ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا مہینا ہے

ربیعُ الاوَّل اسلامی سال کا تیسرا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابَۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عُرس ہے، ان میں سے31کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ ربیعُ الاوّل 1439ھ اور 1440ھ کے شماروں میں کیا گیا تھا۔ مزید 13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابَۂ کرام علیہمُ الرِّضوان (1)حضرت عُمْرہ رابعہ بنتِ مسعود رضی اللہ عنہا سیّدُالخَزْرَج حضرت سعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ کی والدۂ محترمہ ہیں انہوں نے اسلام قبول کیا اور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بیعت کرنے کا شرف پایا، ربیعُ الاوّل 5ھ میں وصال فرمایا،اس وقت نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غزوۂ دَوْمَۃُ الْجَندَل میں مصروف تھے، واپسی پر ان کی قبر پر تشریف لاکر نمازِ جنازہ ادا کی۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کُھدوا کر وقف کردیا اور فرمایا:ھٰذِہ لِاُمِّ سَعْدٍ یعنی یہ سعد کی ماں (کے ایصالِ ثواب)کیلئے ہے۔(ابو داوٴد،ج 2،ص180، حدیث: 1681،طبقات ابن سعد،ج 8،ص331) (2)حضرت زید بن خطاب قُرَشی عَدَوِی رضی اللہ عنہ جلیلُ القدر صحابی ہیں، بعدِ ہجرت حضرت مَعْن بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ سے مواخات ہوئی، غزوۂ بدر سمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے، دراز قد اور نڈر تھے، آپ ربیعُ الاول 12ھ جنگِ یمامہ میں درجۂ شہادت پر فائز ہوئے، اس جنگ میں آپ لشکرِاسلام کے عَلَم بردار تھے۔ آپ امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:سَبَقَنِيْ اَخِیْ اِلَى الْحُسْنَيَيْنِ: اَسْلَمَ قَبْلِيْ، وَاُسْتُشْهِدَ قَبْلِي یعنی میرے بھائی زیدمجھ سے دو خوبیوں قبولِ اسلام اور شہادت میں سبقت لے گئے۔ (اسد الغابہ،ج2،ص341)

اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام (3)قُطبُ الاَقْطَاب حضرت خواجہ سیّد قُطبُ الدّین بَخْتِیار کَاکِی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 582ھ میں شہرِ اُوش (فرعانہ، کرغیزستان (Kyrgyzstan)) میں ہوئی اور14 ربیعُ الاول 633 ھ کودہلی میں وصال فرمایا، آپ کا مزار مہرولی پُرانی دہلی میں ہے۔ آپ مشہور ولی خواجہ غریب نواز کے خلیفہ اور بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے مرشِد ہیں۔(مرآۃ الاسرار، ص684، 694، شان اولیا، ص368، 373) (4)شیخُ الاسلام حضرت سیّد محمد بن سلیمان جَزُولِی شَاذِلی مَالِکِی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 807ھ میں سُوس اقصیٰ (مَرَّاکُش) میں ہوئی اور 16 ربیعُ الاول 870ھ کونمازفجرکے سجدے میں وصال فرمایا، آپ کا مزار مَرَّاکُش (المغرب)کے قدیم حصے میں ہے۔آپ عالمِ باعمل، صوفیِ باصفا اورکاتب تھے۔ آپ کی تصانیف میں دَلَائِلُ الْخَیْرَات کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ زَینُ الاَولیاء، ولیُّ الکبیر، قطبِ زمانہ آپ کے القابات ہیں۔ (مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مترجم، ص30، 32،زیارات مراکش،ص 16تا25،اردو دائرہ معارف اسلامیہ،ج 7،ص227) (5)مشہور ولی، بالا پیر حضرت میاں میر محمد فاروقی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 957ھ سیوستان (سیہون شریف، سندھ) پاکستان میں ہوئی۔17ربیع الاول 1045ھ کو لاہور میں وصال فرمایا، آپ کا مزار میاں میرکالونی لاہور کینٹ میں ہے۔ کئی مغل شہزادے آپ کے مرید تھے۔ (بزرگانِ لاہور، ص59، تذکرہ حضرت میاں میر، ص12، 16) (6)شیخُ الاَصفیاء حضرت شاہ کلیمُ اللہ شاہ جہاں آبادی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1060ھ کوشاہ جہاں آباد (دہلی) ہند میں ہوئی اوریہیں 24ربیعُ الاول 1142 ھ کو وصال فرمایا۔ مزار دہلی میں لال قلعہ اور جامع مسجد کے درمیان پریڈ گراؤنڈ میں ہے۔ آپ جیدعالمِ دین، ولیِ کامل، متحرک شیخِ طریقت، مجددِسلسلۂ چشتیہ نظامیہ اور صاحبِ تصانیف تھے۔ مکتوبات و تصانیف میں سے کشکول شریف، مکتوبِ کلیمی، الہاماتِ کلیمی، سَوَاءُ السَّبِیل اور قرآنُ القرآن بھی ہیں۔(حیاتِ کلیم،ص110،17وغیرہ)

علمائے اسلام رحمہمُ اللہ السَّلام (7)حافظُ الدّین حضرت علّامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمدنَسَفِی حَنَفِی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ساتویں ہجری میں اِیذَج (ایذہ، ضلع خوزستان) ایران میں ہوئی اور ربیعُ الاول710ھ کواپنی جائے پیدائش میں وصال فرمایا۔ آپ عرصۂ دراز تک نَسَف (نخشب/قرشی) ازبکستان میں رہے اس لئے ”نَسَفی“کہلائے۔آپ فقیہ و محدثِ احناف، مُفَسرِ قراٰن، عالمِ باعمل اور صاحبِ تصنیف تھے۔ آپ کی کتب تفسیرِ نسفی (مدارک التنزیل و حقائق التاویل) كَنْزُ الدَّقَائِق اور عُمْدَةُ الْعَقَائِد عُلَما میں معروف ہے۔(حدائق الحنفیہ، ص300، کنزالدقائق، ص3) (8)رَئِیسُ الْعُلَماء حضرت قاضی بہاؤالدین عبد اللہ بن عبدالرحمٰن بن عقیل ہاشمی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 694ھ قاہرہ مصرمیں ہوئی اوریہیں 23ربیع ُالاول769ھ کووصال فرمایا ۔ آپ نحو، فقہ، تفسیر اورادب کے علوم میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے، کتابوں میں شَرْحُ ابْنِ عَقِیل عَلٰی اَلْفِیَۃِ ابْنِ مَالِک عُلَما میں معروف ہے۔(شذرات الذھب،ج 6،ص412، شرح ابن عقیل، ص3) (9)عاشقِ الٰہی حضرت شیخ رِزْقُ اللہ چشتی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 897ھ کودہلی میں ہوئی اوریہیں 20ربیعُ الاول 989ھ کو وصال فرمایا، آپ نیک متقی، مجازِ طریقت، ہندی اور فارسی زبان کے شاعر، طویل سفر اور کثیر اولیائے کرام سے اِستِفادَہ کرنے والے تھے۔(اخبار الاخیار فارسی،174) (10)تلمیذ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا عبدالقادر شرف مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1301ھ کو مصطفیٰ آباد رامپور (یوپی ہند) میں ہوئی اور وصال ربیعُ الاول 1363 ھ کو مکۂ مکرمہ میں فرمایا، آپ خاندانِ مُجَدِّدِاَلفِ ثانی کے چشم و چراغ، حافظِ قراٰن، عالمِ دین، تین زبانوں (اردو، فارسی اور عربی) میں دسترس رکھنے والے اور اچھے اسلامی شاعرتھے، آپ کے شعری مجموعے ”انتخاب دیوان شرف مجددی“ اور”پنجۂ سخن“ہیں۔(تذکرہ شعرائے حجاز، ص263) (11)زینت خاندانِ اشرفیہ، شیخِ طریقت حضرت مولانا سید مصطفیٰ اشرف اشرفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1311ھ میں کچھوچھہ شریف ( یوپی ہند) میں ہوئی اور یہیں 17 ربیعُ الاول 1376ھ کو وصال ہوا۔ آپ شبیہِ غوثُ الاعظم حضرت شاہ سیدعلی حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی کے چھوٹے صاحبزادے وخلیفہ، دارُالعلوم فرنگی محل سے فارغُ التحصیل تھے۔(حیاتِ مخدوم الاولیاء، ص392) (12)مُسْتَفْتِیِ اعلیٰ حضرت مولانا قاضی تاج الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت موضع پادشاہان (ضلع چکوال)میں ہوئی اور وصال 15ربیعُ الاول 1345ھ کو موضع راماں (تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی) میں ہوا، تدفین جائے پیدائش میں کی گئی، آپ معروف عالمِ دین، درسِ نظامی کے مُدَرِّس،مفتیِ علاقہ اور فعّال شخصیت کے مالک تھے، آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے بذریعہ ڈاک سوالات کرکے استفادہ کیا۔(جہان امام احمد رضا،ج 5،ص28، 33) (13)مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد وقار ُالدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1333ھ کو پیلی بھیت (ہند) میں ہوئی اورکراچی میں 20ربیعُ الاول1413 ھ کو وِصال فرمایا، آپ کا مزار دارالعلو م امجدیہ عالمگیرروڈکراچی میں ہے۔آپ فاضلِ دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف، مریدِ حجۃُ الاسلام، خلیفۂ مفتیِ اعظم ہند، جید عالِم و مُدَرِّس، مفتیِ اسلام اور شیخُ الحدیث ہیں۔ وقارُالفتاویٰ (3 جلدیں) آپ کے فتاویٰ کا مجموعہ ہے۔ امیرِ اہلِ سنّت علّامہ محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ 22سال تک آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے حتی کہ مفتی صاحب نے امیرِ اہلِ سنّت کو خلافت سے بھی نوازا۔(وقار الفتاویٰ،ج1،ص1، 38، شوق علم دین، ص25)

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…ابو ماجد محمد شاہد عطاری مدنی

٭…رکن شوریٰ ونگران مجلس المدینۃ العلمیہ ،کراچی

Share

Articles