پیشوں کے اعتبارسے نسبتیں (چوتھی اور آخری قسط)

اَلْقَطَّان: یہ اَلْقُطْن (یعنی رُوئی Cotton) بیچنے کی طرف نسبت ہے۔ اس نسبت سے منسوب شخصیت جلیلُ القدر امام، اَمیرُ المُؤمنین   فِی الْحَدِیث حضرت یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ کی ولادت 120ھ کی ابتدا میں ہوئی اور وصال 198ھ صفر کے مہینے میں ہوا۔ حافظُ الحدیث ابنِ عمّار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب تم حضرت یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ کی طرف دیکھو گے تو آپ کی تاجروں والی ہیئت کے سبب یہ گمان کرو گےکہ آپ کے اندر کوئی قابلِ قدر عِلمی صلاحیت نہیں ہوگی لیکن جب آپ کلام فرماتے تو فُقَہا آپ کی بات سننے کے لئے خاموش ہوجاتے۔ سَیِّدُالْحُفَّاظ عبدالرّحمٰن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں: حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ جب بصرہ تشریف لائے تو مجھ سے کہا: میرے پاس کسی انسان کو لاؤ تاکہ میں اس سے عِلمی مُذاکرہ کروں، چنانچہ میں حضرت یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ کو لے آیا اور دونوں نے عِلمی  مُباحَثہ کیا، جب حضرت یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ  چلے گئے تو حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے کہا:میں نے تم کو انسان لانے کیلئے کہا تھا تم تو میرے پاس جنّ کو لے آئے (یعنی حضرت یحییٰ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ کے حافظے نے آپ کو حیرت میں ڈال دیا تھا)۔ (سیر اعلام النبلاء،ج8،ص110 تا 117)

اَلْآجُرِّی:یہ آجُرّ یعنی اینٹ (Brick) کے کام اور اس کے بیچنے کی طرف نسبت ہے نیز دَرْبُ الْآجُرّ (بغداد کے ایک مَحلّے) کی طرف بھی نسبت ہے۔ بعض بُزُرگوں کے ساتھ یہ نسبت اینٹوں کے کام کی وجہ سے اور بعض کی مذکورہ مَحلّے میں قیام کے اعتبار سےآتی ہے۔ آجرّی کی نسبت سے منسوب شخصیات میں سے صُوفی بُزرگ حضرت محمد بن خالد آجُرّی رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں، آپ کا وصال 303ھ میں ہوا۔ اینٹوں کی گفتگو: آپ فرماتے ہیں: میں اینٹوں کا کام کرتا تھا، ایک مرتبہ میں اینٹوں کی تہوں (یعنی اوپر نیچے رکھی ہوئی اینٹوں کی لائن) کے درمیان سے گزررہا تھا کہ میں نے سنا:ایک تہہ نے دوسری کو سلام کیا اور کہا: آج رات مجھے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتے ہیں: میں نے مزدوروں کو اس تَہہ کو آگ میں ڈالنے سے منع کردیا اور اینٹیں اسی طرح اپنی جگہ باقی رہیں۔ اس کے بعد میں نے کبھی اینٹوں کو آگ میں پکانے کا کام نہیں کیا۔(الانساب للسمعانی،ج1،ص94، 95، المنتظم لابن الجوزی،ج13،ص164)

غربت اور تنگ دَستی کا علاج

حضرت سیّدُنا سَہَلْ بن سَعدساعِدیرضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ ایک شخص نے حضورِ اَقدس، شفیعِ روز ِمَحشَر صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابَرکت میں  حاضر ہوکر اپنی غربت اور تنگ دَستی کی شکایت کی۔ نبیِّ کریمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے گھر میں  داخل ہوتو سلام کرو اگرچہ کوئی بھی نہ ہو، پھر مجھ پر سلام  بھیجو اور ایک بار قُلْ ھُوَاﷲ شریف پڑھو۔ اس شخص نے ایسا ہی کیا تواللہ پاک نے اسے  اتنا مالدار کردیا کہ اس نے اپنے ہمسایوں  اور رشتے داروں  میں  بھی تقسیم کرنا شروع کر دیا۔( تفسیر قرطبی،ج10،ص183)

_______________________

٭…عبد الرحمٰن عطاری مدنی   

٭…ماہنا مہ فیضان مدینہ کراچی  

Share

Articles

Comments


Security Code