غیر مسلم کی دکان سے گوشت خریدنا کیسا؟

سرمایہ برابر ہو تو کیا نفع برابر ہونا ضروری ہے؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو افراد نے مل کر یوں پارٹنر شپ کی ہے کہ دونوں نے برابر برابر(Equal) انویسٹمنٹ کی ہے۔ ان میں سے ایک فریق کام کرتا ہے وہ پچھترفیصد(75%) نفع(Profit) لیتا ہے اور جو کام نہیں کرتا وہ پچیس فیصد(25%)نفع لے رہاہے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں باہمی رضامندی (Mutual Understanding) سے کام کرنے والے کے لئے نفع کا ریشو زیادہ رکھ سکتے ہیں۔اس میں کوئی حرج نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”اگر دونوں نے اس طرح شرکت کی کہ مال دونوں کا ہوگا مگر کام فقط ایک ہی کرے گا اور نفع دونوں لیں گے اور نفع کی تقسیم مال کے حساب سے ہوگی یا برابر لیں گے یا کام کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو جائزہے اور اگر کام نہ کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو شرکت ناجائز۔“(بہارِ شریعت،ج 2،ص499)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

غیر مسلم کی دکان سے مچھلی خریدنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا غیر مسلم مچھلی فروش سے مچھلی خرید سکتے ہیں؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:جی ہاں!غیر مسلم سے مچھلی خرید کر کھا سکتے ہیں کیونکہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں نہ ہی مسلمان سے خریدنا ضروری ہے۔

چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: احلّت لنا میتتان ودمان، المیتتان الحوت والجراد، والدمان الکبد والطحال ترجمہ:ہمارے لئے دو مرے ہوئے جانور اوردو خون حلال ہیں:دو مُردےمچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔(مشکاۃ المصابیح،ج2،ص84، حدیث:4132)

اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن سے سوال ہوا:”جس شخص کے ہاتھ کا ذبح ناجائز ہے جیسے کہ ہنود،اس کے ہاتھ کی پکڑی مچھلی کھانا کیسا ہے؟“آپ علیہ الرَّحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا:”جائز ہے،اگرچہ اس کے ہاتھ میں مرگئی یا اس نے مار ڈالی ہو کہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں جس میں مسلمان یا کتابی ہونا ضرور ہو۔“(فتاویٰ رضویہ،ج 20،ص323)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

غیر مسلم کی دکان سے گوشت خریدنا کیسا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا کسی غیر مسلم کی دکان سے گوشت خرید سکتے ہیں؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:جب مالک غیر مسلم ہے تواس کی دکان سے مسلمان گوشت نہیں خریدسکتا۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت رحمۃ اللہ علیہ سے فتاویٰ رضویہ میں سوال ہوا کہ جو شخص مسلمان باوجود سمجھانے کے مسلمان قصائی کو چھوڑ کرپُرانی رَوِش پر ضداً ہندو کھٹکوں (ایک ذات کا نام )کے یہاں پر گوشت لینے پر آمادہ ہو، اس پر کیا حکم ہے ؟آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا :”ایسا   شخص حرام خوار،حرام کار،مستحقِ عذابِ پر وردگار، سزاوارِ عذابِ نار  ہے۔“(فتاویٰ رضویہ ،ج20،ص282)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کرایہ دار کا دکان میں مزید افراد کو بٹھا کر ان سے کرایہ لینا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص دکان کرائے پر لے کر اپنے نام سے ایگریمنٹ بنوالے، پھر اس ایک دکان میں کیبن وغیرہ رکھ کر مزید تین چار افراد کو اپنےساتھ اسی دکان میں کرائے پر دے دے تو ایسا کرنا جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: فقہائے کرام نےکرائے پر لی ہوئی چیز، زیادہ رقم کے بدلے آگے دینے کی کچھ شرائط مقرر کی ہیں۔ سوال میں بیان کی گئی صورت میں وہ شرائط پائی جارہی ہیں لہٰذا پوچھی گئی صورت میں دکان کرائے پر لے کر کیبن وغیرہ رکھ کر آگے کرائے پر دینا جائز ہے۔

بہارِ شریعت میں ہے:”مستاجر نے مکان یا دکان کو کرایہ پر دے دیا، اگر اتنے ہی کرایہ پر دیا ہے جتنے میں خود لیا تھا یا کم پر جب تو خیر اور زائد پر دیا ہے تو جو کچھ زیادہ ہے اسے صدقہ کردے ہاں اگر مکان میں اصلاح کی ہو اسے ٹھیک ٹھاک کیا ہو تو زائد کا صدقہ کرنا ضرور نہیں یا کرایہ کی جنس بدل گئی مثلاً لیا تھا روپے پر دیا ہو اشرفی پر، اب بھی زیادتی جائز ہے۔ جھاڑو دے کر مکان کو صاف کرلینا یہ اصلاح نہیں ہے کہ زیادہ والی رقم جائز ہوجائے، اصلاح سے مراد یہ ہے کہ کوئی ایسا کام کرے جو عمارت کے ساتھ قائم ہو مثلاً پلاستر کرایا یا مونڈیر بنوائی۔“(بہارِ شریعت،ج 3،ص124)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ملازم کا خریداری میں زیادہ ریٹ بتاکر زائد رقم خود رکھ لینا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں کنسٹرکشن کے شعبے سے وابستہ ہوں، میرے ٹھیکیدار بعض اوقات مجھے طے شدہ کام سے ہٹ کر ریت یا بجری وغیرہ لینے بھیج دیتے ہیں جس میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس کا عوض بھی کچھ نہیں ملتا ۔ کیا مجھے یہ اجازت ملے گی کہ میں 3000میں      ملنے والی چیز کا ریٹ 3500 بتا کر 500 روپے خود رکھ لیا کروں؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب:جی نہیں! پوچھی گئی صورت میں آپ کے لئے 500 روپے کی اضافی رقم لینا جائز نہیں کیونکہ یہ رقم آپ دھوکے سے حاصل کر رہے ہیں اور کسی کو دھوکہ دینا، ناجائز و گناہ ہے۔ شرعاً آپ پر لازم ہے کہ جتنی رقم خریداری میں خرچ ہوئی ، ٹھیکیدار کو اتنی ہی رقم بتائیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

_______________________

٭…مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی 

٭…دارالافتاء اہل سنت نور العرفان کھارادر،کراچی

Share

Articles

Comments


Security Code