جشنِ ولادت اور بزرگانِ دین

صَدیوں پہلے کائنات میں ایک ایسا بے مِثال پھول کِھلا کہ جس کی پاکیزہ خُوشبو نے  زمانے میں پھیلی کُفر و شِرک اور ظُلم و زیادتی کی بَدبُو کو ایمان و اسلام اور اَمْن و سلامتی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا۔اس گُل کی خوشبو صَدیاں گزرنے سے کم نہیں بلکہ تیز سے تیز تَر ہوتی چلی جا رہی ہے اور قِیامت تک ہوتی رہے گی، وہ بے مثال گُل سیّدہ آمِنہ کے پھول، والدِ سیّدۂ بَتُول یعنی ہمارے پیارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں۔یہی وجہ ہےکہ عُلَما و صُلَحا اور مُحَدِّثِین و مُفَسِّرین آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارَک ولادت کے وقت اور مہینے کی عظمت و رِفعت کا خطبہ مختلف انداز میں پڑھتے آئے ہیں جیسا کہ تقریباً 750 سال پہلے کے امام حضرت علاّمہ زَکَرِیّا بن محمد بن محمود قَزْوِینِی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 682ھ) فرماتے ہیں: ھُوَ شَھْرٌ مُّبَارَکٌ فَتَحَ اللہُ فِیْہِ اَبْوَابَ الْخَیْرَاتِ وَاَبْوَابَ السَّعَادَاتِ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ بِوُجُوْدِ سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَالثَّانِی عَشَرَ مِنْہُ مَوْ لِدُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی(ربیع الاوّل) وہ مبارک مہینا ہے جس میں اللہ پاک نے سَیِّدُالْمُرْسَلِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وجودِ مسعود کے صدقے سارے جہان والوں پر بھلائیوں اور سعادتوں کے دروازے کھول دیئے ہیں، اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو رسولُاللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت ہوئی۔(عجائب المخلوقات،ص68)

کیسی شان والی ہے وہ گھڑی جس میں رسولِ خدا، بے سہاروں کے آسرا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تشریف لائے اور اس ساعَت کو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے دُعا کی قبولیت کا وقت بنا دیا جیسا کہ حضرت سیِّدُنا شیخ عبدُالعزیز دَبّاغ رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں:جس مبارک گھڑی میں حضور سیِّدِعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا میں تشریف لائے وہ دُعا کی قبولیت کا وقت ہے۔ اس ساعَت کی مقبولیت کا وَصف قیامت تک رہے گا۔ اُس گھڑی میں رُوئے زمین کے غوث و قُطب اور دیگر اولیائے کِرام غارِ حِرا کے پاس جمع ہوتے ہیں۔ جس کی دُعا اُن (اولیائے کِرام) کی دُعا کے موافِق ہوجائے اللہ پاک اُس کی دعا کو قبول فرماتا اور اس کی ضَرورت پوری کرتا ہے۔ حضرت شیخ عبدُالعزیز دَبّاغ رحمۃ اللہ علیہ اکثر اپنے مُریدوں کو اس مبارَک وقت میں قیام کی ترغیب ارشاد فرمایا کرتے تھے۔(الابریز،ج1 ،ص311ملخصاً)

اسی لئے عاشقانِ رسول اس رات کو عِبادات و نوافل اور ذِکْر و اَذکار میں گزارتے اور صبحِ صادِق کے وقت دُعا کا اہتمام کرتے ہیں۔ وہ مکان بڑی برکتوں کا خَزِینہ ہے کہ جہاں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا میں جلوہ گَر ہوئے، اسی لئے عُلَما و مُحَدِّثِین یہاں حاضری دیتے اور بَرَکات پاتے ہیں جیسا کہ تقریباً 826سال پہلے کے بُزرگ حضرت علّامہ ابوالُحُسین محمدبن احمد جُبیر اُندَلُسی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:614ھ) اس مکانِ اَقدس کا ذِکْر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وہ مقدّس جگہ جہاں ایک ایسی سعادت والی بابرکت گھڑی میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت ہوئی جنہیں اللہکریم نے تمام جہانوں کے لئے رَحْمت بنا دیا، اس بابرکت جگہ پر چاندی چڑھائی گئی (یہ جگہ یوں لگتی ہے) جیسے پانی کا چھوٹا سا حَوض ہو جس کی سَطْح چاندی کی ہو۔ اس مٹّی کی کیا بات ہے جسے اللہ پاک نے سب سے پاکیزہ جسم والے خیرُ الْاَنام صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جائے ولادت ہونے کا شرف بخشا۔ یہ مبارک مکان ربیعُ الاوّل میں پیر کے دن کھولا جاتا ہے کیونکہ ربیعُ الاوّل حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وِلادت کا مہینا اور پیر ولادت کا دن ہے، لوگ اس مکان میں برکتیں لینے کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ مکّۂ مکرّمہ میں یہ دن ہمیشہ سے ”یومِ مَشْہود“ ہے، یعنی اس دن لوگ جمع ہوتے ہیں۔

ایک اور مقام پر آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: خاص وہ جگہ جہاں وِلادتِ مبارَک ہوئی تھی وہ تقریباً تین بالشت کا چھوٹے حوض جیسا چبوترہ ہے اور اس کے درمیان سبز رنگ کا دو تہائی بالشت برابر سنگِ مَر مَر کا ایک ٹکڑا ہے جس پر چاندی چڑھی ہوئی ہے اور اس چاندی سمیت اس کی لمبائی ایک بالشت ہے۔ ہم نے اس مقدّس جگہ سے اپنے چہرے مَس کئے جو زمین پر پیدا ہونے والی سب سے افضل ذات کی ولادت گاہ بنی اور سب سے اشرف اور پاکیزہ نسل والی ذات سے مَس ہوئی اور ہم نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت گاہ سے برکتیں لے کر نفع حاصل کیا۔(تذکرۃ بالاخبار عن اتفاقات الاسفار، ص 87، 127 ملتقطاً)

اس مکان سے برکتیں پانے والے:اس مبارک مکان سے بہت سے لوگوں نے برکت پائی،عاشقانِ رسول یہاں حاضر ہوتے،اس کا ادب واحترام کرتے،ذِکر و اَذکار کرتے، محفلِ میلاد شریف منعقد کرتے،نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فضائل و کمالات بیان کرتے، خُوب صلوٰۃ و سلام پڑھتے اور اللہ کریم کی رحمتوں کا مشاہدہ بھی کرتے تھے، چنانچہ:

(1)چھ سو سال پہلے کے عظیم مُحَدِّث حضرت علّامہ ابنِ ناصرُالدّین دِمَشقی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:842ھ)فرماتے ہیں: جب میں نے 814ھ میں حج کیا تو اس مسجد میں حاضر ہوا اور جائے ولادت کی زیارت کی زُرْتُ هٰذَا الْمَكَانَ الشَّـرِ يْفَ بِحَمْدِ اللہِ تَعَالٰی وَالْمِنَّۃِ وَتَبَرَّكْتُ بِهٖ یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ!میں نے اس مکان شریف کی زیارت کی ہے اور اس سے برکت حاصل کی ہے۔(جامع الآثار،ج2،ص752)

(2)شیخُ الْمُحَدِّثِین حضرت امام عبدُالرّحیم بن حسین عِراقی رحمۃ اللہ علیہ (وفات:806ھ) نقل فرماتے ہیں:خلیفہ ہارونُ الرّشید کی والدہ خَیْزُرَان نے ولادتِ مصطفےٰ والا مکان خرید کر مسجد بنائی،اس سے پہلے جو لوگ اس میں رہتے تھے اُن کا بیان ہے:اللہ پاک کی قسم اس گھر میں ہمیں نہ کوئی مصیبت آئی نہ کسی چیز کی حاجت ہوئی، جب ہم یہاں سے چلے گئے تو ہم پر زمانہ تنگ ہوگیا۔(المورد الھنی،ص248)

شارحِ بُخاری حضرت سیِّدُنا امام احمد بن محمد قَسْطَلانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 923ھ) فرماتے ہیں:ولادتِ باسعادت کے دنوں میں محفلِ میلاد  کرنے کے فوائد میں سے تجرِبہ شدہ فائدہ ہے کہ اس سال امن و امان رہتا ہے۔ اللہ پاک اُس شخص پر رَحمت نازِل فرمائے جس نے ماہِ وِلادَت کی راتوں کوعید بنا لیا۔(مواھب اللدنیہ،ج1،ص78)

(3)حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مُحَدِّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 1176ھ) فرماتے ہیں: میں مکّۂ معظّمہ میں میلاد شریف کے دن رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جائے ولادت پر حاضر تھا، سب لوگ حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرود و سلام پڑھ رہے تھے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت کے وقت جو خلافِ عادت چیزیں ظاہر ہوئیں اور بِعْثَت سے قبل جو واقعات رُونُما ہوئے تھے،ان کا ذِکْرِ خیر کررہے تھےتو میں نے ان اَنوار کو دیکھا جو یکبارگی اس محفل میں ظاہر ہوئے اور میں نہیں کہہ سکتا  کہ یہ انوار میں نے اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھے یا روح کی آنکھوں سے دیکھے! اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ بہرحال جو بھی معاملہ ہوا جب میں نے ان انوار وتجلیات میں غور کیا تو پتا چلا کہ یہ اَنوار ان فرشتوں کی طرف سے ظاہر ہورہے ہیں جو اس طرح کی نورانی اور بابرکت مَحافِل میں شریک ہوتے ہیں اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ ان فرشتوں سے ظاہر ہونے والے انوار، اللہ کی رحمت کے اَنوار سے مل رہے ہیں۔ (فیوض الحرمین، ص 26

امام محمد بن جارُ اﷲ ابنِ ظہیر رحمۃ اللہ علیہ (وفات: 986ھ) اپنی کتاب ” اَلْجَامِعُ الَّلطِیف“ کے صفحہ نمبر 285 پر لکھتے ہیں کہ ہر سال مکّہ شریف میں بارہ(12) ربیعُ الاوّل کی رات کو اہلِ مکّہ کا یہ معمول ہے کہ قاضیِ مکہ جوکہ شافعی ہیں، مغرب کی نماز کے بعد لوگوں کے ایک جَمِّ غَفِیر کے ساتھ مَوْلِد شریف (ولادت گاہ) کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ان لوگوں میں دیگر تینوں مذاہب فقہ کے قاضی،اکثر فقہاء، فضلاء اور اہلِ شہر ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں فانوس اور بڑی بڑی شمعیں ہوتی ہیں۔(الجامع اللطیف، ص285ملخصاً)

مکے میں ان کی جائے ولادت پہ یاخدا 

                       پھر چشمِ اشکبار جمانا نصیب  ہو(وسائلِ بخشش (مُرمّم)،ص90)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ!        صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭…محمد عدنان چشتی عطاری مدنی

٭…رکن مجلس المدینۃ العلمیہ کراچی 

Share

Articles

Comments


Security Code