نُور کا سایہ نہیں ہوتا

تُو ہے سایہ نور کا   ہر عُضْو ٹکڑا نور کا

سایہ کا سایہ نہ ہوتاہےنہ سایہ نور کا([1])

الفاظ و معانی: سایہ: عکس، روشنی کے سامنے کسی شے کے حائل ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تاریکی۔ عُضْو : بدن کا کوئی حصّہ یا جُز ۔ٹکڑا:حصّہ۔

شرح: شعر کے پہلےمِصرعے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ  نے اللہ  کے پیارے رسول  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کی ذاتِ اَقدس کی دوجہتوں (Dimensions)  کا ذکر فرمایا ہے کہ یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !ایک جانب تو آپ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ساری مخلوق پر نورِالٰہی و رحمتِ خُداوندی کا سایہ ہیں اور دوسری طرف آپ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کےجسمِ اَقدس کا ہر ہر عُضْو نورکاٹکڑا ہے۔پھر دوسرے مِصرعے میں آپ  رحمۃ اللہ علیہ نے انتہائی شاندار منطقی (Logical) انداز میں دوعقلی دلیلوں کے ذریعےاس بات کو ثابت فرمایا ہے کہ حضورپُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کےجسمِ منوَّر کا سایہ نہ تھا۔ چنانچہ اُن دو

دَلائل کی  تفصیل کچھ یوں ہے:

(1)جب کوئی مجسَّم (Solid) شے روشنی کے سامنے آتی ہے تو روشنی کے مقابِل اُس شے کا سایہ و عکس بنتا ہے لیکن اُس سائے کا مزید آگے سایہ نہیں بنتا۔بِلاتشبیہ جب نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اللہ پاک کے نُور  کا سایہ ہیں تو پھر اِس  سایۂ نورِ خُدا (یعنی بدنِ مصطفےٰ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کا سایہ کیسے بن سکتا ہے!

(2)نور (Light) کی وجہ سے اِس کے سامنے آنے والی مُجسَّم (Solid) شے کا سایہ تو بنتا ہے مگر نُور اور روشنی کی اپنی ذات کا سایہ نہیں ہوتا کیونکہ روشنی اور سایہ(تاریکی) ایک دوسرے کی ضد (یعنی اُلٹ) ہونے کی وجہ سے باہم جمع نہیں ہوسکتے۔ بِلاتمثیل حضور پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نورِ الٰہی کا ایسا چمکتا دَمکتا سورج ہیں کہ جس کی روشنی سے تمام جہاں ہے لیکن اس نورِ الٰہی کے سورج کا اپنا سایہ نہیں ہے۔

چنانچہ امام جلالُ الدّین سُیوطی رحمۃ اللہ علیہ حضرت سیِّدُنا ذَکْوان رضی اللہ عنہ کی روایت نَقْل فرماتے ہیں کہ  اَنَّ رَسُوْلَ اللہ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم لَمْ یَکُنْ یُریٰ لَہٗ ظِلٌّ فِیْ شَمْسٍ وَ لَا قَمَرٍ یعنی سُورج اور چاند کی روشنی میں سرکارِمدینہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سایہ نظر نہیں آتا تھا۔ (الخصائص الکبریٰ،ج1،ص116) نیز سایہ نہ ہونے کے متعلّق نقل فرماتے ہیں کہ قَالَ ابنُ سبع: مِنْ خَصَائِصِہٖ اَنَّ ظِلَّہُ کَانَ لَا یَقَعُ عَلَی الْاَرْضِ وَاَنَّہُ کَانَ نُوْراً  فَکَانَ اِذَا مَشیٰ فِی الشَمْسِ اَوِ الْقَمَرِ لَا یُنْظَرُ لَہُ ظِلٌّ یعنی  ابنِ سبع  رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا: رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ آپ   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا کیونکہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نُور ہیں، آپ  علیہ السَّلام  جب سورج یا چاند کی روشنی میں چلتے تو سایہ دِکھائی نہ دیتا  تھا۔(الخصائص الکبری،ج1،ص116)

اسی طرح   امام قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ  مِنْ اَنَّہُ کَانَ لَاظِلَّ لِشَخْصِہٖ فِیْ شَمْسٍ وَلَا قَمَرٍ لِاَنَّہُ کَانَ نُوْراً یعنی حضورپُرنُور  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ اقدس  کا سایہ نہ دُھوپ میں ہوتا اور نہ چاندنی میں،اس لئے کہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نُور ہیں۔(الشفاء،ج1،ص368)

وہی نورِحق وہی ظِلِّ ربّ،  ہے انہیں سے سب ہے انہیں کا سب

نہیں ان کی مِلک میں آسماں، کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں

_______________________

٭…راشد علی عطاری مدنی   

٭…مدرس  جامعۃ المدینہ ،فیضان اولیا،کراچی  



([1])  یہ شعر سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے نعتیہ دیوان ”حدائق بخشش“ سے لیا گیا ہے۔

Share

Articles

Comments


Security Code