وہ بزرگانِ دین جن کایومِ وصال/عرس شعبانُ المعظم میں ہے۔

شعبانُ المعظّم اسلامی سال کا آٹھواں مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عُظّام اور علمائے اسلام کا وصال یا عرس ہے، ان میں سے 34کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“شعبانُ المعظّم1438ھ اور1439ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا مزید15 کا تعارُف ملاحظہ فرمائیے:صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)زُہد و تقویٰ کے جامِع صحابی حضرت سیّدُنا عثمان بن مظعونرضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےرضاعی بھائی،قدیمُ الاسلام،حبشہ و مدینہ دونوں جانب ہجرت کرنے والے، سادہ و نیک طبیعت کے مالک، کثرت سے عبادت کرنے اورروزے رکھنے والے، اصحابِ صُفَّہ اور بَدری صَحابہ میں سےتھے۔شعبانُ المعظّم3ھ میں فوت ہوئے اور مُہاجرین میں سب سے پہلے جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ (حلیۃ الاولیاء،ج 1،ص147تا151، جامع الاصول،ج13،ص313،314) (2)جلیلُ القدر صحابی حضرت سیّدُنا مُغیرہ بن شُعْبہ ثقفیرضی اللہ عنہ کی ولادت طائف میں ہوئی اور شعبانُ المعظّم50ھ میں کُوفہ میں وفات پائی،آپ پانچویں(5)سنِ ہجری میں اسلام قبول کرنے والے، عاشقِ رسول، مجاہدِاسلام، کئی احادیث کے راوی، سحرُالبیان خطیب، صاحبِ رائے، بہترین منتظم، متعدد شہروں کے گورنر اور ذہانت میں ضربُ المثل تھے۔(اعلام للزرکلی،ج7،ص277، تاریخ ابن عساکر،ج 60،ص13تا62) اولیائے کرام رحمہم اللہ السَّلام (3)فخرِدین و ملّت حضرت سیّد میراں حسین زنجانیرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت347 ھ کو زنجان شہر(صوبہ زنجان)اِیران میں ہوئی اور19شعبانُ المعظم 431ھ کو وصال فرمایا،آپ ولیِ کامل، سلسلہ جنیدیہ کے شیخ اوراکابراولیائے کرام سے ہیں۔مزارمبارک چاہ میراں مرکزُالاولیاء لاہور میں ہے۔(تذکرہ اولیائے پاکستان،ج1،ص43، 60) (4)فاتحِ بلگرام حضرت سیّد محمدصاحبُ الدعوۃ الصغریٰ چشتی بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 564ھ ہند میں ہوئی۔آپ ولیِ کامل، مجاہدِاسلام، خلیفۂ قطبُ الدّین بختیار کاکی، ساداتِ بلگرام، مارہرہ اورمسولی شریف کے جدِّاعلیٰ ہیں۔ 14شعبانُ المعظّم645ھ کو وصال فرمایا، مزار مبارک جانبِ شمال محلہ میدان پور بلگرام (ضلع ہردوئی،یوپی) ہند میں ہے۔(تذکرہ نوری، ص37) (5)لسانُ الغیب حضرت خواجہ حافظ شمسُ الدّین محمد شیرازیرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریباً720ھ میں شیراز (صوبہ فارس) ایران میں ہوئی اوریہیں8شعبانُ المعظم792ھ کو وصال فرمایا۔آپ فارسی زبان کے بےمثل صوفی شاعر، فخرُالعلماء اور ناظمُ الاولیاء ہیں۔آپ کا شعری مجموعہ”دیوانِ حافظ“اہلِ علم میں معروف ہے۔(اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،ج7،ص797،794،نفحات الانس مترجم، ص635،وفیات الاخیار، ص48) (6)سیّدُالاولیاء حضرت سیّد عبدُاللہ شاہ اصحابی بغدادی قادریرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت غالباً بغداد میں ہوئی۔ آپ خاندانِ غوثِ اعظم کے فرزند، شیخِ طریقت اور ولیِ کامل ہیں۔1093ھ کو وصال فرمایا، مزار ٹھٹھہ شہر کے قریب مکلی قبرستان(باب الاسلام سندھ) میں مَرجَعِ خلائق ہے۔ان کا عرس ہرسال13تا15شعبان ہوتاہے۔( تذکرہ اولیائے پاکستان،ج 1،ص469) (7)دَمْٹری والی سرکار حضرت میاں پیرا شاہ غازی قلندرقادریرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1076ھ کو موضع چک بہرام ضلع گجرات (پنجاب) میں ہوئی اور14شعبانُ المعظم1163ھ کو کھڑی شریف (ضلع میرپور) کشمیرمیں وصال فرمایا،آپ صاحبِ مجاہدہ و کرامات اور کثرت سے تلاوتِ قراٰن کرنے والے بزرگ تھے۔(تذکرہ اولیائے جہلم، ص159،162) (8)قطبِ زمان حضرت حاجی محمد عثمان خان دامانی نقشبندیرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت قصبہ لوئی،تحصیل کلاچی،ضلع ڈیرہ اسماعیل خان(صوبہ خیبرپختونخواہKPK)میں ہوئی اور وصال22شعبانُ المعظم1314ھ کو خانقاہِ احمدسعیدیہ موسیٰ زئی شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوا۔آپ جامعِ کمالات ظاہری و باطنی،متبعِ سنّت اورعاجزی وانکساری کے پیکر تھے۔(فیوضات حسنیہ، ص 395)علمائے اسلام رحمہم اللہ السَّلام (9)امامُ الاَئِمّہ حضرت سیّدُنا زُفر تمیمی بصریرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت110ھ کو کوفہ عراق میں ہوئی اورشعبانُ المعظّم158ھ کو وصال فرمایا، تدفین بصرہ (عراق) میں ہوئی۔آپ حافظُ القراٰن،محدّثِ زمانہ،مجتہد فی المذہب،قاضیِ بصرہ اور امامِ اعظم کےجلیلُ القدر شاگردتھے۔(وفیات الاعیان،ج 1،ص342، اخبار ابی حنیفۃ، ص74، 109تا113) (10)امیرُالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدُنا سفیان ثوریرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت98ھ میں کوفہ (عراق) میں ہوئی اورشعبانُ المعظم161ھ میں وصال فرمایا۔مزاربنی کُلیب قبرستان بصرہ میں ہے۔آپ عظیم فقیہ، محدث، زاہد، ولیِ کامل اوراستاذِ محدثین و فقہا تھے۔(سیراعلام النبلاء،ج 7،ص229،279، طبقات ابن سعد،ج6،ص350) (11)شمسُ الائمّہ حضرت سیّدُنا عبدالعزیز حلوانی بخاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت چوتھی صدی ہجری میں بخارا (ازبکستان) میں ہوئی اورشعبانُ المعظم448ھ کو شہرکش میں وصال فرمایا، تدفین قبرستان کلاباذبخارا (ازبکستان) میں ہوئی۔آپ بہت بڑے عالم،حافظُ الحدیث،مجتہدفی المسائل، استاذُالفقہاء اور فقہ حنفی کی بنیادی کتاب ”المبسوط“ کے شارح ہیں۔(اعلام للزركلی،ج 4،ص13، حدائق الحنفیہ، ص221،فقہ اسلامی،ص47) (12)تلمیذِ علّامہ سُیوطی مخدومُ الکبیر زینُ الدّین بن علی ملیباری شافعیرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت873ھ میں کوچین(Cochin) ملیبار کیرالہ ہند میں ہوئی اور 17شعبانُ المعظم928ھ کو پونانی(Ponnani) میں وصال فرمایا اور وہیں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن،محقّق، شافعی عالِم، شاعرِ اسلام، سلسلہ چشتیہ کے پیرِ طریقت، زہد و تقویٰ سے متّصف،مبلّغِ اسلام، چوبیس(24) سے زائد کتب کے مصنّف اور صاحبِ فتح المعین شیخ زینُ الدّین احمد مخدومُ الصغیرکےجدِّامجد ہیں۔(تراجم علماء الشافعیۃ فی الدیار الہندیۃ، ص69تا77) (13)صاحبِ مَوْلُود بَرزَنجِی، حضرت سیّد جعفر بن حسن برزنجی مدنی شافعیرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1128ھ مدینۂ منوّرہ میں ہوئی۔آپ مفتیِ شافعیہ مدینۂ منوّرہ و امام و خطیبِ مسجدِ نبوی، استاذُالعلماءاور سلسلہ خلوتیہ کے شیخِ طریقت تھے۔3شعبانُ المعظم1177ھ کو وصال فرمایا اور تدفین جنّتُ البقیع میں ہوئی۔آپ کی12تصانیف میں سےمولود برزنجی“(عَقدُ الجَوھَر فِی مَولِدِ النَّبِیِّ الاَزھَر)مشہورہے۔(سلک الدرر، جز2،ج 1،ص11، مولود برزنجی، ص12،13) (14)امامِ شریعت و طریقت حضرت امام سیّد محمد مُرتضیٰ حسینی بلگرامی زبیدی مصری قادری حنفیرحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1145ھ بلگرام (ضلع ہردوئی، یوپی) ہند میں ہوئی اور17شعبانُ المعظم1205ھ قاہرہ مصرمیں وصال فرمایا، مزار مبارک مشہدِ سیّدہ رقیہ میں ہے۔آپ حافظُ الحدیث،صوفی ِ کامل،جامعُ العلوم،فقیہ حنفی،کثیرُالتصانیف اورتیرھویں صدی کے مُجدّد تھے۔ آپ کی سو(100) کے قریب تصانیف میں سے تاجُ العُروس(40جلدیں)اور اتحافُ السادۃ المتقین (احیاء العلوم کی شرح)کو بینَ الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔(حلیۃ البشر،جز3،ج 1،ص1492، حدائق الحنفیۃ، ص477) (15)شیدائے اعلیٰ حضرت، عالمِ باعمل حضرت مولانا تاجُ الدّین قادریرحمۃ اللہ علیہ پھالیہ ضلع منڈی بہاؤالدّین(پنجاب،پاکستان)کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔مرکزُالاولیاء لاہورمیں علمِ دین حاصل کیا اور یہیں کئی مساجد میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ جیِّدعالمِ دین اورشیخِ طریقت تھے۔ آپ کا وصال 25شعبانُ المعظم 1327ھ کو ہوا اوراپنی تعمیرکردہ مسجدتاجُ الدّین (محلہ چوبچہ مغل پورہ مرکز الاولیاء لاہور)سے مُتّصل دفن کئےگئے۔(تذکرہ اکابراہلِ سنّت پاکستان، ص 111)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…رکنِ شوریٰ ونگرا ن مجلس المدینۃ العلمیہ،باب المدینہ کراچی

Share

Articles