جمادی الاولیٰ اسلامی سال کا پانچواں مہینا ہے

جُمادَی الاُولٰی اسلامی سال کا پانچواں مہینا ہے۔اس میں جن صحابۂ کرام، علمائے اسلام اور اَولیائے عُظّام کا وصال ہوا، ان میں سے 48کامختصر ذکر ماہنامہ فیضانِ مدینہ  جُمادَی الاُولٰی 1438ھ تا 1440ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا مزید 12 کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ  کرام علیہمُ الرِّضوان:(1)حضرت ابو مُطِیع ہِشام بن عاص سَہْمی قرشی رضی اللہ عنہ مکّۂ مُکرّمہ کےمالدارگھرانے میں پیدا ہوئے، ابتدائے اسلام میں مسلمان ہوئے، حَبَشہ اور مدینۂ مُنوّرہ ہجرت کی، غزوۂ خندق کے بعد تمام غزوات میں حصّہ لیا، بہت نیک اور بہادر تھے جُمادَی الاُوْلیٰ13ھ کو معرکۂ اَجْنادَیْن (موجودہ صوبہ الخلیل، فلسطین) میں دادِشجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے۔([1]) (2)حضرت سعید بن عامر جُمَحی قرشی رضی اللہ عنہ   اکابر صحابہ میں سے ہیں، زہد و تقویٰ میں مشہور تھے، آپ نے حضرت خُبَیْب بن عَدِی  رضی اللہ عنہ  کی استقامت و شہادت سے متأثر ہو کر غزوۂ خیبر سے پہلے اسلام قبول کیا اور مدینۂ منوّرہ ہجرت فرمائی۔ غزوۂ خیبر اور اس کے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں حِمْص کا گورنر بنایا، اسی عہدے پر فائز رہتے ہوئے جُمادَی الاُوْلیٰ 20ھ کو حِمْص یا قَيْساریہ یا رَقّہ (شام) میں وفات پائی۔([2]) اولیائے کرام رحمہمُ اللہُ السّلَام: (3)شیخُ المشائخ حضرت نجمُ الدّین کبریٰ احمد بن عمر محدّث خُوارِزْمی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 540 ھ میں خِیْوہ (صوبۂ خوارزم) اُزبِکستان میں ہوئی اور جُمادَی الاُولیٰ 618ھ میں شہید ہوئے۔  آپ کا مزار اَوْرگنج (صوبہ داش اغوز) شمالی اُزبِکستان میں ہے۔ آپ شریعت و طریقت کے جامع، علّامۂ دہر، ولیِّ کبیر، سلسلۂ کبرویہ کے بانی اور کئی کُتُب کے مُصنّف ہیں۔ تفسیر ِقرآن التاویلات النجمیہ، سکناتُ الصّالحین، فَوَائِح الجمال و فَوَاتِح الجلال اور طَوَالعَ التنویر آپ کی یادگارکتابیں ہیں۔([3]) (4)محتسبِ اُمت، حضرت خواجہ سیفُ الدّین سرہندی مجدّدی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت سرہند (ضلع ہریانہ) ہند میں 1049 ھ کوہوئی۔آپ حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ  کے پوتے، عُلومِ ظاہری و باطنی کے جامع، سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ کے شیخِ طریقت اور مُغلیہ بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے شہزادے محمداعظم کے مُرشد تھے۔ 19جُمادَی الاُولیٰ1095ھ کو وِصال فرمایا، مزار مبارک مقام پیدائش میں ہے۔([4]) (5)ہادیِ پاک، حضرت خواجہ محمد نامدارشاہ نتھیالوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تیرہویں صدی کی ابتدا میں کرنین تال (علاقہ گھپی پشاور) میں ہوئی اوروِصال 7جُمادَی الاُولیٰ 1259ھ کو  نتھیال (تحصیل فتح جنگ ضلع اٹک) میں فرمایا۔آپ نے بانیِ خانقاہِ نقشبندیہ چورا شریف حضرت باواجی خواجہ نور محمد چوراہی رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت وخلافت کا شرف حاصل کیا، آپ عالِمِ باعمل، مُرشدِ برحق اور مَرجَعِ اولیا تھے، آپ کے فیضان سے کئی خانقاہیں مثلاً خانقاہ روپڑ شریف، باؤلی شریف اور آلو مہار شریف وغیرہ قائم ہوئیں۔([5]) (6)شیخِ طریقت مولانا سیّد طاہر اشرف دہلوی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1307ھ کو دہلی میں ہوئی اور 17 جُمادَی الاُوْلیٰ   1381ھ کو کراچی میں انتقال ہوا، آپ خانوادۂ  غوثیہ اشرفیہ کے چشم و چراغ، عالمِ دین، شیخِ طریقت اور بانیِ خانقاہِ اشرفیہ فردوس کالونی کراچی ہیں۔آپ شبیہِ غوثِ اعظم حضرت شاہ سیّد علی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے۔([6]) (7)سلطانُ الْاَوْلیاء حضرت خواجہ صُوفی محمدحسن شاہ جہانگیری ابوالعلائی رحمۃ اللہ علیہ  کی ولادت 1298ھ کو بھینسوڑی (تحصیل ملک ضلع رامپور، یوپی،ہند) میں ہوئی اوریہیں6جمادی الاولیٰ 1379ھ کووِصال فرمایا، مزارمَرجَعِ عوام ہے،آپ مشہور ولیِ کامل،علماوصُوفیا کی صحبت سے مستفیض اور دیدارِ اعلیٰ حضرت امام احمدرضا (رحمۃ اللہ علیہ)سےبھی مُشرَّف تھے۔([7]) عُلَمائے اسلام رحمہمُ اللہُ  السّلَام : (8)امامِ شہیر حضرت امام ابراہیم بن یوسف بَلْخی حنفی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق بلخ (خُراسان) سے ہے، آپ نے امام ابویوسف  رحمۃ اللہ علیہ سے طویل عرصہ علم حاصل کیا حتّٰی کہ آپ مفتیِ اسلام بن گئے اس کے بعدعلمِ حدیث کی جانب متوجہ ہوئے اور عظیم مُحدّث امام سُفیان بن عُیَیْنہ رحمۃ اللہ علیہ سے احادیث سماعت کیں، آپ کا شمارثِقہ راویوں میں ہوتاہے، آپ نے جُمادَی الْاُولیٰ 239ھ کو بغداد میں وِصال فرمایا۔([8]) (9)امامِ وقت حضرت امام ابوالعباس جعفر بن محمد مستغفری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 350ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور29 یا 30جُمادَی الاُوْلی 432ھ کونَسَف میں وفات پائی، آپ عظیم فقیہ، فاضلِ زمانہ، ثِقہ محدث، استاذُالعُلَماء، خطیبِ نَسَف اور صاحبِ تصانیف ہیں۔ آپ کافی عرصہ خُراسان کے شہروں مرو اور سَرْخَس میں ترویجِ عُلومِ دینیہ میں مصروف رہے اور کثیر عُلَما نے آپ سے استفادہ کیا۔([9]) (10)بدرُالملّت وَالدِّین حضرت شیخ  ابوعبداللہ  محمدبن ابراہیم بن  سعداللہ بن جماعت کنانی حَمَوی  رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 639ھ میں حَماۃ ( شام) کے علمی گھرانے میں ہوئی اور 20 جُمادَی الاُوْلیٰ 733ھ مصرمیں وفات پائی، امام شافعی کے پاس دفن ہوئے، آپ مشہور و مؤثر عالمِ دین، شیخُ الاِسلام،  قاضیُ الْقُضاۃ، خطیب جامع مسجد اُمَوِی، جامع مسجد اقصیٰ اور جامع مسجد اَزْہر، صُوفی باصفا، استاذُ العلماء و المحدثین، مُصنّفِ کُتُب تھے۔ 35سے زائد کتب میں  اَلْمَنْہُلُ الرَّوِی اور تَدْبِیْرُ الْاَحْکَام بھی ہیں۔([10]) (11)مناظرِ اسلام حضرت مولانا حافظ ولىُ اللہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1250ھ کو وادیِ کشمیر میں ہوئی، چھوٹی عمر میں ہی لاہور آگئے، چیچک کی وجہ سے آنکھوں کی بینائی جاتی رہی، نابینا ہونے کے باوجودحفظِ قراٰن اور مُرَوَّجہ عُلومِ اسلامیہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، آپ پہلے بادشاہی مسجد کے نائب خطیب اورپھر وزیرخان مسجد کے خطیب مقرر ہوئے، آپ کا بیان پُردلیل اوربا اَثر ہوتا تھا۔ آپ  کو حقانیتِ اسلام کے دلائل پر عُبُور حاصل تھا غیر مسلموں سے کئی مُناظرےکئے اورکامیاب رہے، آپ کی تالیف کردہ کئی کُتُب مثلاً مُباحثۂ دِینی، تصدیقُ المسیح یادگارہیں۔آپ کا وِصال 24جُمادَى الاُوْلىٰ 1296ھ کو لاہور میں ہوا، مزار احاطۂ شاہ ابوالمعالی (نزدلاہورریلوے اسٹیشن)میں ہے۔([11]) (12)عاشقِ مدینہ حضرت مولانا علی حسین مہاجرمدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بھوپال میں 1312ھ کو ہوئی اور 12جُمادَی الاُوْلیٰ 1374ھ کو مدینۂ منورہ میں وِصال فرمایا، آپ کو جنّتُ البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نےامام بدرُالدّین حَسَنی دِمَشْقی رحمۃ اللہ علیہ سمیت  عرب وعجم کے عُلَماومشائخ سے ظاہری وباطنی علوم حاصل کئے۔ آپ عربی، اردو اور فارسی میں فصیح و بلیغ تحریر و تقریر پر قادر تھے، کئی کتابیں لکھیں، نعتیہ شعر بھی کہتے تھے، میلاد شریف، گیارہویں شریف اور دیگر بُزُرگانِ دین کے اَعْراس پر پابندی سے محافل منعقد کرتے تھے۔([12])

_______________________

٭…ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی   

٭…رکنِ شوریٰ ونگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،کراچی  



([1])المنتظم،ج4،ص158

([2]) الاصابہ فی تمییز الصحابہ،ج 3،ص92تا 94، اسد الغابہ،ج 2،ص462، 463

([3]) التاویلات النجمیہ،ج1،ص43، 52، مرآۃ الاسرار، ص613،620،اردو دائرہ معارف اسلامیہ،ج 22،ص148تا150

([4]) تاریخ مشائخ نقشبندیہ، ص611تا627

([5]) تذکرہ مشائخ آلومہارشریف، ص334 تا 360

([6]) حیات مخدوم الاولیاء، ص333

([7]) معارف رضا سالنامہ 2006، ص217، 218

([8]) الجواہر المضیہ،ج1،ص51، 52، رقم: 61

([9]) الفوائدالبھیہ،74، رقم:104

([10])شذرات الذھب،ج 6،ص2 73،  274،معجم المؤلفین،ج 3،ص30

([11])تذکرہ اکابراہل سنت، ص567، تذکرہ علمائے اہل سنت وجماعت لاہور، ص160

([12])شعرائے حجاز، 333تا338

Share

Articles