حدیث پاک اور اُس کی شرح

بیماریوں اوردکھوں کی بہترین دوا

*  مولانا محمد ناصر جمال عطاری مدنی

ماہنامہ جنوری2022

آخری نبی مکی مدنی محمدِ عربی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : خَيْر ُالدَّوَاءِ الْقُرآنُ یعنی قراٰن پاک بہترین دوا ہے۔[1]

اللہ پاک نےقراٰنِ کریم ہمارے لئے شِفا اور رحمت بنا کر اُتارا ہے۔[2] اِس بنا پر قراٰن کریم ہمارے جسم اور دل و روح سب کیلئے شفا ہے۔[3] اب چاہےبیماری ظاہری ہو یا باطنی ، حسی ہو یا معنوی ، اس کے خاتمےکےلئے قراٰنِ کریم بہترین دوا ہے۔[4]

قراٰنِ کریم کے نزول کے زمانے کا جائزہ لیجئے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اُس وقت جہالت و گمراہی کی وجہ سے کُفر و شرک اور دیگر کئی معاشرتی بُرائیوں نے وبا کی صورت اختیار کی تو ایسے موقع پر آیاتِ قراٰن رحمت و شِفا بَن کر اُتریں ، جس جس نے درس گاہِ نبوت میں بیٹھ کر رحمتِ قراٰن سے فائدہ اُٹھایا اُس کا شمار “ انعام یافتہ بندوں “ میں ہوا اور اُسے ہدایت و راہنمائی کے لئے مینارۂ نور قرار دیا گیا۔

عہدِرسالت ہی سے دکھوں اور ظاہری بیماریوں کے لئے قراٰنِ حکیم کو بہترین دَوا کے طور پر متعارف (Introduce) بھی کروایا گیا اور اِس سے علاج کرنے کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ، اُس عہد کے  پانچ واقعات ملاحظہ کیجئے :

(1)فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : سورۂ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے۔[5] اس سورہ کا ایک نام “ شافیہ “ اور ایک نام “ سورۃُ الشفاء “ ہے ، اس لئے کہ یہ ہر مرض کے لئے شفاء ہے۔[6]

صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کا ایک قافلہ عرب کے کسی قبیلے میں گیا تو اِسی دوران قبیلے کےسردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا ، ایک صحابی نے درد والی جگہ پر اپنا لُعاب لگایا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر دَم کیا تو دَرد فوراً ختم ہوگیا۔[7]

(2)ایک شخص نے رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی بارگاہ میں حَلْق یعنی گلے میں درد کی شکایت کی تو آپ نے اِرشاد فرمایا : قراٰن پڑھنا اختیار کرو۔[8]

(3)رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو تم دنیاوی پریشانی یا مصیبت کے وقت پڑھو تو وہ پریشانی دور ہوجائے؟ عرض کی گئی جی ہاں یارسولَ اللہ ضرور بتائیے! تو آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : وہ حضرت یونس کی دعا “ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْن “ ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ یہ آیۂ کریمہ : “ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْن “ اسمِ اعظم ہے اس کے ساتھ جو بھی دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے۔[9] یہ قراٰنی دُعا آیتِ کریمہ کہلاتی ہے اور بلاؤں کے خاتمے کے لئے بہت مفیدہے۔[10]

 (4)حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہُ عنہ کےدَم کرنے سے ایک بیمارکوآرام آگیا۔ رحمتِ عالم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے آپ سےفرمایا : اُس کے کان میں کیا پڑھا؟ تو آپ نے سورۂ مُؤمِنون کی آیت115تااختتام تک سنادی۔ ارشاد فرمایا : یقین رکھنے والاشخص اِسے پڑھ کرپہاڑ پر دم کردے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے۔[11]

(5)حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہُ عنہا  فرماتی ہیں : جس مرض میں رسولِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی روح قبض کر لی گئی تھی ، اس مرض میں آپ سورۂ فَلَق اور سورۂ نَاس پڑھ کر اپنے اوپر دَم فرماتے تھے اور جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو میں وہ سورتیں پڑھ کر آپ پر دَم کیا کرتی اور خود آپ کے ہاتھ کو پھیرتی کیونکہ وہ (میرے ہاتھ سے زیادہ) بابرکت ہے۔[12]

دُکھ اور بیماری دور کرنےکے چند قراٰنی علاج

حضرت سیِّدُنا صالح مُرِّی  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں کہ میری اہلیہ کو فالج ہوا تو میں نے قراٰنِ پاک سے کچھ پڑھ کر اسے دَم کیا چنانچہ اسے اِفاقہ ہوگیا۔ غالباً میں نے یہ بات حضرت قَطّان  رحمۃُ اللہِ علیہ  کو بتائی توآپ نے کہا : مجھے اس بات پر کوئی تعجب نہیں ، خدا کی قسم! اگر آپ مجھے یہ بتاتے کہ میں نے ایک مُردہ پر قراٰن سے کچھ پڑھ کر دَم کیا اور وہ زندہ ہوگیا تو مجھے تب بھی اس پر تعجب نہ ہوتا۔[13] حقیقت بھی یہ ہے کہ اللہ پاک نے قراٰنِ کریم میں بہت تاثیر رکھی ہے۔ بزرگانِ دین کے بیان کردہ چند قراٰنی علاج ملاحظہ کیجئے :

(1)سورةُ النِّسآء کی برکتیں : گھر کو قبضے سے بچانے کے لیے سورۂ نِسآء لکھ کر لٹکا دیجئے۔ بارش یا آبِ زم زم پر یہ سورت دَم کرکے خوف زدہ کو پلا دیجئے ، خوف دور ہوجائے گا۔ سوتے وقت اس سورت کی تلاوت احوال کی درستی ، امیدیں پوری ہونے ، قبولیتِ دعا اور رزق و برکت کا سبب ہے۔  [14]

(2)سورةُ المَآئدة کی برکتیں : جہاں یہ سورت لکھ  کرلگادی جائے وہ گھرچوری سے محفوظ رہے گا۔ اس سورت کو پانی پر دم کرکے پی لینے سے پیاس سے حفاظت رہتی ہے۔ سوتے وقت اس سورت کو پڑھنے والے کی دعا قبول ہوتی اور اُسے برکت ملتی ہے۔[15]

(3)سورةُ الاَنْعام کی برکتیں : اس سورت کی پہلی آیت سات مرتبہ پڑھ کردم کرنے سے جسمانی تکلیف دور ہوتی ہے۔ اس سورت کو زعفران یا زعفرانی رنگ سے لکھ کرچھ دن پینے سے تِلّی کی بیماری اور دیگر جسمانی تکلیفیں ختم ہوجاتی ہیں۔ دو رکعت نفل میں اس سورت کی تلاوت کرنے اور اس کے بعد عافیت مانگنے والا آفتوں سے محفوظ رہتا ہے۔ سوتے وقت سورۂ اَنْعام پڑھنے والے کے مویشی ، اونٹ وغیرہ میں برکت ہوتی ہے۔[16]

(4)سورةُ الاَعْراف کی برکتیں : زعفران سے اس سورت کو لکھ کر بطورِ تعویذ پہننے والا بدنظری ، دانت اور دل کی تکلیف اور بچھو و سانپ کے ڈسنے سے محفوظ رہے گا۔[17] سورۂ اَعْراف کی آیت201 کو بکری کی کلیجی پر دَم کرکے کھانے سے نظر کی کمزوری دور ہوتی ہے۔  [18]

(5)آیاتِ شفا کی برکتیں : رسولِ اکرم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے امام قشیری کے خواب میں تشریف لاکر فرمایا : کیوں غم زدہ ہو؟ عرض کی : میرا بیٹا بیمار ہے ، اُس کی حالت نازک ہے۔ ارشاد فرمایا : آیاتِ شفا[19] سے تمہارا دھیان کہاں ہے؟ چنانچہ (بیدار ہوکر) آپ نے آیاتِ شفا تین مرتبہ پڑھ کر اپنے بچے پر دَم کیا جس کی برکت سے اُسے شفا مل گئی۔  [20]

(6)حضرت عبد الرّحمٰن بن عوف  رضی اللہُ عنہ  سامان کی حفاظت کے لئے سورۂ حِجْر کی آیت9 لکھا کرتے۔  [21]

(7)امام شافعی  رحمۃُ اللہِ علیہ  سے ایک شخص نے اپنی آنکھ کی بیماری کی شکایت کی تو آپ نے اُسے بِسمِ اللہ کے ساتھ “ سورۂ قٓ کی آیت22 اور حٰمٓ اَلسَّجْدَۃ کی آیت 44 “ لکھ کر عطا فرمائی جس کی برکت سے اُس کی یہ بیماری دور ہوگئی۔  [22]

(8)اللہ پاک کے ایک نیک بندے کو پیشاب میں تکلیف شروع ہوئی لہٰذا اس نے سورۂ واقعہ کی دو آیات : 5 اور 6 ، سورۂ حَاقَّہ کی آیت14 ، سورۂ فجر کی آیت21 ایک پرچے پر لکھی اور اُسے پانی میں ڈال کرپی لیا جس کی برکت سے اس کو شفا ملی۔  [23]

(9)سورۂ رَحمٰن لکھ کر پینا تلی کے مرض میں مفید ہے۔[24]

(10)مریض کے پاس سورۂ مُجادَلہ پڑھنے سے درد سے آرام ملے گا۔  [25]

(11)سورۂ لَیْل پڑھ کر مرگی کے مریض کے کان میں دَم کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔[26]

قراٰن سے علاج کی چند شرائط : اَوراد و وظائف پڑھنے کی شرائط میں سے سات شرطیں نہایت ہی اہم اور ضروری ہیں ، ان کے بغیر قراٰنی اعمال سے فوائد حاصل ہونےمیں کمی آسکتی ہے۔ وہ شرائط یہ ہیں :

(1)حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا

(2)سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا

(3)نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ کریم ہی کے لیے کرنا

(4)شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا

(5)اللہ کریم کےدِین کےسُتونوں مثلاً قرآن ، کعبہ ، نبی ، نماز وغیرہ کی تعظیم اور بزرگانِ دِین کا ہمیشہ ادب و احترام کرنا

(6)جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری(یعنی مکمل توجہ) کے ساتھ پڑھنا

(7)جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا یقین اور پختہ عقیدہ رکھنا۔ اگر شک و شبہ ہوا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔[27]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ ، ذمہ دا ر شعبہ فیضان حدیث ، المدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر) کراچی



[1] ابن ماجہ ، 4 / 116 ، حدیث : 3501

[2] پ15 ، بنی اسرائیل : 82

[3] فیض القدیر ، 3 / 628

[4] شرح سنن ابن ماجہ للسیوطی ، ص250

[5] سنن الدارمی ، 2 / 538 ، حدیث : 3370

[6] تفسیر صاوی ، 1 / 13

[7] بخاری ، 4 / 30 ، حدیث : 5736 ملخصاً

[8] شعب الایمان ، 2 / 519 ، حدیث : 2580

[9] مستدرک ، 2 / 183 ، 184 ، حدیث : 1907 ، 1908

[10] فضائل دعا ، ص143

[11] الدعاللطبرانی ، ص331 ، حدیث : 1081

[12] بخاری ، 4 / 34 ، حدیث : 5751

[13] حلیۃ الاولیاء ، 6 / 182 ، رقم : 8221

[14] نعت البدایات ، ص250 ، 249

[15] نعت البدایات ، ص250

[16] نعت البدایات ، ص250 ، 251

[17] نعت البدایات ، ص252

[18] نعت البدایات ، ص252

[19] توبہ : 14 ، یونس : 57 ، نحل : 69 ، بنی اسراءیل : 82 ، شعراء : 80 ، حٰم السجدۃ : 44

[20] البرھان للزرکشی ، 1 / 517

[21] البرھان للزرکشی ، 1 / 515

[22] البرھان للزرکشی ، 1 / 516

[23] البرھان للزرکشی ، 1 / 516

[24] الدرالنظیم ، ص102

[25] الدرالنظیم ، ص102

[26] الدرالنظیم ، ص106

[27] جنتی زیور ، ص574


Share

Articles

Comments


Security Code