدیث:2528)رزقِ حلال کھانے والے کی دعائیں قبول ہوتی ہیں چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاصرضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے عرض کی کہ یَارَسولاﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مُسْتَجَابُ الدَّعوَات بنادے (یعنی ميری سب دعائیں قبول ہوں)رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”لقمۂ حلال اپنے لئے لازم کرلو تو مُسْتَجَابُ الدَّعْوَات ہوجاؤ گے۔“

(معجم اوسط،ج 5،ص34، حدیث:6495، الترغیب والترہیب،ج2،ص345،حدیث:8)

حلال و حرام روزی کے متعلق قرآن کے احکام ملاحظہ ہوں: (۱)پاکیزہ رزق کھانے کا حکم پروردگارِ عالَم نے یوں دیا:”اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔“(پ2، البقرۃ: 172) (۲)ناحق مال كھانے اور تھانے کچہری میں لوگوں کو گھسیٹ کر مال بنانے والوں کو یوں منع فرمایا:اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر جان بوجھ کر کھالو۔(پ2، البقرۃ: 188) (۳)مالِ یتیم ہڑپ کرنے والوں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا: بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔(پ4،النساء:10) (۴)امانت کی ادائیگی کے متعلق حکم دیا: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں ان کے سپرد کرو۔(پ5،النساء:58)

رزقِ حرام کے متعلق اِن احادیث پر بھی ایک نظر ڈالیں: (1)نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:وہ گوشت جنت میں نہ جائے گا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو اور ایسا حرام گوشت دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔(ترمذی،ج 2،ص118، حدیث: 614، مشکوٰۃ،ج 2،ص131، حدیث:2772) (2)فرمایا:”حرام خور کی دعا قبول نہیں ہوتی۔“(مسلم، ص393، حدیث:2346) (3)فرمایا:”حرام مال کا کوئی صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘(مسلم،ص115 حدیث: 224) (4)فرمایا:”رشوت لینے والا، دینے والا جہنمی ہے۔“(معجم اوسط،ج 1،ص550،حدیث:2026) (5)فرمایا:رشوت دینے والے اور لینے والے پر اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لعنت بھیجی ہے۔ ‏(ابوداؤد،ج 3،ص420،حدیث:3580) (6)حرام کھانے والے کی عبادت و نماز قبول نہیں ہوتی۔(اتحاف السادۃ المتقین،ج 452،ص6) (7)تجارت میں جھوٹ بولنے والے اور عیب چھپانے والے کے کاروبار سے برکت مٹادی جاتی ہے۔(بخاری،ج2،ص14،حدیث:2082) (8)مزدور کی مزدوری مارنے والے کے مقابلے میں قیامت کے دن نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اس مزدور کی حمایت میں ظالم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔(بخاری،ج2،ص52،حدیث:2227)

حرام كمائی کی صورتیں:باطل اور ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانا حرام ہے اور اس میں حرام خوری کی ہر صورت داخل ہے خواہ لُوٹ مار کرکے ہو یا چوری، جُوئے، سُود، رشوت میں سے کسی طریقے سےیا جھوٹی گواہی دے کرگواہ نے کمایا یا جھوٹا فیصلہ دے کر قاضی و جج نے مال پانی وصول کیا یا جھوٹ کی وکالت کرکے وکیل نے فیس لی یا یتیم، بیوہ، غریب امیر الغرض کسی کے مال میں خیانت کرکے، ڈنڈی مار کر یا کسی بھی طرح دھوکہ دے کر مال ہتھیا لیا یا حرام تماشوں جیسے ناٹک، فلموں، ڈراموں، گانے بجانے کی اجرت وصول کی، یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کا معاوضہ ہو یا بِلااجازت ِ شرعی بھیک مانگ کر رقم لی ہو۔ یہ سب ممنوع و حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حلال رزق کھانے اور حرام رزق سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

آیت میں مزید فرمایا گیا کہ وَاعْمَلُوۡا صَالِحًا ”اور اچھا کام کرو“ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو دیا جارہا ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاءِ کرام علیہم الصَّلٰوۃ وَالسَّلام پر بھی عبادات فرض تھیں، لہٰذا کوئی شخص روحانيت كا كيسا ہی بلند درجہ حاصل کرلے وہ عبادت سے بے پروا نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا جو لوگ فقیروں کا لبادہ اوڑھ کر اور صوفیا و صلحا جیسی شکل و صورت بنا کر یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم تو قُربِِ خداوندی پاچکے لہٰذا اب ہم پر کوئی عبادت فرض نہیں رہی،یہ سب باطل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب ترین حضرات تو انبیاء و رُسل ہیں، جب ان پر عبادات فرض رہیں تو دوسرا کون یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ اس پر کوئی عبادت فرض نہیں رہی۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے، اٰمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…مفتی محمد قاسم عطاری 

٭…دارالافتاءاہل سنت عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code